ناندیڑ:ـ30 جولائی ( نمائندہ یقین) سویتا گائیکواڑ پر 9 جنوری 2023ء کی رات کی گئی فائرنگ کے معاملہ میں ایک ملزم کو لوکل کلرائم برانچ نے حراست میں لینے کے بعد آج اتوارہ پولیس نے اُسے عدالت میں حاضر کیا۔ فرسٹ کلاس جوڈیشنل مجسٹریٹ نے ایک یوم کی پولیس کسٹڈی میں روانہ کرنے کا حکم دیا۔ تفصیلات کے مطابق 10 جنوری 2023ء کو سویتا بابو رائو گائیکواڑ نے شکایت درج کروائی تھی کہ 9 جنوری کی رات 11.15 بجے اُس پر بافنا پل کے پاس فائرنگ کی گئی۔
جس کے مطابق اتوارہ پولیس اسٹیشن میں جرم نمبر 12/2023 درج کیا گیا۔ مذکورہ شکایت میں سویتا گائیکواڑ نے حملہ آور کا نام بھی درج کروایا تھا۔ تاہم پولیس تحقیقات میں اس کے برعکس حقائق سامنے آئے تھے۔ پولیس کے مطابق سویتا گائیکواڑ نے ہی فرضی طور پر فائرنگ کا ڈرامہ رچا تھا اور اُس کے ساتھی کرن سریش مورے، گوپی ناتھ بالاجی منگل اور وکاس چندرکانت کامبلے شامل تھے۔ اس معاملہ میں ان تین افراد کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، تاہم وکاس چندرکانت کامبلے فرارہوگیا تھا۔
فرار ہوتے وقت وکاس کامبلے نے سڈکو علاقہ میں مبینہ طور پر ایک قتل بھی کیا تھا۔ اس کے خلاف مکوکا قانون کے تحت کارروائی بھی کی گئی ہے۔ 22 جولائی کو لوکل کرائم برانچ نے ایک ڈکیتی کے معاملہ میں 12 ملزمین کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں سے ایک ملزم وکاس چندرکانت کامبلے ( 27 سال، ساکن پلسا، تعلقہ حدگائوں، حال مقیم دھنے گائوں ناندیڑ) تھا۔
اتوارہ پولیس نے اسے 29 جولائی کو جرم نمبر 12/2023 کے تحت گرفتار کیا۔ پولیس سب انسپکٹر شیخ اسد، پولیس عملدار بودھموار، نذرے دیشمکھ و دیگر پولیس افسران نے وکاس کامبلے کو آج عدالت میں حاضر کیا۔ عدالت نے وکاس کامبلے سے جرائم کی مزید تفتیش کے لیے اُسے ایک یوم کی پولیس کسٹڈی میں روانہ کرنے کا حکم دیا۔