اسرائیلی فوج کو بار بار غزہ پر قبضہ کرنے اور جنوبی لبنان میں داخل ہوکرحزب اللہ کے خلاف جنگ شروع کرنے کا مطالبہ کرنے کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نےفلسطین کے مغربی کنارے میں غزہ جیسی جنگ مسلط کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کو چاہیے کہ اس نے جو حشر غزہ کا کیا ہے ایسا ہی مغربی کنارےمیں کرے۔انتہا پسند وزیر نے اسرائیلی افواج پر زور دیا کہ وہ مغربی کنارے میں بھی غزہ کی پٹی جیسی فوجی کارروائی کرے۔
انہوں نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پرایک ٹویٹ میں مغربی کنارے کے شہر طولکرم کے قریب "بیت حیفر” بستی پر فائرنگ کے فوراً بعد کہا کہ "مغربی کنارے میں دہشت گردوں کا اسی طرح مقابلہ کرنا چاہیے جس طرح غزہ میں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں انہیں (فلسطینیوں کو) وہ کام کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے جو انہوں نے 7 اکتوبر کو غزہ کی سرحد کے قریب کیا تھا”۔
پٹی میں جاری جنگ کے حوالے سے انہوں نے مزید کہاکہ "دہشت گرد جہاں بھی ہوں انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے چاہے ہمیں طولکرم کو غزہ جیسے انجام سے دوچار کیوں نہ کرنا پڑے‘‘۔انہوں نےکہا کہ "یہ رجحان اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ مستقبل کی لسطینی ریاست اسرائیل کے لیے ایک وجودی خطرہ بنے گی”۔
سرچ آپریشن
سموٹریچ کے بیانات اسرائیلی نشریاتی ادارے کی طرف سے نشر کی گئی اس خبر کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں بتایا گیا تھا کہ آج بدھ کو مغربی کنارے کے شہر طولکرم کے قریب واقع "بیت حیفر” بستی کی طرف فائرنگ ہوئی ہے۔
واقعے کے بعد اسرائیلی فوج کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور بستی کے اندر اسکول کے طلباء کی آمدورفت کو محفوظ بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ فوج نے فائرنگ کرنے والوں کی تلاش کے لے سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔ حالیہ ایام میں اس بستی کی طرف فائرنگ کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے”۔