ناندیڑ:8 سالہ بچی کیساتھ غیر فطری جنسی تشددکے معاملے میںملزم کو 7 سال قید

ناندیڑ:یکماپریل(ورق تازہ نیوز) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج رویندر پانڈے نے ایک 8 سالہ لڑکی کے ساتھ غیر فطری جنسی تشدد کے معاملے میں 16سال چار ماہ کے ملزم کو 7 سال کی سخت مشقت اور 5,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔ پولس اسٹیشن لمبگاو¿ں علاقے میں ایک ماں کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، اس کی 8 سالہ بیٹی 26 نومبر 2016 کو دوپہر 2 بجے کے قریب اسکول سے گھر آئی جب وہ اور اس کے شوہر کھیتی باڑی کے لیے باہر گئے تھے۔ کرشنا چندوجی سوریاونشی (عمر 16 سال6 ماہ)انکی بیٹی کو اٹھا کر اپنے گھر لے گیا جب وہ آس پاس کے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔

اسکے بعد لڑکی کے ساتھ غیر فطری طور پر جنسی زیادتی کی۔جب ماں گھر پہنچی تو لڑکی خون میں لت پت تھی ۔وجہ پوچھنے پر لڑکی نے بتایا کہ اسے زخم آئے ہیں۔ 27 نومبر 2016 کو کرشنا چندوجی سوریاونشی کے خلاف لمبگاو¿ں پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 377,، 376 (2) (1) اور پوکسو ایکٹ کی دفعہ 4 اور 8 کے تحت شکایت درج کی گئی۔اس وقت کے اسسٹنٹ انسپکٹر پنڈت راو¿ جی کچوے صاحب، جنہیں کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے، نے اس کیس کی تحقیقات کی اور کرشنا چندوجی سوریاونشی کے خلاف جیووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے چارج شیٹ داخل کی۔ اس جرم کو قانون میں نئی ترمیم کے بعد کمیٹی کے مطالعے کے بعد باقاعدہ عدالت میں بھیج دیا گیا۔ کیس میں کل 11 گواہوں نے بیان دیا۔

دستیاب شواہد کی بنیاد پر جج رویندر پانڈے نے کرشنا چندوجی سوریاونشی کو 8 سالہ بچی کے ساتھ غیر فطری جنسی عمل کا مجرم قرار دیا۔ اس کے بعد کرشنا سوریاونشی کو 7 سال کی سخت مشقت اور روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی،پوکسوایکٹ کے تحت بھی تین سال کی سخت بامشقت اور 1000 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ اس معاملے میں سرکاری وکیل کی حیثیت سے ایڈوکیٹ ایم ایم اے بتولہ (ڈانگے) نے پیروی کی ۔ لمب گاوں پولس اسٹیشن پولیس عملدارنروتی امبینواڈ نے اس کیس میں پروبیشن آفیسر کے طور پر سخت محنت کی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں