ماہ رمضان میں دل دہلا دینے والا واقعہ: مقروض باپ نے تین کمسن بیٹیوں کو قتل کردیا

کاماریڈی (تلنگانہ)، 9 مارچ: ریاست تلنگانہ کے ضلع Kamareddy میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک باپ نے مالی پریشانیوں کے باعث اپنی تین کمسن بیٹیوں کو جھیل میں پھینک کر قتل کر دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔پولیس کے مطابق آٹو رکشہ ڈرائیور اسماعیل نے اپنی تین بیٹیوں شفاعت (8 سال)، آیت (7 سال) اور مریم (5 سال) کو جھیل میں دھکیل دیا۔

ہفتہ کی رات آیت اور مریم کی لاشیں جھیل سے برآمد ہوئیں، جبکہ اتوار کی صبح شفاعت کی لاش نکالی گئی۔اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس Chaitanya Reddy نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہفتہ کی دوپہر تقریباً ساڑھے تین بجے بچوں کے والدین پولیس اسٹیشن پہنچے اور اطلاع دی کہ بچے صبح دس بجے سے لاپتہ ہیں۔ پولیس نے فوری طور پر پانچ ٹیمیں تشکیل دے کر بچوں کی تلاش شروع کر دی اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی جاری کی گئیں۔ابتدائی تفتیش کے دوران اسماعیل نے پولیس کو بتایا کہ وہ بیٹیوں کو ناشتے کے لیے ایک ہوٹل لے گیا تھا اور بعد میں انہیں چھوڑ دیا۔ تاہم جب پولیس نے اس سے بچوں کے آخری مقام کے بارے میں مزید سوالات کیے تو اس کے بیانات میں تضاد سامنے آیا جس سے پولیس کو شک ہوا۔

پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملزم کے فون کال ریکارڈ کی جانچ کے بعد اس سے سخت پوچھ گچھ کی، جس کے دوران اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔ بعد ازاں وہ پولیس کو Pedda Cheruvu Lake لے گیا جہاں سے ایک بچی کا اسکارف ملا۔ اس کے بعد تیراکوں کی مدد سے تینوں بچیوں کی لاشیں جھیل سے نکالی گئیں۔پولیس کے مطابق ملزم کی بیوی شبینہ مزدوری کرتی ہے اور واقعے کے وقت کام پر گئی ہوئی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران اسماعیل نے بتایا کہ شدید مالی مشکلات اور قرض کے بوجھ کی وجہ سے وہ اپنی بیٹیوں کی پرورش کرنے سے قاصر تھا۔

اس نے بتایا کہ اس پر پانچ لاکھ روپے سے زیادہ کا قرض تھا۔پولیس حکام کے مطابق ملزم کو مزید تفتیش کے لیے پولیس تحویل میں لیا جائے گا اور اس سلسلے میں قانونی کارروائی جاری ہے۔ یہ واقعہ علاقے میں شدید صدمے اور غم و غصے کا باعث بن گیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading