عاشق کیلئے مذہب تبدیل کرنےوالی لڑکی کوقتل کردیاگیا

khushi-murder-case

ناگپور:(ایجنسیز)بوائے فرینڈ کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے کیلئے 19 سال کی ایک ماڈل نے اپنا مذہب تبدیل کرلیا تھا۔ مس انڈیا 2019 کی ٹاپ فائنلسٹ رہی خوشی جگدیش پریہار نے تین جولائی 2019 کو اپنا مذہب تبدیل کیا تھا۔ جس عاشق نے کیلئے اس ماڈل نے اپنا مذہب تبدیل کیا ، اسی نے اس کا بے رحمی سے قتل کردیا۔ لاش کی شناخت نہ ہوسکے ، اس کیلئے بوائے فرینڈ نے خوشی کے چہرے پر پتھر سے کئی وار کئے۔ماڈل کے جسم پر بنے کئی ٹیٹو سے پولیس نے اس کی شناخت کی۔ یہ معاملہ مہاراشٹر کے ناگپور ضلع کا ہے۔ اپنے بوائے فرینڈ اشرف شیخ عرف آشو کے ساتھ لیو ان میں رہ رہی خوشی ناگپور ضلع کے ہنگنا علاقہ کی رہنے والی تھی۔ بوائے فرینڈ نے ٹائر کھولنے والے اوزار سے چلتی کار میں اس کے سر پر وار کرکے قتل کردیا۔ ہفتہ کو خوشی کی لاش ساوڈی فاٹا کے پاس ایک سنسان علاقہ میں پڑی ملی۔خوشی نے موت کے وقت ماڈلوں جیسے کپڑے اور لانگ بوٹ پہن رکھی تھی۔ سوشل میڈیا پر جائے واردات کی تصویر وائرل ہوئی ، تو پتہ چلا کہ جان گنوا چکی لڑکی کا نام خوشی پریہار ہے۔ اس کے ہاتھ پر لو برڈ کا ٹیٹو تھا ، جس پر خوشی اور آشو لکھا تھا۔ اس کے سینے کے پاس کوئین بھی گودا ہوا تھا۔ اس ٹیٹو سے اس کی شناخت کرنے میں مدد ملی۔پولیس نے قتل کا معاملہ درج کرکے ماڈل کے بوائے فرینڈ کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے واردات میں استعمال کی گئی کار کو بھی ضبط کرلیا ہے۔ بوائے فرینڈ نے پولیس کو بتایا کہ جمعہ کو دونوں نے ناگپور کے ایک مال سے تقریبا چھ ہزار روپے کی خریداری کی تھی۔ یہیں سے اس نے وہ کالے رنگ کی ٹی شرٹ بھی خریدی تھی ، جو ماڈل نے پہن رکھی تھی۔ قتل کے بعد اسی ٹی شرٹ کے بار کوڈ سے خوشی کی لاش کی شناخت کی گئی۔پولیس کے مطابق خوشی کو ماڈلنگ کا شوق تھا ، اس لئے وہ فیشن شو میں شامل ہوتی تھی۔ اپنا شوق پورا کرتے ہوئے وہ زندگی اپنے طریقہ سے جینا چاہتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس نے غریب والدین کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اس کو پب ، کلب اور عالیشان ہوٹلوں میں جانا پسند تھا۔ ایک پب میں ہی خوشی کی اشرف سے ملاقات ہوئی تھی ، جس کے بعد دونوں میں دوستی ہوئی اور پھر دونوں لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے لگے۔(بہ شکریہ اردو نیوز18)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading