مہاراشٹر انتخابات: پرکاش امبیڈکر نے رائے شماری سے پہلے ممکنہ اتحادی کا اعلان کردیا

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج سے پہلے پرکاش امبیڈکر نے کہا کہ ونچت بہوجن اگھاڑی اس پارٹی یا اتحاد کا ساتھ دے گی جو حکومت بنانے کے قابل ہومہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج کل (23 نومبر) کو جاری ہوں گے، اور اس سے قبل سیاسی منظرنامہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر قیادت مہایوتی اور کانگریس کے زیر قیادت مہا وکاس اگھاڑی دونوں نے اکثریتی حکومت کا دعویٰ کیا ہے۔ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے سیاسی موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی پارٹی کو حکومت سازی میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا تو وہ اس پارٹی یا اتحاد کا ساتھ دیں گے جو حکومت بنانے کے قابل ہو۔رپورٹ کے مطابق اس مرتبہ انتخابات میں دونوں بڑے اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم، ریاست میں چھوٹے سیاسی گروپوں اور آزاد امیدواروں کی موجودگی نے سیاسی منظر کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان چھوٹے گروپوں کی حمایت حکومت سازی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ونچت بہوجن اگھاڑی، جو ریاست میں دلت اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کرتی ہے، خاص طور پر ممبئی، ناسک، اور مراٹھواڑہ کے علاقوں میں اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ پرکاش امبیڈکر نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی مہاراشٹر کے سماجی اور اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کی آواز بنے گی۔مہاراشٹر میں تمام 288 اسمبلی نشستوں پر 20 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں اوسط ووٹنگ کی شرح 65 فیصد سے زیادہ رہی۔ ریاست بھر میں 158 سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے 4,136 امیدوار انتخابی میدان میں تھے۔انتخابات کے بعد کی صورتحال پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ اگر کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کر پاتی تو چھوٹے گروہ اور آزاد امیدوار کس اتحاد کا ساتھ دیں گے۔ پرکاش امبیڈکر کے حالیہ بیان نے اس پہلو پر مزید توجہ مبذول کر لی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading