ممبئی میونسپل الیکشن: ونچت اگھاڑی کیساتھ مسلم۔لیگ اور آرجے ڈی کا انتخابی سمجھوتہ
ممبئی،13دسمبر()ممبنی میں آئندہ سال ہونے والےمیونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے لیے انڈین یونین مسلم لیگ اور راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ ونچت بہوجن آگهاڑی اور وی بی اے کی حلیف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کیا ہے ۔آج یہاں دادر امبیڈکر بھون میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آگهاڑی کے سربراہ ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے اعلان کرتے ہوئے ،یہ بھی اعلان کیا کہ گستاخ رسول کے سلسلہ میں پیغمبر بل کے تعلق سے ان کا موقف واضح ہے اور حمایت اور مخالفت زندگی کا حصہ ہے۔اس لیے ونچت بہوجن آگھاڑی اس ضمن میں سرگرم رہیگی۔
پرکاش امبیڈکر نے محاذ میں دیگر سیاسی پارٹیوں کو مدعو کرتے ہوئے کہاکہ وہ آئندہ 15جنوری تک اپنے موقف سے مطلع کردیں،کیونکہ عین وقت پر انتخابی حلقوں کے مقرر کرنے اور ٹیٹ کی تقسیم میں دشواری پیش آتی ہے۔اور مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے میں دشواری آتی ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ونچت بہوجن آگهاڑی نے بی ایم سی الیکشن کے مدنظر انڈین یونین مسلم لیگ کے رہنماؤں سے بات چیت کی اور پھر اسی طرح راشٹریہ جنتا دل کے لیڈروں سے بھی باہمی گفتگو ہوئی اوراس کے بعد انتخابی سمجھوتہ تکمیل کو پہنچاہے۔
اس درمیان کافی گفت وشنیدہوئی اور طے پایا کہ تینوں جماعتیں اکٹھی ہو کرمستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں۔
پرکاش امبیڈکرنے کہاکہ چنددیگر تنظیموں کے ساتھ تبادلہ خیال جاری ہے جو اس محاذ میں شامل ہونا چاہتی ہیں اور ممکن ہے کہ کچھ اور تنظیمیں مستقبل قریب میں اس میں شامل ہوں۔ انہوں نے مزید کہاکہ نشستوں کی آپسی تقسیم میں شامل ہونےکا اعلان وسط جنوری میں کیا جائے گا ۔واضح رہے کہ ان مذاکرات میں ونچت بہوجن آگهاڑی کی مہاراشٹرکی صدر ریکھا ٹھاکر کی رہنمائی میں سینئر نائب صدر ڈاکٹر ارون ساونت ، مہندر روکڑے ، ونچت بہوجن آگهاڑی کے ممبنی صدر ابوالحسن خان ، عبدالباری خان اور پروفیسر ماپاری نے گفت و شنید کی اور مذاکرات کو کامیاب بنایاہے۔
پرکاش امبیڈکر نے نامی نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات،اوبی سی ریزرویشن پر عدالت عظمی کے موقف اور اقلیتوں اور خصوصی طور پر مسلمانوں کے حالات اور سیاسی ومعاشی حالات پر روشنی ڈالی اور کہاکہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے نتائج 2024 کے عام انتخابات کا عکس پیش کریں گے۔اگر اپوزیشن نے اپنا لائحہ عمل تیار نہیں اور جامع منصوبہ بندی نہیں کی تو سیاسی طور پر خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ملک میں فرقہ پرستی کو بڑھایا جارہا ہے اور یہ سب سیاسی مقاصد کے لیے کیا جارہا ہے،ووٹ بینک کی سیاست کا الزام لگانے والے اسی راہ پرگامزن ہیں۔
ممبئی میں بڑھتی ہوئی آبادی اوربغیرمنصوبہ بندی سے ہونے والے ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی کا سب سے بڑا مسئلہ دوران مانسون سیلابی صورتحال ہے،لیکن اس مسئلہ کو حل۔کرنے کے بجائے دیگر کم اہمیت کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔جھوپڑابستیوں میں ایس آراے اسکیم بری طرح سے بدعنوانی کا شکار ہے اور مکین سخت دشواری کا سامنا کررہے ہیں ،لیکن بلڈرلابی اور سیاسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے مسائل روزبروز سراٹھارہے ہیں۔جزیرہ نما ممبئی اور مضا فاتی علاقے کے مسائل پر بی ایم سی اور حکومت کے الگ الگ موقف اور اسکیموں پر انہوں نے تفصیل پیش کرتے ہوئے کہاکہ مضافات میں آبادی تیزی سے بڑھی ہے،اس لیے بیسٹ بسوں میں اضافہ کی سخت ضرورت ہے، جبکہ بجلی سپلائی کے لیے الگ الگ پالیسی نافذ کی گئی ہے ،جس کی وجہ سے مضافات کے شہری نجی کمپنیوں کو زیادہ نرح اداکررہے ہیں۔جوکہ ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اس سلسلہ حکومت اور بی ایم سی کو پالیسی مرتب کرنی ہوگی۔
مذکورہ پریس کانفرنس میں ونچت بہوجن آگهاڑی کے ممبنی صدر ابوالحسن خان ، عبدالباری خان اور پروفیسر ماپاری، مسلم لیگ مہاراشٹرکے صدراسلم۔خان۔ملا،جنرلا سکریٹری عبدالرحمن سی ایچ،خازن ابراھیم کٹی سی ایچ ،عمران علی قریشی،نائب صدر عبدالرحمن اعظمی،سلیم جسمانی اور جے آرڈی کے مہاراشٹرکے صدر وجے کنارے اور دیگر عہدیدار بھی موجود رہے۔