ممبئی:12 فروری(ای میل)دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار ناندیڑ کے ایک مسلم نوجوان کی ضمانت عرضداشت پر آج ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران عدالت نے استغاثہ کی ضمانت عرضداشت پر سماعت نہ کیئے جانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ۷ مارچ کو ضمانت عرضداشت پر حتمی بحث کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ملزم عرفان محمد غوث کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے داخل کردہ ضمانت عرضداشت پر جسٹس اے ایس اوک اور جسٹس اے ایس گڈکری کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ایک سال قبل ملزم کو ضمانت اس شرط پر نہیں دینے کا حکم دیا تھا کہ خصوصی این آئی اے عدالت آٹھ ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلے گی لیکن اب جبکہ دیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گذرچکا ہے این آئی اے عدالت مقدمہ فیصل کرنے میںناکام ثابت ہوئی اور مستقبل قریب میں مقدمہ فیصل ہونے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ دیڑھ سو گواہوں میں سے صرف ساٹھ گواہوں نے ہی ابتک عدالت میں گواہی دی ہے۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمین کے متعلق گواہی دینے والے تمام گواہوں کے بیانات کا اندراج ہوچکا ہے جس میں سے بیشتر گواہوں نے ملزم کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا ہے لہذا ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے نیزاستغاثہ نے دیڑ ھ سال قبل مقدمہ کی سماعت ۸ ماہ میں مکمل کیئے جانےکا دعوی کیا تھا لیکن آج دیڑ ھ سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود معاملے کی سماعت ختم ہونے سے کوسوں دور ہے ۔ اسی درمیان این آئی اے کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ چملکر نے عدالت سے گذارش کی کہ بجائے ملزم کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرنے کے عدالت خصوصی این آئی اے عدالت کو معاملے کی جلد از جلد سماعت مکمل کیئے جانے کے احکامات جاری کرے جس پر جسٹس اوکا نے وکیل استغاثہ سے کہا کہ انہوں نے نچلی عدالت کے جج سے رپورٹ طلب کی ہے جس کے مطابق جج کے پاس پہلے سے ہی متعدد ”ٹائم بانڈ“ معاملات زیر سماعت ہیں لہذا اس نے معذرت کرلی ہے ۔دو رکنی بینچ نے کہا کہ نچلی عدالت کی رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے یہ فیصلہ کیا ہیکہ اب ملزم کی ضمانت عرضداشت پر میرٹ کی بنیاد پر سماعت کی جائے گی۔دوران سماعت ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ مبین سولکر کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم اور ایڈوکیٹ زارا سلاتی، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر موجود تھے۔واضح رہے چھ سا ل قبل مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ نے مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع سے پانچ مسلم نوجوان محمد مزمل عبدالغنی، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کی دفعات ۰۱،۳۱،۵۱، اور ۶۱ اور مہلک ہتھیار رکھنے والے قانون کی دفعات ۳،۵۲ کے تحت گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ صحافیوں، سیاست دانوں اور دیگر اہم شخصیات کو نشانہ بنانے والے تھے ۔