غزہ کی ناکہ بندی توڑنے نکلا ’صمد فلوٹیلا‘ اسرائیل کے لیے بنا سر درد، قافلے پر صیہونی فوج کے ڈرون حملے

غزہ پٹی کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہوا ’صمد فلوٹیلا‘ اسرائیل اور امریکہ کے لیے سر درد بنا ہوا ہے۔ اس قافلے میں درجنوں ملکوں کے لوگ اور 50 سے زیادہ جہاز شامل ہیں جن کا ایک ہی مقصد ہے غزہ میں بھوک سے بے حال لوگوں کو مدد پہنچانا۔

’صمد فلوٹیلا‘ کوئی فوجی مہم نہیں بلکہ ایک انسانی مشن ہے۔’صمد‘ کا مطلب ہوتا ہے ’استقامت‘ یا عزم پر قائم رہنا اور ’فلوٹیلا‘ کا مطلب ہے ’چھوٹے جہازوں کا بیڑا‘۔ تو یہ ’صمد فلوٹیلا‘ 50 سے زیادہ شہریوں کا ایک بیڑا ہے جس میں 44 سے زیادہ ملکوں کے کارکن، ڈاکٹر اور صحافی و مشہور ہستیاں شامل ہیں۔ اس مشن کا مقصد غزہ پر لگی اسرائیل کی 18 سال پرانی بحری ناکہ بندی کو توڑنا، انسانی مدد پہنچانا اور لوگوں پر مبنی ایک گلیارہ قائم کرنا ہے۔

’صمد فلوٹیلا‘ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا، ’جب حکومتیں اور عالمی ادارے ناکام ہو جاتی ہیں تب ہم جیسے عام لوگوں کو آگے آنا پڑتا ہے۔ یہ صرف ایک جہاز نہیں ہے، یہ غزہ کی اس آواز کی علامت ہے جو پوری دنیا میں سنی جانی چاہیے۔

ستمبر 2025 کی شروعات میں یہ ’فلوٹیلا‘ یعنی چھوٹے جہازوں کا بیڑا بحیرہ روم میں ایک ساتھ جمع ہوا۔ اس مشن کا انعقاد فریڈم فلوٹیلا کولیشن، گلوبل موومنٹ ٹو غزہ، مغرب صمد فلوٹیلا اور صمد نوشنترا جیسی تنظیموں نے کیا ہے۔ یہ ایک پوری طرح سے عدم تشدد پر مبنی مشن ہے جس کے انعقاد کاروں نے عالمی قوانین کے تحت پوری طرح سے جائز بتایا ہے۔ حالانکہ اس یاترا کے شروع ہوتے ہی اس پر مشتبہ ڈرون حملے ہوئے اور اسرائیل نے اسے روکنے کی قسم کھائی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading