ناندیڑ:4 اکتوبر (ورق تازہ نیوز)مہاراشٹرکے سابق وزیر تعلیم کمل کشور کدم صاحب نے زور دے کر کہا کہ کالج کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے طلباء کو علم کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت سے بھی آگاہ ہونا چاہئے، اور ثقافت کے تحفظ میں اہم رول ادا کرنا چاہئے۔ وہ وسنت راو¿ کالے سینئر کالج، دیگلور ناکہ، ناندیڑ کے جلسہ تقسیم اسناد میں بطور صدر خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے سابق وزیر جے پرکاش ڈنڈے گاونکر، راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فوزیہ خان، مفتی سعد عبداللہ ندوی، بھگوان راو پاٹل آلیگاو¿ںکر، پروفیسر ڈی۔ بی جمبرونکر، یشونت کامبلے موجود تھے۔
جبکہ شہ نشین پر بانو ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے بانی صدر پروفیسر مظہر الدین ، سیکرٹری ارجمند بانو یاسمین، پرنسپل ڈاکٹر عثمان غنی موجود تھے۔ پروگرام کے آغاز میں نورجہاں محمد شاکر اللہ نے تلاوت کلام پاک اور نعت کے ذریعے خدا کی حمد و ثنا کی۔
اپنے خطاب میں کمل کشور کدم نے کہا کہ طلباءکو جدید ٹیکنالوجی سیکھ کر زندگی میں کامیاب ہونا چاہیے۔ مفتی مولانا سعد عبداللہ ندوی نے مسلم لٹریچر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح تعلیم انسانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ ایم پی فوزیہ خان نے طلباءکی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ علم ایک ایسا تحفہ ہے جسے کوئی آپ سے نہیں چھین سکتا۔ ملک کا روشن مستقبل بنانے کی ذمہ داری طالب علم پر عائد ہوتی ہے۔
اس لیے طلباءکو چاہیے کہ وہ کتابوں سے دوستی کریں تاکہ روزگار کے قابل ہنر اور ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکے۔ کتابوں سے دوستی کرنے والا یقینی طور پر زندگی میں کامیاب ہوتا ہے۔ پرنسپل ڈاکٹر عثمان غنی نے تعارفی کلمات کہے۔ نظامت ڈاکٹر سمیتا کونڈیوار اور ڈاکٹر رافع نے کی۔اظہار شکریہ پروفیسر محمد اسماعیل نے کیا۔ پروگراموں میں طلبہ کو ادارہ کے سرپرست ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین مرحوم کی زندگی کے بارے میں متاثر کن ویڈیوز دکھا کرانھیں واقف کروایاگیا۔
پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے پروفیسر خان ندیم پرویز، پروفیسر پشپا کشر ساگر، پروفیسر ماروتی بھوسلے، پروفیسر محمد رضوان، پروفیسر باباصاحب بھوکاترے، پروفیسر عبدالاحد، پروفیسر نظام، پروفیسر نذیر شیخ، پروفیسر سید سلمان، پروفیسر فراز، پروفیسر عاطف الدین، پروفیسر دانش، پروفیسر فرزانہ بیگم، پروفیسر حنا، پروفیسر صنوبر، پروفیسر ثمینہ خان، پروفیسر نوری بیگم، پروفیسر ابتسام، پروفیسر بھنڈوالکر، پروفیسر شبنم خان، پروفیسر تہرین، محترمہ مظفرالدین پربھاوتی نوساگارے، سریکھا کومتوار، محمد محسن، اکشے ہیسواڑ‘غوث خان، محمدی بیگم نے سخت محنت کی۔ پروگرام کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔