شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ ان مظاہروں کے درمیان مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) ستیہ نڈیلا نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات فکر انگیز ہیں۔ نڈیلا نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ جو ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ میں ایک ایسے بنگلہ دیشی مہاجر کو دیکھنا چاہوں گا جو ہندوستان آتا ہے اور انفوسس کا اگلا سی ای او (چیف ایگزیکٹیو افسر) بنتا ہے۔‘‘
Asked Microsoft CEO @satyanadella about India's new Citizenship Act. "I think what is happening is sad… It's just bad…. I would love to see a Bangladeshi immigrant who comes to India and creates the next unicorn in India or becomes the next CEO of Infosys" cc @PranavDixit
— Ben Smith (@BuzzFeedBen) January 13, 2020
بعد میں ایک دیگر بیان میں ستیہ نڈیلا نے کہا کہ ’’مجھے اس جگہ پر بہت فخر ہے جہاں مجھے اپنی ثقافتی وراثت ملتی ہے اور میں ایک شہر، حیدر آباد میں پرورش پائی ہے۔ مجھے ہمیشہ لگا کہ یہ بڑا ہونے کے لیے ایک شاندار جگہ ہے۔ ہم نے ساتھ مل کر عید، کرسمس، دیوالی… تینوں تہوار منائیں، جو ہمارے لیے بڑے ہیں۔‘‘
Statement from Satya Nadella, CEO, Microsoft pic.twitter.com/lzsqAUHu3I
— Microsoft India (@MicrosoftIndia) January 13, 2020
نڈیلا کی جانب سے مائیکرو سافٹ انڈیا کے ذریعہ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہر ملک کو اپنی سرحدوں کو متعارف کرنے، قومی تحفظ یقینی کرنے اور امیگریشن پالیسی مقرر کرنے کا حق ہے۔ جمہوریت میں یہ سب عوام اور حکومت کے درمیان بحث سے منظر عام پر آتا ہے۔
I am glad Satya Nadella has said what he has. I wish that one of our own IT czars had the courage and wisdom to say this first. Or to say it even now. https://t.co/KsKbDUtMQk
— Ramachandra Guha (@Ram_Guha) January 13, 2020
ستیہ نڈیلا کے بیان کے بعد تاریخ داں رام چندر گوہا کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے ستیہ نڈیلا کے مذکورہ بیان کا استقبال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ ستیہ نڈیلا نے وہ کہا جو وہ محسوس کرتے تھے۔ یہ دانشمندی کی بات ہے۔ رام چندر گوہا نے شہریت ترمیمی قانون کو ہندوستانی آئین کے خلاف بتایا ہے اور انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری کے دیگر لوگ بھی یہ کہنے کی ہمت دکھائیں۔
قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون 2019 پارلیمنٹ سے پاس ہونے اور صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد 10 جنوری سے پورے ملک میں نافذ ہو گیا ہے۔ مودی حکومت نے اس سلسلے میں 10 جنوری کو نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ لیکن اس قانون کے خلاف ملک کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرہ جاری ہیں۔ اس قانون کو لے کر ملک کے کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو