پچھلے دنوں ایک پروقار رسم منگنی کی تقریب میں ایک نوجوان دوست سے ملاقات ہوئی دوران گفتگو نوجوان نے کہا کہ ہمیں بغیر جہیز اور سادگی سے نکاح کرنا ہے۔ اور ہم اس بات پر ہمارے نوجوان دوستوں کو بھی آمادہ کریں گے کہ وہ بھی سادگی سے اور بغیر کسی خرافات کے نکاح کریں۔طبیعت بڑی خوش ہوتی ہے کہ جب ملت کے نوجوان طبقہ کی جانب سے ایسے عزائم کا اظہار ہوتا ہے۔ اور اس طرح کے عزائم واقعی میں قابلِ تعریف ہے ۔اور یقیناً بہت اچھی بات ہے کہ اس طرح کے خرافات کے خاتمے کی بات آج کے فیشن زدہ ماحول میں پرورش پارہے ملت کے نوجوان طبقہ کی طرف سے آرہی ہے۔ جہیز ایک لعنت ہے اور سماجی ناسور بھی جسکی وجہ سے قوم کی سینکڑوں بیٹیاں بالوں میں چاندی لیے رشتوں کی منتظر بیٹھی ہے۔ غریب باپ کے لیے بیٹی کی شادی ایک چیلنج بن کر رہ گیا ہے۔ جوڑا، گھوڑا، بارات، جہیز، اور دیگر خرافات نے نکاح کے آسان عمل کو اور مشکل کردیا ہے، جسکا مذہب اسلام میں دور دور تک کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل و تکمیل کے لیے ان جیسی خرافات کا خاتمہ بھی ہونا چاہیے۔
کل ایک خبر سوشل میڈیا اور اخبارات کے ذریعے پڑھنے کو ملی۔
اس کی تفصیلات تو آپ سب لوگوں کے سامنے آہی گئی ہوگی۔ بہت ہی افسوس ناک اور ملت اسلامیہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی خبر ہے کہ محض شادی کے چند لمحات قبل ایک باپ کو اپنے لخت جگر کا رشتہ منقطع کرنا پڑا۔ وجہ یہ ہے کہ لڑکے والوں کی طرف سے مسلسل بھاری چیزوں کی مانگ بڑھ رہی تھی۔ اس لئے مجبوراً غریب باپ کو شامیانے میں بلیک بورڈ لگا کر معذرت کے ساتھ یہ لکھنا پڑا کہ میں اپنی بیٹی کا نکاح ملتوی کر رہا ہوں۔ افسوس صد افسوس یہ واقعہ امت مسلمہ اور معاشرے میں چل رہی اصلاحی تحریکات کو کھلا چیلنج ہے۔
یہ واقعہ اس زمانے میں رونما ہورہا ہے جبکہ آج کئی ملی، سماجی، دینی، فلاحی جماعتیں فلاح و بہبود کے کام کر رہی ہیں۔ آسان نکاح کو لیکر جگہ جگہ مختلف پروگرامس، مہمات بھی منعقد کئے جا رہے ہیں، پھر بھی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو ملت اسلامیہ کے لیے بڑی تشویش ناک بات ہے۔
ذرا سوچئے اس باپ پر کیا گزری ہونگی کہ اس کی لخت جگر کو اس لئے نہیں اپنایا گیا کہ اس کے پاس اسے دینے کے لیے قیمتی سامان نہیں تھا۔ ذرا وہ منظر نامہ اپنی آنکھوں کے سامنے لائیں کہ نکاح کا شامیانہ سجا ہوا ہے اور وہاں یہ تختہ سیاہ لگا ہوا ہے۔ یہ بظاہر تختہ سیاہ پر لکھی ہوئی معذرت کی عبارت ہمیں نظر آ رہی لیکن دراصل یہ ملت اسلامیہ کے موجود حالات کا مرثیہ ہے۔ یہ اس باپ کی لکھی ہوئی تحریر ضرور ہے کہ جس کی بیٹی بیاہ ہونے سے رہ گئ لیکن ساتھ ہی یہ ہماری قوم کی بدترین تصویر دنیا کے سامنے پیش کی گئی ہے، جو ہمارے ہی ہاتھوں سے بنائی ہوئی ہے۔ یہ محض ایک تختہ سیاہ نہیں ہے بلکہ ہماری خرافات کا آئینہ ہے۔ یہ تحریر تو مٹ چکی ہوگی لیکن ذہنوں پر نہ مٹنے والے نقوش ضرور چھوڑ گئی۔
وہ بیٹی ضرور اپنے رب سے فرما رہی ہونگی کہ مجھے اس دنیا میں کیوں اتارا گیا؟ پہلے لوگ پیدا ہوتے سے ہی بیٹی کو زندہ در گور کردیا کرتے تھے، لیکن اب اسے بار بار ذلت کی موت مارا جا رہا ہے۔ دوسرے مذاھب میں شادیاں رچانے والی ملت کی بیٹیوں کے لیے تو ہم فکر مند ہوئے جا رہے ہیں، لیکن نکاح کو مشکل سے آسان نہیں کرپا رہے ہیں۔ لین دین کے مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ نکاح مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بیٹیاں بوڑھی ہو رہی ہیں۔ آج اس بات پر دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ رونما ہونے پائیں۔
ایسے ہی موقعہ کی کسی شاعر نے اس طرح منظر کشی کی ہے۔۔۔
دلہن کے مقدر پر روتی رہی شہنائی
نادار کی بیٹی تھی بارات نہیں آئی