ممبئی:۔24/ڈسمبر(راست) اردوصحافت کودو سال مکمل ہونے کی مناسبت سے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی اور پترکاروکاس فاونڈیشن کے اشتراک سے ممبئی کےخلافت ہاوس میں22ڈٖسمبر2022 بروزجمعرات یک روزہ صحافتی ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا۔ افتتاحی اجلاس پترکاروکاس فاونڈیشن کے صدر نے فاونڈیشن کی۲؍سالہ کارکردگی کو مفصل طورپرپیش کیا کرتے ہوئے بتایا کہ اس فاونڈیشن نےصحافیوں کی فلاح و بہبودکےلئے کیا کیا کام کیے۔اس جلسے کی صدارت روزنامہ انقلاب کے مدیراعلی شاہد لطیف نے اپنے خطبے میں نےاردو اکیڈمی اور پترکار وکاس فاونڈیشن کی کارکردگیوں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت اب وقت کی ضرورت بن گئی ہے
لہٰذا اسے پرنٹ میڈیا تک محدود نہ رکھتے ہوئے ترقی یافتہ دور کے ساتھ ڈیجیٹلائز بھی کیا جانا چاہئے کیونکہ پرنٹ اخبارات کے قارئین کی تعداد کی بہ نسبت ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر پڑھنے والوں کی تعداد قدرے زیادہ نظر آتی ہے۔ان سے قبل اردو اکیڈمی کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر شعیب ہاشمی نے بتایا کہ کس طرح اردو ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سےاردوزبان و ادب کے فروغ کے لئے مختلف اسکیمیں چلائی جارہی ہے۔ اس وقت اردواکیڈمی کی تشکیل نہیں ہوئی ہے اکیڈمی میں اسٹاف کی کمی ہونے کے باوجوداردو صحافیوں کی رہنمائی کے لئے ورکشاپ کابھی انعقاد کیا جاتا ہے اسی تناظر میں یہ پروگرام بھی منعقد کیا گیا ہے۔افتتاحی تقریب کی نظامت سینئر صحافی سعدیہ مرچنٹ نےبہت ہی خوبصورتی سے انجام دی۔
پہلاسیشن بعنوان ” صحافت میں رپورٹنگ اور اسکی اہمیت ”
صدارت:سرفراز آرزو مدیر ہندستان ٗ ممبئی
’’صحافت میں رپورٹنگ کی اہمیت ‘‘کے عنوان سے منعقدہ اولین سیشن میںٹائمز آف انڈیا کے صحافی وجیہ الدین نے کہا کہ صحافت میں نئی نسل کو قدم رکھنا بہت ضروری ہے۔رپورٹنگ کے بنیادی اصول اور اس کے طریقہ کار کے عنوان سے انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل اخبارات کا مطالعہ کرکے اپنی معلومات میںاضافہ کر سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں مظلموں کی آوازاٹھانے کے لئے صحافت سے اچھا کوئی شعبہ نہیں ہے۔ ’’اردوصحافت کا مستقبل ‘‘ کواپنی تقریر کا عنوان بناتے ہوئےڈاکٹرسلیم نے حاضرین کوبتایا کہ لوگوں کو اس بات کی فکر ہے کہ اردو صحافت کا کیاہوگا؟ اس ملک میں صحافت کا جنازہ اٹھادیاگیا ہے۔ ہم پر جبراس لئے ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کوآـانی سے جھکایا جاسکتاہے اور نہ خریدا جاسکتا ہے۔اس ملک میں صحافت خطرے میں ہے لوگ یہ کہنےلگے ہیں کہ صحافت کا مستقبل تاریخ ہوجائے گا۔پھرچاہےوہ اردوصحافت ہو یاانگریزی یہ خطرہ سب کے سامنے ہے۔ہندوستان میں سچے صحافیوں کی کمی نہیں ہے۔مدیرصحافت ہارون افروز نے اردو صحافت میں ترجمہ کی اہمیت کے عنوان پرسیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اخبار کے لئے ترجمہ بھی ریڑھ کی ہڈی کی مانندہوتاہے مگر شرط یہ ہے کہ جس زبان سے ترجمہ کیا جا رہا ہے اورجس زبان میںترجمہ ہو رہا ہے ترجمہ کرنے والے کو اس پرعبورحاصل ہونا چاہئے۔صحیح ترجمہ عافیت کا جبکہ غلط ترجمہ بربادی کا ضامن ہوتاہے۔مدیر روزنامہ ہندستان سرفراز آرزو نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت نے تاریخ میںجومثالیں پیش کیں ہیں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ اردو صحافت نے مسلمانوں کودر پیش مسائل چاہے وہ این آر سی کاہو،یکساںسول کوڈکا ہو یا بابری مسجدکی مسماری ہواردو اخبارات نے ہمیشہ وکالت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ہمیں فخر محسوس ہوتا ہے کہ اردوصحافت نے ہمہ وقت ایمانداری اور دیانتداری سے اپنےفرائض انجام دیتے آرہے ہیں۔روش کمار کی این ڈی ٹی وی سے مستعفی ہونے کے بعدبھی مقبولیت میں کمی نہیں ہوئی ہے۔آپ چاہے روپئے پیسے کے ذریعہ ایماندار صحافت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر لیں لیکن عوام کا اعتماد ہمیشہ صحافت کوزندہ رکھے گا۔اس سیشن کی نظامت سینئر صحافی قطب الدین شاہد نے بہ حسن وخوبی انجام دیئے۔
دوسراسیشن : بہ عنوان’’صحافت میں ڈیکس کا کردار‘‘
صدارت: شمیم طارق سینئر صحافی ٗ ممبئی
دوسرا سیشن بہ عنوان’’صحافت میں ڈیکس کا کردار‘‘ کے عنوان تحت منعقدہ سیشن میںروزنامہ ہندستان اورنگ آباد کےمدیرنا یاب انصاری نے سوشل میڈیا کی افادیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ بے شک سوشل میڈیا عوام کے لئے باعث رحمت ثابت ہورہی ہیں مگر اس کے باوجودان میں کچھ ایسے ذرائع بھی ہیں جنہیں آج تک شک کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے یعنی اسے معتبر نہیں ماناجاتا ۔ جبکہ پرنٹ میڈیا کی یہ خوبی ہےکہ آج بھی اس کے وقار پر کوئی آنچ نہیں آئی ہے اوراسے معتبر ہی ماناجاتا ہے۔ممبئی اردونیوزکےایڈیٹر شکیل رشید نے صحافت کے پیشےکوسنجیدگی سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو اخبار میں ایک اداریہ ہوتا ہے جبکہ دیگر زبانوں کے اخبارات میں دو یا تین اداریے ہوتےہیں۔اداریہ اخبار کی جان ہوتے ہیں اسے خبر نہ بنایاجائے اورنہ ہی خبر کواداریہ بنایاجائے کیونکہ اداریے میں سماج کودر پیش مسائل پرمدیر کی اپنی ذاتی رائے ہوتی ہے۔جولوگ اپنےضمیر کی آواز پرلبیک کہیں گے ان کامستقبل روشن رہے گا۔جہاں تک میرا مطالعہ سے آج تک کسی بھی اردو کے صحافی کو نوبل پرائز کے لئے منتخب نہیں کیا گیا ہے۔ صحافت کے مستقبل کو روشن بناناچاہتے ہیں تو خطرات سے مقابلہ کرنا ہوگا۔آج بھی سب سے آزاد میڈیا اردو میڈیا ہی ہے۔
روزنامہ ناندیڑ ٹائمز کےمدیرمنتخب الدین نے بنیادی باتوںپرتوجہ دلاتے ہوئے کہا کہ افرادی مسائل پرتوجہ دینے کے بجائے سماجی،سیاسی اوردیگر مسائل پر توجہ دینا چاہئےاور اگر آپ خبر لکھ رہے ہیں تو آپ کو وقوع پذیر ہونے والے واقعات،حالات اور تمام پہلووں کو سامنے رکھتے ہوئے خبر لکھیں تاکہ کوئی بھی گوشہ چھوٹنے نہ پائے۔سینئر صحافی شمیم طارق نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ اداریہ کسی بھی اخبار کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔اکابرین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کس خوش اسلوبی سے اداریہ لکھا کرتے تھے ہمیں ان کےاداریے پڑھ کر بہت کچھ سیکھنے کاموقع مل سکتا ہے۔خبروں کاانتخاب کرتے وقت خیال کیا جائے کہ خبریں اشتعال انگیزی، منافرت، منافقت اورپیڈنیوز سےپاک ہوں۔ سب سے بڑا مسئلہ ہمیں یہ درپیش ہے کہ قاری کے ساتھ رابطہ ختم ہوتاجارہا ہے۔ احساس کمتری سے باہر نکل کر آج کے وسائل سے استفادہ حاصل کریں۔اس سیشن کی نظامت پترکاروکاس فاونڈیشن کے صدر اور مشہور شاعر وناظم یوسف رانا نےانجام دی۔
تیسراسیشن :بعنوان’’ صحافت میں کیرئیر اور صحافت کے سماج پراثرات‘‘
صدارت: محمدتقی ٌ مدیراعلیٰ "ورق تازہ "ناندیڑ
’’ صحافت میں کیرئیر اور صحافت کے سماج پراثرات‘‘ کےعنوان سے منعقدہ تیسرے سیشن کی نظامت گل بوٹے کے مدیر سید فاروق نےانجام دی ۔سیشن کی صدارت روزنامہ”ورق تازہ“ناندیڑ کے مدیراعلیٰ محمدتقی نے کی ۔ انھوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ یہ دور سوشل میڈیا کا ہے ۔ پرنٹ میڈیا دم توڑ رہا ہے ۔ ارردو صحافت کا دو سو سالہ دوربہت درخشاں رہا ہے لیکن اب یہ 200 سالہ دور اردو اخبارات کی تاریخ کاایک زرین باب بن کرکتابوں میںمحفوظ ہوچکاہے ۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اخبارات خصوصاً اردو اخبارات کامستقبل روشن ہے تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہے ۔
محمدتقی نے اپنی تقریرجاری رکھتے ہوئے کہا کہ البتہ اردو زبان کامستقبل روشن ہے کیونکہ عالمی سطح پر اردو صحافیوںاورادیبوں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں سے استفادہ کرنا شروع کردیا ہے ۔اردو کے کئی ویب سائیٹس اور یوٹیوب چینل جاری ہیں ۔ سوشل میڈیا کے مشہور پلیٹ فارموں میں نمبرایک پر face Book ہے اس کے علاوہ Youtub ,‘Whatsapp ‘Instagram‘Tik Tok ‘Telegram اورTwitter بھی کافی مقبول ہیں ۔ او را ردو والے ان تمام کابخوبی استعمال کررہے ہیں۔اس لئے اب اردو اخبارات کے مالکان اور مدیران کوسوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں سے استفادہ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے ۔ ویب سائٹس سے لوگ ماہانہ لاکھوں روپے کمارہے ہیں اور معمولی خرچ صرف ایک موبائل کی خریدی اور انٹر نیٹ کنکشن پرہورہا ہے ۔جو ویب سائٹس ‘ یوٹیوب چینل ‘بلاگس زیادہ دیکھے جارہے ہیں جن کے یوزرس کی تعداد زیادہ ہے انھیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہارات اُسی حساب سے مل رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہاکہ سوشل میڈیا یا ڈیجٹیل میڈیا کے سماج پراچھے اور بُرے دونوں طرح کے اثرات پڑ رہے ہیں۔خوفناک Horrerاور ماردھاڑ اور فحش ڈاکیومنٹری فلموں کاویڈیودیکھنے سے نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔وہ ذہنی امراض میں مبتلاہورہے ہیں۔
مایوسی اورفرسٹریشن کے شکار ہورہے ہیں ۔بے حیائی کی طرف گامزن ہیں۔ لیکن سماج پر مثبت اثرات زیادہ پڑرہے ہیں ۔ تعلیمی ‘طبی‘سائنسی ‘تحقیق ‘ادب کے شعبہ جات میںسوشل میڈیاسے کافی استفادہ کیاجارہا ہے ۔خاص طورپر تجارتی اورکمرشیل اشتہارات جاری کرنیوالی کمپنیاں اورایجنسیاں بہت فائدہ اٹھارہی ہیں ۔لوگ اپنے خیالات ‘نظریات ‘اپنی تحقیق کو دوسروں سے شیئر کررہے ہیں۔اور عالمی سطح پردوستیاں ہورہی ہیں۔نوجوان صحافی نظیف آرزونے سوشل میڈیا میں مواقع عنوان پر تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح آج لوگ یوٹیوب، ویب سائٹ، ویب پورٹل وغیرہ سے سالانہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں اور اپنی باتوں کو منٹوںمیںدنیا کے کونےکونے تک کس طرح پہنچایا جا رہا ہے۔اخبارات کی پرنٹ ایڈیشن سے لے کر سوشل میڈیا تک کے سفر کو نہایت خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہوئے عوام الناس کو حیرت زدہ کر دیا۔فری لانس جرنلزم میں مواقع کوموضوع بناکر صنعتی شہر مالیگاوں سے تشریف لانے والےسینئر صحافی عبدالحلیم صدیقی نے فری لانس صحافت کو سودمندبتایا۔کئی صحافیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آپ برسرروزگار ہونے کے علاوہ ایک معتبر صحافی بھی بن سکتے ہیں۔ سینئر صحافی عبدالسمیع بوبیرے نے تعلیمی میدان میں مواقع کےعنوان سے سیر حاصل تبصرہ کرتے ہوئے اسلاف کے ذریعہ کیے گئے کارناموں کو مختصر بیان کرتے ہوئے طلبائو طالبات کو تعلیمی میدان میں آکر کیرئیربنانے کی تلقین کی اور کہا کہ تعلیم ہی انسان کو انسان بناتی ہے۔آخر میں اردو ساہتیہ اکیڈمی کے شعیب ہاشمی اور قاسم امام نے تمام حاضرین کا شکریہ اداکیا۔اس ورکشاپ میں سیاسی، سماجی، تعلیمی، مذہبی اورصحافتی شخصیات کے ساتھ ساتھ بڑی تعدادمیں صحافت کا کورس کرنے والے طالبات نےشرکت کیں۔ممبئی کےعلاوہ مہاراشٹر کےدیگر شہروں سے اردوکےصحافی اور شیدائی شریک ہوئے جبکہ مشہور شاعر ڈاکٹرقاسم امام،نظام الدین راعین،اقبال میمن آفیسر، فریدخان،فرحان حنیف،انوراعظمی، شکیل انصاری،بال بھارتی کے نوید الحق، عبدالقیوم نعیمی، نمیرا، عبدالستار، حنا شیخ،شاہدہ دربار،ڈاکٹر اسماعیل قریشی، مزمل کور،عطا بھائی، مہدی بھائی، شکیل شیخ، شکیل انصاری ٗناندیڑ کے حیدر علی (ایم سی این)کے صحافی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔