عیدالفطر کی نماز : انسانیت کے نام اہم پیغام اور چند ضروری ہدایات
تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
آپ تمام قارئین کرام کو عید کی مبارک باد "عید مبارک"
تقبل اللہ منا و منکم الصیام و القیام و صالح الاعمال۔
الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله
والله اكبر الله اكبر ولله الحمد
محترم قارئین :عید الفطر اسلام کے دو عظیم تہواروں میں سے ایک ہے جو رمضان المبارک کے اختتام پر بطور تحفہ ہمارے رب نے ہمیں عنایت فرمایا ہے، ہمیں اسے منانے کا حکم دیا ہے" و لتکملوا العدة ولتكبروا الله علي ما هداكم ولعلكم تشكرون"۔ تاکہ تم گنتی کے دنوں کو پورا کرو اور اللہ نے تمہیں جو توفیق دی اس پر تم اس کی بڑائی بیان کرو اور اس کا شکر بجا لاو۔
موجودہ وقت میں کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے پیش نظر اس بار عید کی رونق پہلے جیسی نہیں ہے عید کی نماز ہمیشہ کی طرح بڑی جماعت کے ساتھ عید گاہوں اور مسجدوں و کھلے میدانوں میں اس کا اہتمام نہیں ہے، بلکہ اپنے اپنے گھروں میں مخصوص انداز میں وقت مقررہ پر ادا کی جائے گی پھر بھی عیدالفطر کے جو خصوصی مسائل ہیں حتی المقدور ان کا جاننا اور ان پر عمل کی کوشش کرنا ضروری ہے ۔
عید کا یہ موقع مسرت و شادمانی کا موقع ہے: صحیح بخاری(١٩٠٤)اور صحيح مسلم (١١٥١)کی روایت میں ہے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، ( روزے دار کے لئے اللہ تعالی نے خوشی کے دو مواقع اور خوشی کے دو وقت رکھے ہیں، ایک تو اس وقت جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسرے اس وقت جب اللہ تعالی سے اس کی ملاقات ہوگی،
آج ہمارے دل خوشی اور مسرت سے لبریز ہیں، ہمارے جسم کے تمام اعضاء مسرت اور شادمانی سے جھوم رہے ہیں، آج ہم بہت خوش ہیں، اللہ تعالی نے اپنے فضل اور توفیق سے ہم کو یہ خوشی عنایت کیا ہے اس لیے عید کا یہ موقع مسرت و شادمانی کا موقع ہے۔
اللہ تعالی نے رمضان المبارک کی فرضیت کا جو مقصد بیان کیا تھا "لعلکم تتقون" تاکہ تمہارے دلوں کے اندر اللہ کا خوف، اللہ کی خشیت اور اللہ کا ڈر پیدا ہو جائے، رمضان کی فرضیت کا یہ مقصد آپ کے دل میں پیدا ہو آپ اپنے نفس کا جائزہ لے کر آپ اپنے ضمیر کا احتساب کر کے رمضان میں کیا پایا کیا کھویا، رمضان کا جو اثر مرتب ہونا چاہیے وہ آپ کی ذات پر کیا مرتب ہوا دیکھیں اور رمضان المبارک کے بعد بھی اپنی نیکیوں کو جاری وساری رکھیں۔
آج کا یہ دن، خوشی کا یہ موقع اللہ رب العالمین نے ہم انسانوں کو جو عطا کیا ہے وہ اس لیے کہ خوشی کی اس مناسبت سے اللہ کا شکر بجالانا چاہیے۔
عید کا مقصد یہ ہے کہ روح کی پاکیزگی، نفس کی تطہیر اور انسانی قلب کا تزکیہ و صفائی کر کے رب العالمین کی بارگاہ میں نذرانہ تشکر اور نذرانہ سجدہ کے ذریعہ اللہ کی رضا حاصل کی جائے، دوسروں کی خوشی میں شریک ہوا جائے یا دوسروں کو اپنی خوشی میں شریک کرنے کا انتظام کیا جائے۔
یہ اجتماعیت کی عید ہے، آپسی میل جول کی عید ہے، ایک دوسرے کو خوشیاں تقسیم کرنے کی عید ہے، آج کا دن دوسروں کو اپنی مسرتیں تقسیم کرنے کا دن ہے، آج کے دن دوسروں کے غم مٹانے کا دن ہے، آج کا دن دوسروں کے ساتھ گھل مل کر انہیں جذبہ مودت پیش کرنے کا دن ہے، محبت و الفت کی گنگا جمنی اور اتحاد و اخوت کے سمندر میں سماج کو ڈبو دینے کا دن ہے اس لیے اخلاص قلب کے ساتھ، دل کی گہرائی کے ساتھ اور دل کی سچائی کے ساتھ آپ یہ عزم کیجیے کہ عید کی یہ مناسبت اور عید کا موقع جو اللہ رب العالمین نے ہم کو عطا کیا ہے، اس کو بھرپور طریقے سے استعمال کریں گے، اپنے دلوں کو پاکیزہ بنانے، اپنے نفس کا تزکیہ کرنے اور اپنے قلب کو صاف کرنے کی کوشش کریں گے، اور دوسروں کی خوشی میں شریک ہوکر یا دوسروں کو اپنی خوشی میں شریک کرکے اپنے دل کی کدورتوں کو، اپنے دل کی نفرتوں کو، اپنے دل کے میل اور کچیل کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہم اللہ رب العالمین سے یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ رب العالمین تو ہماری غلطیوں کو بخش دے، اللہ رب العالمین تو ہمارے گناہوں کو معاف کردے، اللہ رب العالمین تیرے حقوق کی ادائیگی میں ہم نے جو کوتاہی کیا ہے اس کو تو درگزر کر دے.
تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک مسلمان/مومن نہیں ہو سکتا جب تک جو بھلائی اپنے لیے پسند کرتا ہے وہ اپنے بھائی کے لئے بھی پسند نہیں کرلیتا،(بخاري:١٣)
میں آپ سے عرض یہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ عید کی اس پرمسرت مناسبت سے ہم سب کو اپنے لباس اور اپنے بدن کی پاکی کی طرح سے اپنے دل کی پاکی کا اہتمام کرنا چاہیے، اپنے نفس کی تطہیر کا سامان کرنا چاہیے، اپنے ضمیر کو منزہ اور مصفی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی مغفرت ہوجائے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کے سلسلے میں میدان محشر میں آپ کا مواخذہ نہ کیا جائے، اور دنیا میں آپ اپنی ناک اور انانیت کے حفاظت کی خاطر اللہ کے دین کو پامال کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے، اللہ کے بندوں کو اپنے انتقام کا نشانہ بنانے میں آپ کو کبھی بھی ذرا بھی عار محسوس نہیں ہوتی
تو سنیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
حدیث "إنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ يقولُ يَومَ القِيامَةِ: يا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، قالَ: يا رَبِّ كيفَ أعُودُكَ؟ وأَنْتَ رَبُّ العالَمِينَ، قالَ: أما عَلِمْتَ أنَّ عَبْدِي فُلانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أما عَلِمْتَ أنَّكَ لو عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قالَ: يا رَبِّ وكيفَ أُطْعِمُكَ؟ وأَنْتَ رَبُّ العالَمِينَ، قالَ: أما عَلِمْتَ أنَّه اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلانٌ، فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أما عَلِمْتَ أنَّكَ لو أطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذلكَ عِندِي، يا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ، فَلَمْ تَسْقِنِي، قالَ: يا رَبِّ كيفَ أسْقِيكَ؟ وأَنْتَ رَبُّ العالَمِينَ، قالَ: اسْتَسْقاكَ عَبْدِي فُلانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ، أما إنَّكَ لو سَقَيْتَهُ وجَدْتَ ذلكَ عِندِي."( مسلم: ٢٥٦٩)
کہ اللہ رب العالمین بندے سے کہے گا اے بندہ! میں بیمار ہوگیا تو میری عیادت اور بیمار پرسی کرنے نہیں آیا، بندہ کہے گا اللہ تعالی تو رب العالمین ہے میں تیری بیمار پرسی کیسے کرتا؟ اللہ تعالی نے کہا میرا فلاں بندہ بیمار تھا اگر تم اس کی عیادت کرنے آتے تو وہاں تم مجھ کو پاتے، اے ابن آدم! میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، بندہ کہے گا کہ اے اللہ تو رب العالمین ہے، ساری دنیا کے رزق کا ذمہ دار تو ہے اور میں تجھے کھانا کھلاؤں؟ کہا ہاں، میرا فلاں بندہ بھوکا تھا اگر تو اس کی خوراک کا انتظام کرتا تو وہاں تو مجھے پاتا ۔
آپ اللہ تعالی سے چاہتے ہیں کہ اللہ رب العالمین آپ کی مغفرت کردے اور آپ اللہ کے بندوں کے ساتھ ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں۔
ذرا سوچئے گا آپ عید کا مطلب ہے خوش ہونا، دوسروں کی خوشی میں شریک ہونا اور دوسروں کو اپنی مسرت میں شریک کرنا، اور جب آپ کا دل آلودہ ہے، آپ کا ضمیر میلا ہے، آپ کے دل میں نفرت و حسد کی آگ بھڑک رہی ہے پھر اللہ رب العالمین کی مغفرت اور یہ خوشی آپ کو کیسے میسر ہوگی؟؟
عید کا پیغام ہےکہ اگر آپ کے دل میں اللہ کی مخلوق کے تئیں، اللہ کے بندوں کے تئیں حسد، عداوت، دشمنی، نفرت، بغض اور اس جیسے دوسرے زہریلے جراثیم پرورش پا رہے ہیں تو ان کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، ان سے اپنے دلوں کو پاک کرنے کی ضرورت ہے۔
اس لئے آپ یاد کر لیں کہ آج عید کے دن سچائی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملنے کی ضرورت ہے، یہ جو گلے ملنے کی ریت چلتی ہے یہ دکھاوا اور مکاری ہے یہ اللہ رب العالمین کو مطلوب نہیں ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آٹھ عیدیں گزریں، پھر خلفائے راشدین کے زمانے میں تقریبا بائیس عیدیں گزریں، ان میں آپ دیکھئے کہیں بھی آپ کو ایسا نہیں ملے گا کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام عید سے فارغ ہونے کے بعد ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہوں، معانقہ کر رہے ہوں، مگر ان میں ایسے لوگ موجود تھے جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا میں جنت کی بشارت دی تھی، اس میں عبداللہ بن سلام ، سعد بن ابی وقاص ، اسی طرح ابوذرغفاری، سلمان فارسی، ابوالدرداء وغیرہ کے واقعات ہمارے پاس موجود ہیں، ان کے دلوں میں اللہ کی مخلوق کے بارے میں کبھی دشمنی، بغض، نفرت اور عداوت کا جذبہ پروان نہیں چڑھنے پاتا تھا، اختلافات ہوتے تھے، جھگڑے ہوتے تھے، رائے، سوچ اور فکر کا اختلاف بھی پایا جاتا تھا مگر ہر آدمی دوسرے کے سامنے بڑی عاجزی سے کہا کرتا تھا کہ غلطی میری ہے میرے بھائی مجھے معاف کردو، دوسرا کہتا تھا کہ نہیں غلطی میری ہے تم مجھے معاف کردو۔( بخاری(٣٦٦١)
دیکھو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان جب جھگڑا ہوا تو ابوبکر کا اصرار ہے کہ غلطی میری ہے، عمر کا اصرار ہے کہ نہیں غلطی میری ہے، تو دلوں کی پاکیزگی اور نفوس کی طہارت اپنی جگہ پر قائم رہی، مگر جب یہ تصور انسانی دماغ سے محو ہو گیا اور ایک غلط نظریہ پروان چڑھا کہ میں اس سے معافی مانگنے جاؤں گا؟ ارے اس کی میرے سامنے کیا حیثیت و وقعت ہے؟ اور جب آپ اپنی ناک اور انا کی حفاظت کے چکر میں لگ گئے تو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان آپ کی نظر سے اوجھل ہو گیا۔
نبی نے کہا تھا. "مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَذَلِكُمُ الْمُؤْمِنُ" (سنن ترمذي: ٢١٦٥)
جو اپنی نیکیوں سے خوش ہو اور اپنی برائیوں سے تکلیف محسوس کرے، اپنے گناہوں سے غمزدہ ہوجائے وہ مومن ہے۔
اور جو آدمی فخریہ طور پر برملا اللہ کی معصیت کا اعلان کرتا پھرے، اور دعوی کرے کہ میں نے تو اس کو ایسا سبق سکھا دیا ہے کہ زندگی بھر یاد رکھے گا، میں نے تو اسے وہ سبق پڑھا دیا ہے کہ مرتے دم تک اس کی سات پشتیں اس سبق کو نہیں بھول پائیں گی-
بتائیں میرے بھائیو! آپ اپنی غلطی پر نادم ہوئے یا شیطان نے آپ سے آپ کا ایمان چوری کرلیا اور آپ کو پتہ بھی نہیں چل سکا، آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوسکا۔
اس لیے متنبہ ہونے کی ضرورت ہے، سنبھلنے کی ضرورت ہے، اور عید کے اس پیغام کو اپنے دل میں جگہ دینے کی ضرورت ہے کہ عید صرف یہ نہیں ہے کہ سفید اور خوبصورت کپڑے پہن لیا، عید صرف یہ نہیں ہے کہ خوشبوؤں سے اپنے آپ کو معطر کر لیا، عید صرف یہ نہیں ہے کہ یہ کرلیا وہ کر لیا، عید کا ایک اہم پیغام وہ ہے، عمر بن خطاب، ابوبکرصدیق، عبدالرحمن بن عوف اور ان جیسی سینکڑوں عظیم الشان ہستیاں ہیں جن کے درمیان کبھی خط امتیاز نہیں کھینچا جاتا تھا اور یہ تفریق نہیں کی جاتی تھی کہ یہ خانہ بہ در، بے گھر اور بے دست و پا لوگ ہیں، اور یہ جاگیردار اور وقت کے پہنچے ہوئے لوگ ہیں، یہ تفریق نہیں پائی جاتی تھی۔
آپ کی یہ زندگی اور آپ کی معیشت کا یہ انتظام جو اللہ رب العالمین نے آپ کو عطا کیا وہ صرف اس لئے نہیں ہے کہ آپ اس میں محو و مگن رہیں، اس میں آپ خود کو ڈبوئے رکھیں، اور اس کے بعد عید کی مناسبت آئے، خوشی کا اظہار کیا نئے کپڑے پہنے اور بات ختم ہوگئی۔
جو عید کا پیغام ہے،وہ یہ ہے عید کا وہ درس جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ذریعہ ہم دنیا کے انسانوں کو پہنچایا، اس لئے میں آپ تمام حضرات سے عرض کرتا ہوں کہ اللہ رب العالمین نے آج ہمیں خوشی کا موقع دیا ہے، خوشی کے یہ لمحات اور خوشی کے یہ جذبات اللہ رب العالمین نے ہمیں عطا کئے ہیں، اس لیے خوشی کی اس مناسبت سے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کی ہم لوگوں کو کوشش کرنی چاہیے، اور رب کی رحمت اور مغفرت کی راہ میں اگر کوئی روڑا ہے، کوئی رکاوٹ ہے تو اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سب سے بڑی بات یہ ہے جسے رمضان بھر ہم دہراتے رہے بالخصوص آخری عشرے میں اور آخری عشرے کی طاق راتوں میں بار بار پڑھتے رہے، " اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ " (ترمذي: ٣٥١٣, ابن ماجه: ٣٨٥٠)
اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، اس لئے تو مجھ کو معاف کر دے، گویا کہ اللہ کی معافی کا کوئی طلب گار ہے تو اسے معافی کا راستہ اپنانا چاہیے، عفودرگذر کی راہ پر اپنے آپ کو ڈالنا چاہیے، اگر اسے اللہ کی مغفرت کی امید ہے تو اسے اللہ کے بندوں کے ساتھ مغفرت کا طریقہ اپنانا چاہئے، اس کے بغیر آپ دوغلے پن کے شکار مانے جائیں گے، اس کے بغیر آپ نفاق کے شکار مانے جائیں گے، کیونکہ اللہ سے تو آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کو معاف کردے مگر آپ دوسروں کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، آپ دوسروں کو درگزر کرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ نہیں کر پاتے۔
اس لیے اس تصور کو، اس تھیوری کو چینج کرنے کی ضرورت ہے۔
میں آپ سب سے ادبا گزارش کرتا ہوں کہ جس طرح آپ نے دوسری چیزوں کو بدن، کپڑے وغیرہ کو مطہر و معطر اور ظاہری چمک دمک کرنے کی کوشش کی ہے، اسی طرح سے آپ اپنے دل کو بھی صاف ستھرا، پاکیزہ بنانے کی کوشش کیجئے، تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ضمیر میں خود جھانک کر اپنے دل سے فیصلہ لینے کی کوشش کیجئے، اور اگر ایسی رکاوٹ کوئی پائی جارہی ہے تو ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کیجئے۔
اللہ رب العالمین سے میری دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے اور انہیں اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اللہ رب العالمین ہماری تمام عبادتوں کو شرف قبولیت سے نوازے اور ہمیں دین کا سچا شیدائی، اپنی شریعت کا سچا علمبردار بنائے اور ہماری زندگی میں سنت کی وہ روشنی اور سنت کا وہ عکس پیدا فرمائے کہ اسے دیکھنے کے بعد ایک اجنبی انسان کو یہ پتہ چل سکے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شیدائی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر اپنے آپ کو قربان کر دینے والا ہے۔
اللہ رب العالمین ہمیں ان باتوں کی توفیق عطا فرمائے
و آخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، أقول لكم ما تسمعون و استغفر الله لي و لكم۔
آج کی اس پچیس مئی سن ٢٠٢٠ عیسوی کی عیدالفطر کی نماز کے لیے چند ضروری ہدایات:
1۔عید کا چاند دیکھنے کا اہتمام اور عید کا چاند دیکھ کر تکبیرات کہنا شروع کرنا،چاند دیکھنے کے بعد سے عید کی نماز کے لیے امام کے حاضر ہونے تک کثرت سے تکبیر پڑھنا (اللہ أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد و دیگر الفاظ تکبیر)[ابن ابی شیبہ: 5652]
2. نماز عیدالفطر سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا۔
صدقة الفطر ادا کرنا واجب وفرض ہے۔جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہے۔
عن نافع عن ابن عُمرَ رضي الله عنهما قال: فرَضَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم زكاةَ الفِطْر صاعاً من تمرٍ، أو صاعاً من شعيرٍ، على العبدِ والحُرِّ، والذَّكرِ والأنثى، والصغيرِ والكبيرِ، منَ المسلمينَ، وأَمرَ بها أن تؤدَّى قبلَ خروجِ الناسِ إِلى الصلاةِ. (رواہ البخاری: ۷۱۹)۔
3. صدقۃ الفطر کی ادائیگی کچھ دن پہلے بھی کر سکتے ہیں۔
جیسا کہ اس روایت سے پتہ چلتا ہے
" وكانَ ابنُ عُمرَ رضي الله عنه يُعطيها الذينَ يَقبلونها، وكانوا يُعطُونَ قبلَ الفِطرِ بيومٍ أو يومَين (رواہ البخاری: ۷۱۹)"
صدقة الفطر کی مقدارفی کس ایک صاع ہے ۔اس صاع سے مراد صاع حجازی ہے جس کا موجودہ احوط وزن ڈھائی کلو سے تین کلو کے درمیان ہے۔
4۔ صدقۃ الفطر میں غلہ روز مرہ کی عام غذا سے ادا کرنا صریح نص سے ثابت ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
عن أبي سعيدٍ الخُدْريّ رضي الله عنه قال:" كنَّا نُخرِجُ في عهدِ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم زكاةَ الفِطرِ، صاعاً من طعامٍ، أو صاعاً من شعيرٍ، أو صاعاً من تمرٍ، أو صاعاً من أَقِطٍ ، أو صاعاً من زبيبٍ، وفي روايةٍ: طعامٍ، وقال أبو سعيد: وكانَ طعامُنا الشعيرَ والزبيبَ والأَقِطَ والتمرَ. [فلما جاءَ معاويةُ، وجاءتِ السمراءُ ، قال: أُرَى مُدّاً من هذا يَعدِلُ مُدَّين (البخاری ۷۲۰).
نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین بھی غلہ ہی نکالتے تھے دینار ودرھم نہیں ، جبکہ اس وقت دینار و درہم دستیاب تھے۔
اس لیے غلہ ہی سے فطرہ ادا کرنا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
5. صدقة الفطر پیسہ سے ادا کیا جاسکتا ہے ۔
بعض علماء كرام اناج کے بجائے نقد یعنی روپیہ سے صدقۃ الفطر ادا کرنے کے قائل ہیں۔لہذا جس کا دل اس سے مطمئن ہو وہ روپیہ /قیمت کے ذریعہ فطرہ ادا کرسکتا ہے۔
جبکہ اختلاف سے بچنا اور نص صریح پر عمل کرنا ہی زیادہ بہتر اور اولی ہے ۔
6۔غسل کرنا۔
7۔ عمدہ لباس زیب تن کرنا اپنے پاس موجود کپڑوں میں جو نسبتاً اچھے ہوں انہیں پہننا ۔
8. خواتین اور بچوں کا بھی عید کے اجتماع میں حاضر ہونا
9۔خوشبو، تیل اور مسواک کا استعمال۔(ابن ماجہ: 1098)
10۔ نماز عید سے قبل طاق کھجور یا کوئی میٹھی چیز کھانا۔(بخاری: 953)
11۔عید کی نماز ادا کرنے تک تکبیرات کہنا۔
تکبیرات: الله اکبر الله اکبر لا اله الا الله والله اکبر الله اکبر ولله الحمد:(مصنف ابن ابی شیبہ 5652)
12۔نماز دوگانہ(عید الفطر کی دو رکعت نماز ادا کرنا :
پہلی رکعت:تکبیر تحریمہ،دعاء ثناء، اورسات زائد تکبیریں،تلاوت قرآن(فاتحہ و سورہ اعلی یا ق یا کوئی اور یا بعض آیات)، رکوع، سجدتین۔
دوسری رکعت: تکبیر انتقال کے بعد پانچ زائد تکبیریں پھر تلاوت(فاتحہ و سورہ غاشیہ یا قمر یا کوئی اور یا بعض آیات)،رکوع، سجدتین، تشھد پھر تسلیمتین۔
13۔ان زائد تکبیروں میں کمی بیشی ہوجائے یا یہ فوت ہوجائیں تو کوئی حرج نہیں، نماز بالکل صحیح و درست ہوگی۔
14۔ پہلی رکعت کی زائد تکبیروں کی تعداد میں اختلاف ہے، بعض مع تکبیر تحریمہ کے سات7 کے قائل ہیں، اور بعض تکبیر تحریمہ کے علاوہ سات(والأمر فيه واسع) البتہ ہمارے ماحول میں عام فتوی اور عمل تکبیر تحریمہ کے علاوہ سات پر ہے اس لیے اسی کو اختیار کرنا مناسب ہے تاکہ انتشار نہ ہو(واللہ اعلم بالصواب)۔
15۔ ان زائد تکبیرات میں رفع یدین پر بھی اختلاف ہے اور معاملہ میں وسعت ہے لیکن کسی صحیح و صریح دلیل سے ثابت نہیں اس لیے نہ کرنا بہتر ہے(واللہ اعلم بالصواب)۔
16۔گھر مین نماز عید کے بعد خطبہ پر بھی اختلاف ہےوالأمر فيه واسع، لیکن اکثر علماء عرب و عجم کے فتاوے، رجحانات اور رائے یہی ہے کہ خطبہ نہ دیا جائے۔
17۔کسی بھی مرد ذات کی موجودگی میں عورت امامت نہیں کرسکتی۔
18۔عورت جب امامت کرے گی تو صف سے آگے نہیں بلکہ درمیان صف میں کھڑی ہوگی۔
19۔ نماز عید کے لیے نہ اذان مشروع ہے اور نہ اقامت۔
20۔ نماز عید سے قبل و بعد کوئی نفل و سنت ثابت نہیں۔
21۔ نماز عید کا وقت شروق شمس کے تقریبا بیس منٹ بعد سے زوال سورج تک ہوتا ہے۔
22.نماز عید کا طریقہ
تکبیر تحریمہ کے بعد دعائے ثنا پڑھیں، پھر سات تکبیرات زوائد کہیں، پھر سورہ فاتحہ اور کوئی سورہ پڑھ کر رکوع میں جائیں، دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہونے کے بعد پانچ تکبیرات زوائد کہیں، پھر سورہ فاتحہ اور کوئی سورہ پڑھ کر رکوع میں جائیں۔
عید کی پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قاف یا سورہ اعلی پڑھنا اور دوسری رکعت میں سورہ قمر یا سورہ غاشیہ پڑھنا مسنون ہے۔ اگر یہ سورتیں یاد نہ ہوں تو کوئی بھی سورہ پڑھی جا سکتی ہے۔
23۔ خطبہ عید ایک ہے، نماز عید کے بعد ہے، اور اس کے لیے منبر مشروع نہیں نیز منفرد کے لیے خطبہ عید نہیں۔
گھروں میں باجماعت نماز عید ادا کرنے کی صورت میں خطبہ بھی دیا جائے گا یا نہیں؟ اس سلسلے میں بڑی بحثیں ہو رہی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ علماء کی اس سلسلے میں دو طرح کی رائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ خطبہ بھی عید کے خطبہ کی طرح دیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ خطبہ نہیں دیا جائے گا، صرف دو رکعت نماز پر اکتفا کیا جائے گا۔ لہذا ان دونوں رایوں میں سے جس پر آپ مطمئن ہوں عمل کریں۔ بحث و تکرار سے پرہیز کریں۔
واضح رہے کہ اگر عید کی نماز تنہا پڑھیں گے تو خطبہ کی ضرورت نہیں ہے۔
24۔عید کے روز ملاقات پر تقبل اللہ منا ومنك کے الفاظ سے دعاو مبارک باد دینا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔
25۔ ہر وہ مباح کام جسے لوگ عادتا انجام دیتے ہیں اس میں وسعت ہے، اس کے دائرے کو تنگ کرنا مناسب نہیں، اگر لوگوں کی عادت عید کے دن معانقہ کرنا یعنی ایک دوسرے سے گلے ملنا ہے تو انہیں ملنے دیا جائے اس میں تنگی نہ پیدا کی جائے.واللہ اعلم بالصواب
لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزید چند اہم اقدامات:
• حکومتی ہدایات اور ملک کے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے حد درجہ احتیاط .
• عیدالفطر کی نماز کے لیے کہیں بھی کسی بڑے اجتماع کا انعقاد بالکل نہ کریں، ہر گھر کے لوگ اپنے اپنے گھر میں نماز پڑھیں۔
• عیدالفطر کی نماز کے علاوہ بھی کہیں بھیڑ بھاڑ بھی نہ لگائیں خصوصی طور پر گھروں کی چھتوں یا ٹیرس وغیرہ پر بھی بھیڑ بھاڑ سے پرہیز کریں۔
• عید الفطر کا یہ تہوارسادگی کے ساتھ منائیں، اپنے بال بچوں پر بھی نظر رکھیں کہ وہ کوئی خلاف قانون اور خلاف شرع کام نہ کریں۔
•حاجت مندوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھیں۔
• مختلف شہروں سے اپنے علاقوں کی طرف پیدل یا سواری سےسفر کرنے والوں کی خدمت کریں۔
• کورونا وائرس کے خاتمہ کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب.
خلاصہ کلام:
عید اسلام کا ایک عظیم الشان ظاہری شعار ہے لھذا صدقہ فطر نکالنا، بلند آواز سے تکبیر کہنا، غسل کرنا، خوشبو لگانا، بال بچوں کے ساتھ عید گاہ جانا اور عید کا دوگانہ ادا کرنا، ایک دوسرے کو قبولیت عبادت کی دعائیں اور عید کی مبارک باد دینا، یہ سارے اعمال ہمیں اس عید کی اہمیت بتلانے کے لئے کافی ہیں اور عید نہ منانا، عید کے موقع پر خوشی کا اظہار نہ کرنا، بال بچوں کے حسن تعامل کا مظاہرہ نہ کرنا، اللہ کی نعمت سے ناقدری و اعراض اور ناشکری ہے ، یہ کسی مسلمان کی شان نہیں ہو سکتی، ہم مسلمان حالات کی نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئےضرور عید منائیں، گھروں کے اندر رہ کر عید کی سنتوں کو حتی’ الامکان ادا کریں، تکبیر و تسبیح زبان سے ادا کرتے رہیں، بال بچوں کے ساتھ خوشی کا مظاہرہ کریں، حسب توفیق اچھے لباس اور اچھے کھانوں کا اہتمام کریں، رشتہ دار اور دوست و احباب سے شوشل میڈیا کے ذریعہ مبارک باد اور دعاوں کا ضرور تبادلہ کریں، کوئی ضرورت مند جو بھی ارد گرد یا اس پاس ہوں ان کی خبر گیری کریں، کوئی ہمارے دروازہ پر آ جائے تو اس کی اشک سوئی کردیں۔
اخیر میں دعا گو ہوں کہ اے الہ العالمین ہمارے صیام و قیام، صدقات و خیرات و دیگر نیکیوں کو قبول فرما، بعد رمضان بھی ان اعمال پر ثابت رہنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں استقامت عطا فرمائے، ہمارے گناہوں کو معاف کردے ، ہمیں ان خوش نصیب لوگوں میں سے بنادے جن کے لئے ماہ رمضان مغفرت کا مہینہ ثابت ہو اور ہم سے اور پورے عالم سے کرونا کی وبا کا خاتمہ فرماکر ہم سب کو راحت و چین نصیب فرما دے۔( آمین )
afrozgulri
Whatsapp:7379499848
25/05/2020