ممبرا – دوسال بعد بھی ذہنی معذور لڑکی کا کوئی سراغ نہیں ملا
18سالہ شمیم سولکر کے اہل خانہ بیٹی کی تلاش میں در بدر کی خاک چھاننے پر مجبور
تھانے (آفتاب شیخ)
تھانے سے متصل مسلم آبادی والا شہر ممبرا کے کوسہ علاقہ سے 2017 میں 18سالہ شمیم انور سولکر گھر سے لاپتہ ہوگئی تھی جس کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا لیکن مجبور والدین آج بھی بیٹی کے واپس آنے کی امید لگائے در بدر کی خاک چھاننے پر مجبور ہیں۔ اس سلسلہ میں انور سولکر نے (گمشدہ لڑکی کے والد )جو بینک میں ملازم ہیں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی وہ گھر سے چلی گئی تھی تو کچھ دنوں بعد واپس آگئی لیکن اس بار تو دو سال سے زائد کا عرصہ گذرگیا ہے بیٹی کا کوئی سراغ نہیں ملا انھوں نے بتایا شمیم ذہنی طور پر معذور ہونے کے سبب اسے گھر سے نہیں نکلنے دیتے تھے وہ عمارت یا کالونی سے باہر نکلی تو گھر بھول جاتی تھی اور اتنا ذہن نہیں کہ وہ اپنا گھر نام یا پتہ بتا سکے لیکن اس بار 24 جون 2017 کو والدہ کے ساتھ عید کی خریداری کے لئے بازار گئی تھی اور ہاتھ چھوٹ گیا اور اسکے بعد اسکا کوئی سراغ نہیں ملا، پولیس میں شکایت کے بعد بھی آج دو سال سے اسے تلاش کر رہے ہیں مضافات کے شہروں، اضلاع کے علاوہ دیگر دوسری ریاستوں میں بھی جاکر تلاش کرچکے ہیں لیکن بیٹی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ پھر بھی ہمارے لیے امید پر دنیا قائم ہے اور ہم آج بھی اسے تلاش کررہے ہیں۔
