لگتا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی زندگی میں چین نہیں لکھا گیا ہے ! ایک معاملہ ابھی حل بھی نہیں ہوتا کہ دوسرا معاملہ سر اٹھا لیتا ہے ۔ اب یہی دیکھ لیں کہ کوروناکے ابھی کچھ دنوں پہلے ہی ’ بھاگ جانے ‘ کا اعلان ہوا تھا ، لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ کورونا واپس لوٹ آیا ہے، واللہ اعلم۔ اب چاہے واپسی کی یہ خبر راہل گاندھی کی ’ بھارت جوڑو یاترا ‘ کو متاثر کرنے کے لیے اڑائی گئی ہو ، اور اس میں کوئی سچائی نہ ہو ، یا ممکن ہے کہ واقعی کورونا پلٹ پڑا ہو ، کسی نئی شکل میں ۔ ایک طرح کا شک و شبہہ تو پیدا ہی ہو گیا ہے ۔
جب سے یہ اعلان ہوا ہے کہ احتیاطاً لوگ ماسک لگائیں ، اور جب سے لوگوں نے یہ سنا ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں کو آکسیجن سلینڈروں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے ، لوگ ہیں کہ ایک دوسرے سے یہ دریافت کرتے پھر رہے ہیں کہ کیا واقعی کورونا واپس پلٹ آیا ہے ، اور کیا پھر سے ’ لاک ڈاؤن ‘ لگے گا؟ جس سے یہ سوال کیا جاتا ہے وہ بھی یہی سوال پوچھ بیٹھتا ہے ۔ لوگوں کو تشویش یہ ہے کہ اگر ’ لاک ڈاؤن ‘ پھر سے لگا تو ان کا اور ان کے بال بچوں کا کیا ہوگا؟ بڑی مشکل سے زندگی پڑی پر آ رہی تھی ، کہ پھر تاریک مستقبل منھ پھاڑے سامنے آ کھڑا ہوا ہے ۔ بہت سے لوگوں نے تو ابھی سے رختِ سفر باندھ لیا ہے ، ٹرینوں میں جگہ کم پڑنے لگی ہے ۔ پہلے کے ’ لاک ڈاؤن ‘ میں لوگوں نے جو کچھ سہا ہے ، وہ سہنے کی اب ان میں طاقت نہیں بچی ہے ۔ اب کئی سو کلومیٹر کا پیدل سفر ان کے لیے آسان نہیں ہوگا ۔
لوگ دعا کر رہے ہیں کہ کورونا کے پلٹ آنے کی خبر سچ نہ ہو اور پھر سے ’ لاک ڈاؤن ‘ نہ لگے ۔ لیکن جس ملک کے راجہ کی نیت میں کھوٹ ہو ، اس ملک کی پرجا کی ، وہ بھی ایسی پرجا کی ، جو تمام مصیبتوں کو بھول کر پھر راجہ کے گن گان کرنے لگتی ہے ، دعائیں شاید ہی قبول ہوں ۔ کورونا کی مصیبت کے ساتھ ’ فرقہ وارانہ ‘ مصیبت بھی منھ کھولے کھڑی ہوئی ہے ۔ خبرہے کہ متھرا کی عدالت نے شاہی مسجد کا ، اسی طرح سروے کرانے کا حکم دیا ہے ، جس طرح وارانسی کی گیان واپی مسجد کےسروے کا حکم دیا تھا ۔ ظاہر ہے کہ عدالت کے اس حکم کے بعد وہ ’ دراڑ ‘ جو پہلے ہی وسیع تھی مزید وسیع ہوگی اور متھرا ہی نہیں دوسرے علاقوں میں بھی کشیدگی پھیلے گی ، اور مسلمان تو خاص نشانے پر ہوں گے ۔
کیا عدالتیں اس طرح کے معاملات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر تنازعے کو ہوا دینے سے نہیں بچ سکتیں ؟ ایسے مقدمات سرے سے سنے ہی نہ جائیں تاکہ ملک میں امن و امان رہے اور ملک کے رہنے والے کشیدگی کی زد میں آنے سے محفوظ رہیں ۔ لیکن پھر یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ جس ملک کا راجہ انصاف کے تقاضوں کو نظرانداز کرتا ہوگا اس ملک کی عدالتیں کیسے انصاف کے ترازو کے پلڑوں کو یکساں رکھ سکیں گی ۔