نیویارک :نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کر کے بھارت سے برطانیہ فرار ہونے والے سلمان رشدی جمعہ کے نیویارک مغربی علاقے میں تیز دھار آلے سے نشانہ بنا ڈالا گیا۔ فوری طور پر ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم جس طرح گردن پر زخم آئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں حالت نازک ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رشدی ایک تقریب میں سٹیج پر موجود تھا۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ایک شخص نے اس وقت ’ شاتاقوا انسٹیٹیوٹ‘ میں سٹیج پر چڑھ کر سلمان رشدی پر حملہ کر دیا اور مکے برسانے یا ہتھیار سے وار شروع کر دیے جب ان کو تقریر کے لیے دعوت دینے سے قبل ان کا تعارف کرایا جا رہا تھا۔ 75 سالہ رشدی اس موقع پر فرش پر گر گئے یا ان کو گرا دیا گیا اور حملہ آور شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔
Author Salman Rushdie was attacked at a speaking event in Chautauqua, N.Y., on Friday by a man who stormed the stage and stabbed the writer in the neck, police said. https://t.co/PQqhVSFKkq pic.twitter.com/4QwIUzi3Jx
— The Washington Post (@washingtonpost) August 12, 2022
اس سلسلے میں ایک فوٹیج بھی منظر عام پر آئی کے سلمان رشدی کو جیسے ہی زخمی کیا گیا تو اس کے بعد بعض لوگ اس کی مدد کو دوڑے۔ پولیس نے اس واقعے کی تو تصدیق کی مگر فوری طور پر مضروب کی شناخت ظاہر نہ کی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ سلمان رشدی کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کچھ واضح نہیں ہے۔سلمان رشدی بھارتی شہری کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک انتہائی توہین آمیز کتاب ’شیطانی آیات‘ لکھی تھی۔ سلمان رشدی کی کتاب پر ایران میں 1988 میں پابندی عائد کر دی گئی تھی، جس کے بعد اس کا بھارت میں رہنا ممکن نہ رہا تھا۔
Author Sir Salman Rushdie, who wrote ‘The Satanic Verses’, has been airlifted to hospital after being stabbed.
Read more here: https://t.co/fHENXMIC6u pic.twitter.com/XFCRsHyEC4— Sky News (@SkyNews) August 12, 2022
ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خامنہ ای نے رشدی کے قتل کا ایک فتوی یا فرمان جاری کیا تھا۔ بھارت میں اس طرح کے توہین رسالت کے واقعات گاہے گاہے ہوتے رہتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا ہوتا ہے۔ ایرانی روحانی لیڈر آئت اللہ خمینی نے رشدی کے سر کی قیمت تین ملین یا تیس لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔ جس طرح آج کل اپنے دشمنوں کے سروں کی قیمت لگائی جاتی ہے۔
