کشمیر کا دوسرا رُخ۔۔۔۔

ایم ودود ساجد

آج کافی دنوں کے بعدنیشنل میڈیا سینٹر جانا ہوا۔ پریس انفارمیشن بیورو آف انڈیا (پی آئی بی) کا دفتر اسی بلڈنگ میں منتقل کردیا گیا ہے۔پہلے پی آئی بی کا دفترمختلف مرکزی وزارتوں کی بلڈنگ ‘شاستری بھون میں ہواکرتا تھا۔۔۔ آج اتفاق سے بزرگ صحافی شیخ منظوراحمد Sheikh Manzoor Ahmed سے ملاقات ہوگئی۔

شیخ صاحب کا تعلق وادیِ کشمیرسے ہے لیکن وہ کم وبیش چار دہائیوں سے دہلی میں مقیم ہیں۔وہ ایک عرصہ تک خبر رساں ایجنسی یو این آئی کی انگریزی سروس سے وابستہ رہے۔ بعد میں وہ یو این آئی کی اردو سروس کے چیف ہوگئے۔۔۔بہت نیک‘صاف ستھرے اور حیادار وحلیم الطبع انسان ہیں۔حکومت کسی کی بھی ہو وہ نہ کسی سے مرعوب ہوتے ہیں اور نہ کسی کے آگے کاسہ لیسی کرتے ہیں۔اپنی صحافتی زندگی میں انہوں نے درجنوں ممالک کا دورہ کیا ہے۔اس وقت وہ عالمی اردو سروس AUS کے چیف ایڈیٹر ہیں۔آج ان سے کچھ گفتگو ہوئی۔انہوں نے بہت سی باتیں بتائیں۔کچھ باتیں ایسی ہیں کہ جن کو بلاتبصرہ اپنے احباب سے Share کرنا مناسب ہوگا۔

شیخ صاحب نے بتایا کہ یوپی‘بہار‘پنجاب اور اڑیسہ سے بڑی تعداد میں لوگ کشمیرمیں کام کرنے جاتے ہیں۔ان میں پلمبر‘پینٹر‘کارپینٹر’ الیکٹریشین اور اسی قبیل کے کام کرنے والوں کی بھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔جس مزدور کو دوسرے مقامات پر 200 روپیہ یومیہ ملتے ہیں اسے کشمیر میں 600 روپیہ تک مل جاتے ہیں۔وہاں تعمیراتی کام شباب پر ہے۔ہنر مند مزدوروں کو 800 روپیہ تک مل جاتے ہیں۔صرف بہارسے ہی ہر سال ساڑھے تین لاکھ لوگ کام کرنے کے لئے وہاں جاتے ہیں۔۔۔خاص طورپرکشن گنج‘پورنیہ اور مظفر پور کے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ان میں ایک لاکھ کے قریب غیرمسلم بھی ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مزدوروں کے ساتھ کشمیری مالکان غیر معمولی حسنِ سلوک کرتے ہیں۔یہاں تک کہ بعض لوگ تو یہ کہہ کر دونوں وقت کا کھانا بھی دیتے ہیں کہ یہ (مزدور) بہت دور سے آئے ہیں ۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں غیر مسلم مزدور بے خوف ہوکر روزی کماتے ہیں اور کوئی انہیں کچھ نہیں کہتا لیکن یوپی’ اتراکھنڈ’ بہار’ راجستھان اور مہاراشٹر میں کشمیری اسٹوڈینٹس کو گھیرا جارہا ہے’ کہیں ان کی پٹائی ہورہی ہے اور کہیں انہیں بھگایا جارہا ہے۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ جموں اور پنجاب سے بھی ایک لاکھ کے قریب سِکھ شہری روزگار کے لئے وادی میں آتے ہیں ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ جب پلوامہ کے بعد جموں میں مسلمانوں پر حملے ہوئے تو سکھوں نے ان کا ساتھ دیا اور ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا۔۔۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے سال جموں وکشمیر پولس کے چالیس سے زیادہ جوان ہلاک ہوگئے۔لیکن ان کی موت پر کسی نے ماتم نہیں کیا۔اسی طرح ایک 22 سالہ مسلم آرمی افسر کو اغوا کرکے قتل کردیا گیا۔لیکن کوئی ماتم نہیں ہوا۔۔۔ کیا اس لئے کہ یہ سب مسلمان تھے۔۔۔؟

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading