ممبئی کی حاجی الاناسینی ٹوریم مسجد میں تبلیغی جماعت اور ٹرسٹ کے درمیان تنازع پولیس کی مداخلت بحسن وخوبی حل

ممبئی،5نومبر(یواین آئی)آج یہاں جنوبی وسطی ممبئی میں واقع حاجی اسماعیل حاجی الانا سینی ٹوریم کی مسجد میں تبلیغی جماعت کے ارکان اور ٹرسٹ کے درمیان تنازعہ نے نماز جمعہ کے موقع پر سنگین صورتحال کرلی اور پولیس نے بعد نماز جمعہ ٹرسٹ کے عہدیداران اور جماعت کے کارکنان کی میٹنگ طلب کی جس میں انٹاپ ہل پولیس اسٹیشن کے سنئیر انسپکٹر پی راجے اور مقامی اے ٹی ایس کے سربراہ ارشد مکاندار بھی شریک رہے اور مسئلہ کو کوروناپرٹوکول پر عمل کرتے ہوئے نماز کی ادائیگی اور تبلیغ اجازت دی گئی ۔

واضح رہے کہ حاجی اسماعیل حاجی الانا سینی ٹوریم کے وسیع علاقے کے احاطہ میں صدر دروازے کے دائیں جانب نصف صدی سے ایک مسجد واقع ہے اور تقریباً 45 سال سے تبلیغ کاکام بلاروک ٹوک جاری تھا،لیکن 2018 میں تبلیغ جماعت کے شوری اور مزارات میں تقسیم ہونے کی وجہ سے مولانا سعد کے گروپ پر ٹرسٹ نے پابندی عائد کرنے کی کوشش کی کیونکہ منیجنگ ٹرسٹی منصور کرسی والاشوری سے وابستہ ہے،تب 2018 میں زون چہارم۔کی ڈی سی پی امبیکا نے تنازعہ کوحل۔کرنے کےلیے ایک میٹنگ طلب کی اور یہ معاہدہ طے پایا کہ دونوں گروپ ایک ایک ہفتے مسجد میں بعد نماز فجر اور عشاء مشورہ کریں گے اور گشت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی دیں گے اور دونوں کی جماعتیں بھی ہر ہفتے باری باری آئیں گی۔لیکن مارچ 2020 میں کوروناوباء پھیلنے کے بعد عبادت گاہیں بند ہونے سے ٹرسٹیز کو پورا موقعہ مل گیا اور انہوں نے مسجد عام نمازیوں کے لیے بند کر دیئے ۔

گزشتہ 7،اکتوبر کو مسجد کھول دی گئی اور سبھی لوگ سماجی دوری اور کوروناوباء کے متعلق گائیڈ لائنز پر عمل کرتے رہے ،لیکن تبلیغی جماعت کو روایت نہیں دی گئی اور معاملہ پولیس تک پہنچ گیا،ٹرسٹیوں اور خصوصی طور پر منیجنگ ٹرسٹی منصور کرسی والاکی دخل اندازی نے حالات کو سنگین شکل دے دی ،یہاں کے مقتدیوں نے الزام عائد کیا کہ تبلیغ جماعت سے وابستہ افراد کے ساتھ ساتھ عام نمازیوں کوبھی ایک لکڑی ہانکاجارہاہے اور بدسلوکی جاتی ہے۔معاہدہ کے مطابق کسی بھی وقت کی جماعت سے نصف گھنٹہ پہلے مسجد کادروازہ کھول دیاجائے گا،لیکن حال میں مساجد کے کھولے جانے کے بعد سے صدر دروازے کودس سے پندرہ منٹ پہلے کھولاجاتاہے اور نماز جمعہ کوساڑھے بارہ بجے کھولاجاتا ہے،حالانکہ یہاں نمازجمعہ کی جماعت سوابجے ہوتی ہے۔آج مقتدیوں کی ناراضگی کے نتیجے میں انٹاپ ہل پولیس اسٹیشن کے سنئیر انسپکٹر پی راجے اور اے ٹی ایس افسر ارشد مکاندار پولیس فورس کے ساتھ پہنچ گئے اور بعد نماز جمعہ ایک میٹنگ سینی ٹوریم کے دفتر میں ہوئی ،جس میں ٹرسٹ کے منیجر شاہد ابراھیم سیٹھ اورسپروائرزر ،تبلیعی گروپ سے مقامی کارپوریٹر سفیان ونو،این سی پی لیڈر عارف سید،کلیم شیخ،وسیم شیخ،سعید قاضی اور شریف گھانچی ودیگر میٹنگ میں شامل تھے۔

سنئیر انسپکٹر راجے نے سابقہ معاہدہ پر عمل کرنے کی ٹرسٹیوں کو ہدایت کی۔دونوں تبلیغی جماعت کے گروپ ایک ایک ہفتہ یہاں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے اور عام نمازیوں کے لیے فجرتاعشاء مسجد میں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔جبکہ ٹرسٹیوں کو عام نمازیوں کے ساتھ بہتر برتاؤ رکھناہوگا،البتہ سبھی کوروناپرٹوکول پر توجہ دینا ہوگی،جمعہ کوسینی ٹوریم کا صدر دروازہ اور مسجد کادروازہ 12بجے کھول دیاجائے گا۔سنئیر انسپکٹر نے واضح کردیاہے کہ سبھی کو امن وسلامتی کا خیال رکھنا ہوگا اور آپسی اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کرناہوگا۔جبکہ انسپکٹر ارشد مکاندار دونوں کے درمیان رابطہ کی کڑی ہوں گے۔اس فیصلہ پر عام لوگوں نے مسرت کااظہار کیا ہے۔کیونکہ 7اکتوبر سے مسجد کھولے جانے کے بعدباجماعت فرض نماز کے بعد خدام پنکھے اور ٹیوب لائٹ بند کر دیتے ہیں اور فجر میں بھی نمازیوں کو اشراق تک رکنے نہیں دیاجاتاتھا،لیکن عمررسیدہ اور علاقے کے معززین کی مداخلت سے مسئلہ حل ہوا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading