سابق وزیر خزانہ اور داخلہ پی چدمبرم کی ضمانت نامنظور کرنے والے دہلی ہائی کورٹ کے جج سنیل گوڑ کو پی ایم ایل اے اپیلاٹ ٹریبیونل کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ 22 اگست کو ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔
#NewsAlert – Judge Sunil Gaur of the Delhi High Court who rejected P Chidambaram’s bail has been appointed as the chairperson of the PMLA Appellate Tribunal. | Input: @utkarsh_aanand. pic.twitter.com/cWacuPO4Xv
— News18 (@CNNnews18) August 28, 2019
سنیل گوڑ کی ہائی کورٹ کے جج کے طور پر اپریل 2008 میں ترقی ہوئی تھی، جبکہ 11 اپریل 2002 کو ان کو مستقل تقرری حاصل ہوئی۔ اپنی مدت کار کے دوران سنیل گوڑ نے کئی اہم اور ہائی پروفائل مقدمات کی سماعت کی۔
جج سنیل گوڑ نے گوشت کاروباری معین قریشی سے متعلق غیر قانونی لین دین (منی لانڈرنگ) کے معاملہ سمیت متعدد بدعنوانی کے معملات کی بھی سماعت کی تھی۔
ادھر، آئی این ایکس میڈیا معاملہ میں چدمبرم کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے 62 سالہ جج نے گزشتہ 20 اگست کو اہم سازشی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد چدمبرم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس کے بعد چدمبرم کی طرف سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
چدمبرم کی عبوری ضمانت نامنظور کرنے والے جج سنیل گوڑ کو پی ایم ایل اے چیئرمین بنائے جانے پر کئی طرح کے رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ کانگریس کے رہنما رندیپ سرجے والا نے اس معاملہ پر ٹوئٹ کر کے طنز کیا۔ انہوں نے ٹوئٹ میں لکھا، ’’یہ ہے نئے بھارت میں انصاف کی صورت حال!‘‘
A telling story on state of justice in ‘New India’!
ये है ‘नए भारत’ में न्याय की दशा और दिशा! https://t.co/G53diNKcUd
— Randeep Singh Surjewala (@rssurjewala) August 28, 2019
اسی معاملہ پر معروف صحافی راج دیپ سردیسائی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’تو دہلی کے گلیاروں میں چل رہی چہ میگوئیاں سچ تھیں۔ تین روز قبل پی چدمبرم کی گرفتاری پر حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کرنے والے جج سنیل گوڑ کو پی ایم ایل اے چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ہے اصل کہانی قسمت کی۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہنا!‘‘
So buzz in Delhi’s power corridors was true. Judge Sunil Gaur, who 3 days before retiring gave Chidambaram order on anticipatory bail paving way for his arrest, is appointed chairperson of PMLA tribunal. Yeh hai ‘Asli’ Kahani kismet ki! Won’t say more! https://t.co/toJddEGv24
— Rajdeep Sardesai (@sardesairajdeep) August 28, 2019
کانگریس کی رہنما شمع محمود نے لکھا، ’’گزشتہ سال آلوک ورما کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے جسٹس سیکری کو ملائی دار عہدہ دیا گیا تھا۔ کیا بی جے پی کے دور میں عدلیہ برائے فروخت ہے؟‘‘
Judge Sunil Gaur, who rejected P #chidambaram ‘s bail, appointed as the chairperson of the PMLA Appellate Tribunal.
Last year, Justice Sikri, whose vote decided Alok Verma’s fate, was given a plum posting.
Is the Judiciary for sale under the #BJP govt? https://t.co/A6EHcA97I9
— Shama Mohamed (@drshamamohd) August 28, 2019
Which is the only job in the world in which you get highest marks if you copy-paste the answer sheet provided to you?
Judgeship
BTW Heartfelt congratulations to Justice Sunil Gaur for his appointment as Chairman, Appelate PMLA within a week of his retirement.— Brijesh Kalappa (@brijeshkalappa) August 27, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
