چھتیس گڑھ: وزیر اعلی کی ڈپٹی سکریٹری کے ٹھکانوں پر انکم ٹیکس کے چھاپے، کانگریس برہم

رائے پور: چھتیس گڑھ میں محکمہ انکم ٹیکس کی دہلی سے آئی خصوصی ٹیم نے تقریباً 30 گھنٹے تک وزیر اعلی کی ڈپٹی سکریٹری سومیا چورسیا کا انتظار کرنے کے بعد ان کی رہائش کی ویڈیوگرافی کر کے گزشتہ روز اسے سیل کر دیا۔ کانگریس کی طرف سے اس چھاپہ ماری پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ پارٹی اعلی قیادت نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت دباؤ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

محکمہ انکم ٹیکس کی ٹیم نے جمعرات سے ریاست میں برسرِ اقتدار کانگریس کے لیڈر اور رائے پور کے میئر اعجاز ڈھبر، سابق چیف سکریٹری اور ریرا کے چیرمین وویک ڈانڈ اینڈ انڈسٹری شعبہ کے منتظم آئی اے ایس افسر انل ٹوٹیجا، محکمہ آبکاری کے اسپیشل افسر ارون ترپاٹھی کے ٹھکانوں پر کارروائی شروع کی تھی۔ بعد میں اس کا دائرہ بڑھاتے ہوئے وزیر اعلی کی ڈپٹی سکریٹری سومیا چورسیا اور ان کے اسپیشل افسر ارون مركام کے گھر پر چھاپے مارنے کی کارروائی شروع کی۔

کانگریس پارٹی کے چھتیس گڑھ کے انتخابی انچارج پی ایل پنیا اور قومی ترجمان رندیپ سرجے والا نے دہلی میں پریس کانفرنس کرکے مودی حکومت کو سخت نشانہ بنایا۔ پی ایل پنیا نے کہا کہ چھتیس گڑھ انتخابات میں شکست کے سبب مودی حکومت گھبرا رہی ہے۔ پی ایل پنیا نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی حکومت کے دوران، سول سپلائی کارپوریشن، چٹ فنڈ گھوٹالہ، اگسٹا ویسٹ لینڈ گھوٹالہ میں 36 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مرکز میں مودی حکومت نے ان گھوٹالوں کی تحقیقات نہیں کروائیں۔

قبل ازیں، انکم ٹیکس کی ٹیم پانچ گاڑیوں میں بھلائی کے سوریا ریزیڈنسی میں واقع ریاستی سول سروس کی افسر سومیا چورسیا کی رہائش گاہ پر کل پہنچی، اور دروازے نہیں کھلنے پر اس کا تالا توڑا کر حاطے میں داخل هوئی۔ اس کا دروازہ نہیں کھلنے پر انکم ٹیکس افسر احاطے میں ہی بستر لگا کر سو گے۔

اس دوران چورسیا نہ تو پہنچیں اور نہ ہی رہائش کا دروازہ کھلا۔ تھک ہار کر انکم ٹیکس ٹیم نے پورے گھر کی ویڈیوگرافی کی اور اس کے تقریباً دو درجن مقامات سیل کر کے انکم ٹیکس کا نوٹس چسپاں کر ديا۔ حکام کو خدشہ ہے کہ رہائش گاہ میں کوئی نہ کوئی موجود ہے۔ محکمہ آبکاری کے اسپیشل افسر اروپت ترپاٹھی کے گھر سنیچر کو بھی انکم ٹیکس ٹیم چھاپے مارنے کی کارروائی کو جاری رکھے ہوئے تهے، بھارت سنچار نگم (بی ایس این ایل) کے افسر ترپاٹھی ڈیپوٹیشن پر ریاستی حکومت میں تعینات ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading