گلبرگہ میں آٹھ سالہ معصوم زکریٰ کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل

گلبرگہ: ضلع کے چنچولی تعلقہ کے یکاپور گاؤں میں پیر کے روز ایک آٹھ سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا ہے۔ متاثرہ طالب علم دوسرے درجے میں تعلیم حاصل کررہی تھی.

وہ لڑکی جو باقاعدگی سے اسکول جاتی تھی پیر کے روز غیر حاضر رہی۔ گاؤں والوں نے سہ پہر کو اسی گاؤں کے یلپا کے ساتھ لڑکی کو گھومتے دیکھا تھا۔

جب وہ اسکول سے گھر نہیں لوٹی تو والدین نے اس کی تلاش شروع کردی۔ اسی دوران ، انہیں پتہ چل گیا کہ وہ یلپا کے ساتھ ہے۔ جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ بچی سے واقف نہیں ہے۔

مشکوک والدین نے سلیپٹ پولیس کو اطلاع دی۔ دیہاتیوں نے یلپا کو پولیس کے حوالے کیا۔

رات کے وقت جب دیہاتیوں نے مشعل کی مدد سے بچی کی تلاش کی تو انہوں نے اس لاش کو گاؤں کے آنگن واڑی مرکز کے پیچھے واقع ملمری آبپاشی منصوبے کی نہر میں دیکھا۔ملزمان کے اندرونی لباس اس جگہ سے برآمد ہوئے ہیں جہاں سے خون بہنے کے بھی نشانات پائے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ انہیں شبہ ہے کہ بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے

3 thoughts on “گلبرگہ میں آٹھ سالہ معصوم زکریٰ کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل”

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎۔
    مذکورہ بالا سانحہ انتہاٸ درجہ کی درندگی ھے اور جتنی سخت سزا ملزمین کو دی جاۓ کم ھے۔۔۔ جسکے لۓ حکومتوں کو چاھۓ کہ وہ فوراً اس کے لۓ قانون بنانے کی تیاری کرے۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ان کے ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں کو صبرِ جمیل عطا فرماۓ اور دنیا اور آخرت میں اس بچی کا نعم البدل عطا فرماۓ۔۔۔ آمین۔
    یہاں ایک بات کہنا ضروری سمجھتے ھوۓ امت مسلمہ کے تمام بھاٸیوں اور بہنوں سے گزارش ھےکہ ھم سب تھوڑی دیر کیلۓ سنجیدگی سے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر تصور کرتے ھوۓ سوچیں اور سمجھیں کہ اس قسم کے واقعات(جو یقیناً اعلیٰ درجہ کی حیوانیت ھے اور انکی جتنی مزمت کی جاۓ کم ھے) کی بہت ساری وجوھات میں سے ایک وجہ جس سے انکار ھرگز ھرگز نہیں کیا جا سکتا ، یہ بھی ھیکہ آج خود ھمارے مسلمان عورتیں اپنے آپ کو بے پردہ کرکے مزید طرح طرح بن سنور کر باہر گھومتی ھیں اور مزید یہ کہ (مجبوراً لکھ رھا ھوں) ھمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اور عورتیں بھی ایسے لباس پہنتے ھیں کہ باوجود لباس کے اگر ان کو ننگاہ پن کہا جاۓ تو بےجا نہ ھوگا۔۔۔ کہ جس سے جسم کی ھٸیت اور ساخت صاف نظر آتی ھے۔۔۔۔ ایسے لباس پہنے والوں پر جنابِ رسول اللہ ﷺ نے احادیث میں لعنت فرماٸ ھے۔۔۔ اور ایسا لباس پہنانے والے والدین بھی اس بے حیاٸ اور بے شرمی کے گناہ میں برابر کے شریک ھیں۔۔۔
    اسلام نے عورتوں کو اسی لۓ پردے کا حکم دیا ھے جس میں تمام عورتوں کی مکمل حفاظت ھے۔۔۔ لیکن آج اسلام دشمنوں کی طرح مسلمان بھی اس پردہ کے حکم کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بتلارھے ھیں ، حالانکہ یہ خیال سراسر غلط اور جہالت ھے۔۔۔ آج الحَمْدُ ِلله لاکھوں عورتیں جنکے دل میں اللہ کا خوف ھے ، اسلام کی محبت دلوں میں رچی اور بسی ھوٸ ھے ، پوری دنیا میں اس پردے کے اھتمام کیساتھ ترقی کررھ ھیں۔۔۔
    اللہ پاک ھم سبکو اور پوری امت مسلمہ کو خصوصاً اور بقیہ امت کو عموماً ھدایت کی دولت نصیب فرماۓ۔آمین۔
    آخر میں دل کی گھراٸوں کے ساتھ اس بچی کے غم میں بچی کے والدین و دیگر رشتہ داروں کے ساتھ شریک ھوتے ھوۓ اس بچی کے حق میں دعا گو ھوں کہ اللہ پاک اس بچی ( چونکہ آٹھ سالہ ھونے کی وجہ سے ھو سکتا ھے نابالغ ھو ) کو اعلیٰ علییّن میں جگہ عطا فرماۓ اور انکے والدین کیلۓ ذخیرہ ٕ آخرت بناۓ۔آمین۔
    دکھلاوے کے لۓ نہیں بلکہ تعزیت اور ترغیب کی نیت سے عرض ھے کہ ان شاء اللہ کل میرا ختم قرآن ھے ۔
    ان شاء اللہ اس کو اس بچی کے لۓ ایصال ثواب کرونگا۔

    جواب دیں

Leave a Reply to گمنامCancel reply

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading