ایک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے! تحریک تعلیم کے کارکن اقبال حسین صدیقی کاانتقال

ناندیڑ:28اگست ۔(ورق تازہ نیوز)ناندیڑ کے معروف تعلیمی ادارہ مدینتہ العلوم ہائی اسکول کے ریاضی کے ماہر ‘ محنتی ‘دیانتدار ‘بہ اخلاق ‘ کم سخن معلم محمد اقبال حسین صدیقی کا آج دوپہر ڈھائی بجے اورنگ آباد کے سگما اسپتال میں مرض نمونیا کے باعث انتقال ہوگیا ۔انا اللہ و انا الیہ راجعون ۔

47 سالہ اقبال حسین صدیقی ایک عرصہ سے گردے کے عارضہ میں مبتلا تھے اورسال گزشتہ ان کے دونوں گردے تبدیل کئے گئے تھے جس کے بعد وہ صحت مند ہوگئے تھے ۔لیکن ڈاکٹروں کاکہناہے کہ گردے کی تبدیلی کے بعد اگر مریض کونمونیا ہوجاتا ہے تو علاج مشکل ہوجاتا ہے گزشتہ پانچ دن سے علاج جاری تھا۔ ڈاکٹروں نے ہر ممکن کوشیش کی لیکن وہ جانبرنہ ہوسکے ۔ مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ ‘ دو لڑکیاں ‘اور ایک فرزند ہے ۔ ایک لڑکی بدناپور(ضلع جالنہ) کے میڈیکل اسپتال میں ایم بی بی ایس کے تیسرے سال میں زیرتعلیم ہے ۔ایک لڑکی دسویں میں پڑھ رہی ہے اورایک فرزند ارسلان حسین صدیقی اورنگ آباد میں یونین پبلک سروس کمیشن(یوپی ایس سی) کے امتحان کی تیاری کررہے ہیں ۔

یہاں اس بات کا ذکرضروری ہے کہ اقبال حسین صدیقی جماعت اسلامی کے سابقہ کارکن مرحوم مولوی نصرت حسین صدیقی کے فرزند ارجمند ‘ مرحوم نوراللہ خاں( سابقہ ایم ایل اے ) ‘ محمد ظفر اللہ خاں(سعودی عربیہ)‘ محمد سیف اللہ ‘ محمدنصرت اللہ خاں کے حقیقی بھانجے تھے ۔ مولوی نصرت اللہ خاں(مرحوم) کی شخصیت ‘ملّی دینی اورسماجی خدمات کا ذکر کرنا ضروی ہے کہ انھوں نے اپنی تمام زندگی ملّی دینی اور جماعت اسلامی ہند کے لٹریچر کی تبلیغ و اشاعت میں صرف کردی تھی۔ وہ روزانہ اپنی بائی سائیکل پر ”دعوت“ جماعت ہند کے ترجمان اخبار کی کاپیاں سارے ناندیڑ شہر میں گھوم پھرکرتقسیم کیاکرتے تھے ۔آمدنی انتہائی قلیل ہوا کرتی تھی لیکن انھوں نے اسی حلال روزی سے اپنے بال بچوں کی دینی انداز میں تربیت کی انھیں پالا پوسا۔

حتیٰ کہ 1977 میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنے مخالفین کی آواز کوخاموش کرنے کے لئے ملک میں بے رحم ایمرجنسی نافذ کردی تھی تو جماعت اسلامی ہند کے قائدین اور کارکنان کی گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں جن میں ناندیڑ کے کارکنان میں مولوی نصرت حسین صدیقی بھی شامل تھے ۔انھوں نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے اسلامی مشن دعوت سے اپنی آخری سانس تک جڑے رہے ۔ انتہائی نیک ‘بہ اخلاق ‘صلوم وصلوة کے پابند ‘ ہمدرد ملت برادران اسلام کے دوست تھے ۔اوریہی کارِ خیر اور جذبہ انسانیت کرتے کرتے چلتے پھرتے داعی اجل کولبیک کہا ۔ یقینا وہ مرد مجاہد تھے اورایسے نیک انسان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔ میرتقی میر نے شایدایسے برگزیدہ اور نیک بے ضرر انسانوں کےلئے کہاتھا

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

بلامبالغہ میں یہاں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میر کایہ لافانی شعر نصرت حسین صدیقی کے فرزند مرحوم اقبال حسین صدیقی پربھی صادق آیا ہے ۔ مرحوم کے خاندان ذرائع سے ملی اطلاع کے بموجب آج بروز بدھ 28 اگست کو ان کا جسد خاکی شب نو بجے تک ناندیڑ پہونچے گا اور امکان ہے کہ بروز جمعرات 29اگست کی صبح ان کی نماز جنازہ مسجد وزیر آباد میں پڑھی جائے گی ۔

مدیراعلیٰ”ورق تازہ“ محمدتقی‘ محمد شفیع احمد قریشی ‘ ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین ‘ ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی اور قاضی اطہر الدین نے اقبال حسین صدیقی کے انتقال پُر ملال پر اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مرحوم ایک نیک صفت ‘ بہ اخلاق ‘دیانتدار اور ذمہ دار معلم تھے ۔ وہ اپنے والد ماجد مرحوم نصرت اللہ صدیقی کے حقیقی جانشین تھے ۔ جس طرح مولوی نصرت صدیقی نے اسلامی مشن کیلئے زندگی وقف کردی تھی اسی طرح اُن کے فرزند نے بھی خود کو اسلامی تحریک اور مسلمانوں مین تعلیم کوعام کرنے میں وقف کردیاتھا ۔پرور دگار عالم ‘ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ جنت کے اعلیٰ اورعمدہ باغوں میں مرحوم کاگھربنائے ۔ان کے گناہوںں کو معاف کرکے اُن کی مغفرت کرے ۔ ان کے بچوں کواعلیٰ تعلیم سے سرفراز کرے ۔انھیں اور ان کی اہلیہ اوردیگر افراد خاندان کوصبر جمیل عطاءکرے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading