مظفر نگر ۔ ۲۷ / اگست: اتر پردیش کے مظفر نگر کے ایک اسکول میں ٹیچر کے ذریعہ کلاس کے ایک طالب علم کو تھپڑ لگوانے کا ویڈیو وائرل ہونے کے اور اپوزیشن لیڈران کی نکتہ چینی کے بعد انتظامیہ ایکشن میں ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ مظفر نگر ضلع انتظامیہ نے اس اسکول کی منظوری کو رد کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جس میں ایک ٹیچر نے اپنے دوئم جماعت کے طلبہ کو اس کے ایک ساتھی طالب علم کو تھپڑ مارنے کی ہدایت دی تھی ۔ ٹیچر ترپتی تیاگی پر ہفتہ کو مظفرنگر پولیس نے معاملہ درج کیا تھا۔ معلومات کے مطابق محکمہ تعلیم نے اسکول کو نکات پر جواب طلب کیا تھا ۔ معاملہ کی جانچ پوری ہونے تک اسکول کو بند رکھنے کا
کہا کہ بلاک ایجوکیشن افسر کل طلبہ کا دوسرے اسکول میں داخلہ کروائیں گے۔
وارانہ تبصرہ کرتے اور دوسری جماعت کے طلبہ کو اپنے ساتھی طالب علم کو تھپڑ مارنے کی ہدایت دیتے ہوئے دیکھا گیا تھا ۔ تیاگی ، جو مبینہ طور پر اسکول کی مالک بھی ہیں، ان کے خلاف ہفتہ کو مظفر نگر پولیس نے معاملہ درج کر لیا تھا ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے اس ویڈیو میں تیاگی اپنے طالبہ سے نیہا پبلک اسکول کے کلاس میں بچہ کو تھپڑ مارنے کیلئے کہتی نظر آرہی ہیں ۔ ادھر اے بی پی نیوز کی رپورٹ کے مطابق منصور پور کے اسکول میں طالب علم کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بی ایس اے نے کہا کہ اسکول ابھی نہیں چل سکتا ہے۔ انہوں نے
کھو با پور گاوں کے ایک پرائیویٹ اسکول کی ٹیچر ترپتی تیاگی کو ایک ویڈیو میں فرقہ عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
نوٹس بھیج کر سہولیات کے معیار کو لے کر کئی