وزیراعظم نریندر دامودر داس مودی نے یوم دستور کے موقع پر بی جے پی کے ایم پیز،ایم ایل اے اور عہدیداران کو اس کی ہرممکن حفاظت کی ہدایت کی ،لیکن دوسری طرف ان کے وزرائے اعلیٰ اور لیڈران اس کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں اور بی جے پی ایک ایجنڈے کو نافذ کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے۔پارٹی مستقبل کے لیے جامع وٹھوس منصوبے پر عمل درآمد کررہی ہے،دراصل بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کافی کھینچ تان کے بعدکسی نہ کسی طرح اقتدار تک ضرورپہنچ گئی ،لیکن تیجسوی یادو نے جو زبردست ٹکر دی ہے ،وہ قابل ستائش ہے اور،اس کے لیے بھی داد دینی چاہیے،یہی وجہ ہے کہ بی جے پی آرجے ڈی کو مختلف طریقوں سے بدنام کرنے کی کوشش میں لگی ہے۔لالو یادو کے ٹیلی فون کا معاملہ بھی اس کا حصہ ہے۔بی جے پی کو کافی مشکل کاسامنا کرنا پڑا، اس کی وجہ سے آئندہ سال 2021ء میں مغربی بنگال،آسام سمیت پانچ چھ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں وہ کسی طرح کا خطرہ نہیں مول لینا چاہتی ہے،یہی سبب ہے کہ پارٹی لیڈرشپ نے ابھی سے فرقہ وارانہ کارڈ کااستعمال شروع کردیاہے،جوکہ انہوں نے بہار کے آخری مرحلے کے الیکشن میں بھی کیا تھا اور اس کی کمان اتر پردیش کے یوگی آدتیہ ناتھ کو سونپ دی تھی اور تیر نشانہ پر لگ گیا،اب انہوں نے اسی سلسلہ کو آگے بڑھائے رکھاہے، یعنی ‘لو جہاد’ کے نام پر قانون سازی شروع کردی ہے۔بلکہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی پروا نہ کرتے ہوئے یوگی کابینہ نے ایک آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔اس کا مقصد کئی محاذ پر مرکزی اور ریاستی حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔
خیر پہلے دیکھ لیتے ہیں کہ دراصل یہ معاملہ کیا ہے،حالانکہ فلمی دنیا اور سیاست میں اس قسم کی شادیاں عام بات ہے،خود بی جے پی کے متعدد مسلم لیڈران کے گھر میں ہندو بیویوں کا راج ہے،جن میں صف اول کے لیڈر مختار عباس نقوی،شاہنواز حسین بھی شامل ہیں۔ایسے ہی سچن پائلٹ مسلم بیوی والے شوہر ہیں۔دراصل ہوایی کہ اتر پردیش کے مشہور صنعتی شہر کانپورمیں چند متعصب ہندو تنظیموں نے اس طرح کا الزام عائد کیا تھاکہ مسلم نوجوان مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہندو لڑکیوں سے شادی کر رہے ہیں اور انہیں اس مقصد کے لیے انہیں بیرون ملک سے فنڈحاصل ہورہاہے۔ ان میں سے کئی لڑکیوں نے اپنی پہچان چھپا رکھی ہے۔ اس سنگین معاملہ کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی۔کانپوررینج کے ڈی آئی جی کی تشکیل شدہ ایس آئی ٹی نے ضلع میں مبینہ‘لو جہاد’کے معاملوں کی جانچ رپورٹ کانپور کے آئی جی کو سونپ دی۔ مذکورہ رپورٹ میں ان الزامات کو مسترد کردیا گیا ہے اور تبدیلی مذہب اور ہندومسلم جوڑے کے ازدواجی رشتے سے منسلک ہونے کے معاملے میں کسی طرح کی سازش ،فنڈنگ ، منصوبہ بندی اور زبردستی تبدیلی مذہب کی بات سے انکار کیا گیاتھااورانکوائری میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ رپورٹ ایسے وقت پرمنظرعام پر آئی ،جب یوگی سرکار ریاست میں بڑھتے ‘لو جہاد’کے معاملوں کا حوالہ دےکر اس کے خلاف قانون لانے کا فیصلہ کر کی ہے ۔
عجیب ودلچسپ بات یہ ہے کہ کانپور شہر کے تمام 22 پولیس اسٹیشن میں واقع تمام ہندو مسلم رشتوں کےمشتبہ معاملوں کی جانچ شروع کی گئی،کافی شور وواویلامچایا گیا اور متعصب میڈیا اور نیوزچینلز نے سر چکرانے والے اعدادوشمار بھی پیش کردیئے،لیکن اس کے بعد پیش کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ صرف 14 معاملے ہی سامنے آ سکے، ایس آئی ٹی نے جانچ کی اوراس کی رپورٹ کے مطابق 14 میں سے آٹھ معاملوں میں لڑکیوں نے کہا کہ ان کا تعلق رضامندی اور پیار پر مبنی تھا۔اور زور زبردستی کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتاہے،بقیہ معاملات میں بھی دم نہیں ہے،فی الحال خاموشی طاری ہے،لیکن سانس لینے کے بعد دوسرا ‘ایکشن’ لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
ان سرگرمیوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ آیابی جے پی حکومت کیا واقعی مسلمانوں سے خوف زدہ ہے ،نہیں،بلکہ اس کی ذہنیت آلودہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو حکمرانی کے فرائض کی انجام دہی سے زیادہ ہندوستانی معاشرہ کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے میں دلچسپی نظر آرہی ہے ۔ لوجہاد کے خلاف قانون سازی اور ایک منتخب کابینہ کا دستوری اصولوں کے ساتھ کھلواڑ کیا معنی رکھتا ہے ۔ اتر پردیش کے بعد بی جے پی کی حکمرانی والی کئی ریاستوں نے ‘لوجہاد’ کا شور مچانا شروع کردیا ہے اور قانونی ماہرین نے سوال اٹھائے ہیں ۔ماہرین قانون کا استدلال ہے کہ کسی بھی دستوری زاویہ اور قانونی بنیادسے لو جہاد کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔ دراصل دستور کے آرٹیکل 21 میں ایک شخص کو اس کی مرضی کا مذہب اختیار کرنے اور مرضی سے شادی کرنے کی ضمانت دی گئی ہے ۔ یوپی کابینہ نے لو جہاد کے خلاف جو سخت قانون منظور کیا ہے ،اس نے دستور ہند کا مذاق اڑایا ہے اور اس کے ذریعہ قانون کا غلط مطلب اخذ کیا گیا ہے جب کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ ہندوستان کے آئین کے مطابق کسی بھی شخص کو اپنی پسند کی شادی کرنے اور مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے ۔ اس سلسلہ میں کورٹ سے سلامت انصاری نامی شخص نے رجوع کیا تھا جنہوں نے پرینکا نامی لڑکی سے 19 اگست 2019 کوشادی کی تھی اس شادی پر اعتراضات کرنے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے ہی سلامت انصاری نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جہاں سے انہیں انصاف حاصل ہوا ۔ اس معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا عدالت کواختیارحاصل نہیں ہے تو پھر ایک حکومت اپنی طاقت کے بل بوتے پرمن مانی کرنے اور قانون سازی کا قدم اٹھاتی ہے تو اس پر اعتراضات سامنے آنا ضروری ہیں ۔
یو پی کی آدتیہ ناتھ یوگی حکومت کے ساتھ ساتھ کرناٹک ، آسام ، ہریانہ ، مدھیہ پردیش کی حکومتیں اپنے مسلمان مخالف نظریہ کے ساتھ قانون سازی کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور مسلمانوں سے خوف کا بھی اظہار کررہی ہیں۔ اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ ہمیشہ سے اشتعال انگیز تقاریر کے لیے مشہور ہیں ،انہوں نے مبینہ طور پر وارننگ بھی جاری کی ہے ،ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو ان کا خاتمہ کردیا جائے گا ۔ ایک معزز اور آئینی عہدہ پر فائز شخص کو اس طرح کا دھمکی آمیز بیان اورکھلے طور پرخاتمہ کرنے کی وارننگ دینا بذات خود قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے عہدہ کا حلف لیتے ہوئے ہر ایک کے حقوق اور تحفظ کی بات کہی تھی۔
حال میں یوم دستور پر وزیراعظم نریندر مودی نے بھی دستور ہند کوایک بہترین آئین قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ اور عمل کی بات کہی ہے ،لیکن بی جے پی کی منتخب ریاستی حکومتیں اور گورنرز اس کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،اترر پردیش کی کابینہ کا آرڈینس بین المذاہب کی شادیوں کو روکنے کے لیے ہے تو پھر دستور میں دیئے گئے حق کو سلب کرنے جیسا ہے کیونکہ دستور تو بین المذہبی شادی کی اجازت دیتا ہے اور ایک شہری کواپنی پسندکا مذہب بھی اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔دستور کے خلاف کام کرنے والی یہ حکومت کیاغیر قانونی حکومت کہلائے گی ۔ دستور کے آرٹیکل 25 میں تو ضمیر کی آزادی اور اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کا حق دیا گیا ہے ۔ دو شادی شدہ افراد کے درمیان ازدواجی رشته کو جائز سمجھا جاتا ہے اور یہی ایک فرد کی بنیادی آزادی کا حصہ ہے ۔مرکز اور دیگر ریاستوں میں بی جے پی حکومت کو عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عوام کے دستوری حقوق کو ہی سلب کرنے میں اپنی حکمرانی کا سارا زور لگادے محبت اور شادی کے رشتہ کوبھی بین المذاہب کے تنازع میں الجھا کر یہ حکومتیں ہندوستانی معاشرہ کے ساتھ زیادتی کررہی ہیں ۔ بی جے پی اوراس ملک کے فرقہ پرستوں کو یہ خوف ہے کہ ہندولڑکیاں مسلم لڑکوں سے شادی کرتے ہوئے مذہبی تبدیلی کے رجحان کو فروغ دے رہی ہیں،حالانکہ دوسرے معاملات بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں ،مذکورہ قانون میں مسلم لڑکی ہونے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پھرجس قسم کاپروپیگنڈہ کیا جارہا ہے اس کے ذریعہ ہندوستانی معاشرہ کو نفرت اور فرقہ پرستانہ کشیدگی کی کھائی میں ڈھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ایک خاص مقصد کے تحت ہی بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں نے قانون سازی تیز کر دی ہے جو آگے چل کر خود ہندوستان کے لیے کاری ضرب ثابت ہوگی ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے جہاں ایک طرف ایک مسلمان لڑ کے کی ہندولڑکی سے شادی کو درست قرار دیا ہے اور اس شادی کو ایک فرد کی ذاتی زندگی جینے کا حق بتایا ہے تو اس فیصلے کی روشنی میں بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں کو اپنے منظورشدہ قوانین پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اپنی حکمرانی کے فرائض کی انجام دہی میں تعصب پسندی اور تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔ دستور ہند کا تقاضہ یہی ہے کہ ہندوستان کا ہر شہری اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے ۔ہمیں ہندوستانی معاشرہ کو اس غلط تصور سے بچاناہے اور نفرت و دشمنی کو بڑھاوا دینے والوں کو شکست فاش دیناہے۔تاکہ دستور کی حفاظت ہوسکے۔فی الحال دستور کی دہائی دینے والی بی جے پی ایک الگ ایجنڈے پر کام کررہی ہے اور اقتدار کے نشے میں چور ہے۔
javed jamaluddin@gmail.com 9867647741
