نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشت گردانہ حملہ میں 50 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے افراد زخمی ہوگئے۔
وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حملے کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا اور بتایا کہ 10 افراد لین ووڈ مسجد جبکہ 30 افراد ہیگلے پارک کے نزدیک ڈینز ایو کی مسجد میں جاں بحق ہوئے۔

پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کر کے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی—فوٹو: اے پی
انہوں نے ہلاکتوں اور 4 گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں کی گاڑیوں میں 2 بم بھی منسلک تھے جنہیں ناکارہ بنادیا گیا۔
JUST IN: New Zealand Prime Minister Jacinda Ardern says 40 people have lost their lives; more than 20 people seriously injured in mosque shooting pic.twitter.com/BAglWLy44k
— Reuters Top News (@Reuters) March 15, 2019
دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد میں ایک آسٹریلوی شہری بھی شامل ہے جو انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھتا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دوپہر میں نماز جمعہ کے وقت پیش آیا۔
پولیس حکام کے مطابق 4 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جن میں 3 مرد اور ایک خاتون شامل ہے، حملے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کردیا۔

زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا—فوٹو:اے پی
فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقہ اپنے گھیرے میں لے لیا اور مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اس کے علاوہ خطرے کے پیشِ نظر نماز کی ادائیگی کے لیے لوگوں کو مساجد نہ جانے کا بھی کہا گیا، اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ہم اپنے بھرپور صلاحیت کے ساتھ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔