نئی دہلی:آج کل کے بچوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ سارا دن موبائل پر مصروف رہنا چاہتے ہیں ۔ اگر انہیں موبائل نہ دیا جائے تو وہ نہ صرف ناراض اور چڑچڑے ہو جاتے ہیں بلکہ جسمانی تشدد کا سہارا لیتے ہیں اور خطرناک قدم بھی اٹھا لیتے ہیں۔ کیا کوئی اپنا موبائل چھیننے پر اپنی جان قربان کرے گا؟ بچوں کے ذہنوں میں کیسا وہم پیدا کیا جا رہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ راجستھان کے کوٹا میں ایک ماں نے اپنی بیٹی ارچنا سے موبائل فون چھیننے کے بعد اُسے ڈانٹا تھا پھر کیا ہوا بیٹی موت کو گلے لگا لیا۔
ان کی بیٹی ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ اس نے 2 جولائی کو اسکول جانا تھا۔ ماں سبزی خریدنے گئی تو بیٹی موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف ہوگئی۔ جب ماں واپس آئی تو اس نے ‘ارچنا، ارچنا’ پکارا لیکن اس کی بیٹی کھیل کھیلنے میں مصروف تھی تو اسے کیسے سنائی دیتی۔بچوں میں اس گیم کا دیوانہ اس قدر ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ بھی سن کر ڈر جاتے ہیں۔ ماں کمرے میں گئی تو بیٹی کو ڈانٹا۔ ماں بولی- تم اسکول کیوں نہیں جاتے، اپنا بیگ باندھو، تھوڑی پڑھائی بھی کرلو، تم صرف موبائل میں مصروف ہو۔
اسے تھوڑا ڈانٹنے کے بعد اس نے بیٹی سے موبائل چھین لیا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ بیٹی کمرے میں اکیلی رہ گئی تھی اور اس کے دماغ میں غصہ ابل رہا تھا۔20-25 منٹ ہی گزرے تھے کہ ماں نے دوبارہ ارچنا-ارچنا کو پکارا، لیکن بیٹی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کچھ دیر بعد ماں جیسے ہی کمرے میں پہنچی تو دروازہ اندر سے بند تھا۔ اس نے کھڑکی سے دیکھا تو یوں لگا جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو۔ اس کی بیٹی نے خودکشی کر لی تھی۔
یہ دل دہلا دینے والا واقعہ کوٹہ کے اننت پورہ تالاب بستی میں پیش آیا۔ لڑکی کے گھر والوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بیٹی نے خودکشی صرف اس لیے کی کہ اسے موبائل فون استعمال کرنے پر ڈانٹ پڑی تھی۔ انہیں دو دن کی پوچھ گچھ کے بعد اس کا علم ہوا۔