حیدرآباد: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شہر حیدرآباد میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے دھرنا چوک، اندرا پارک پر دھرنا دیا گیا۔ اس دھرنے میں سماجی کارکنوں، مذہبی اسکالرس، مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مقررین نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس قانون کو واپس لیا جائے اور ملک بھرمیں این آر سی پر عمل کو روکا جائے۔ اسی دوران جامع مسجد دار الشفا میں اتوار کے روز بعد نماز فجر دعائے قنوت نازلہ کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا حسام الدین ثانی عامل جعفر پاشاہ امیر امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و رکن مسلم پرسنل لابورڈ نے اس دعا کی نگرانی کی۔ دعا میں سینکڑوں کی تعداد میں شہر کے مختلف مقامات سے عوام کی کثیر تعداد نے سردی کی پرواہ کیے بغیر شرکت کی۔ اس موقع پر اس قانون کے خلاف شعور بیدار بھی کیا گیا۔
بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا جعفرپاشاہ نے اس قانون کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے اس موقع پر حکومت پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ حکومت کسی نہ کسی بہانے سے بل لانا جانتی ہے۔ دلوں کو جوڑنا نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج درج کروایا گیا لیکن اب دعائے قنوت نازلہ کے ذریعہ اس معاملہ کو اللہ سے رجوع کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ درحقیقت ہمیں مالک حقیقی کو راضی کرتے ہوئے اس کے سامنے رجوع ہونے، توبہ و استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتشار اور نفرتوں کا سبب بننے والا بابری مسجد کا مسئلہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد حکومت کے پاس مسلمانوں کے خلاف کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ اب شہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمان دیگر ابنائے وطن سے لڑیں۔ حکومت کی یہ ایک سازش ہے۔ حکومت نئی نفرتیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے رب کو راضی رکھیں جس کے لئے دعا اور استغفار کا سلسلہ جاری رہے۔
حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے دیگر شہروں میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مظاہروں کی قیادت جمعیۃ علما ہند، جماعت اسلامی ہند و دیگر تنظیموں نے سنبھالی ہوئی ہے۔ احتجاج کے دوران جو پلے کارڈ اور بینر مظاہرین تھامے ہوئے رکھتے ہیں نا پر انڈیا ریجیکٹ سی اے اے، سی اے اے اینٹی ڈیموکریٹک، اینٹی سیکولر اینڈ اینٹی انڈیا جیسے نعرے لکھے رہتے ہیں۔ حیدرآباد میں قدیمی شہر میں واقع مکہ مسجد، گولکنڈا قلعہ، مہدی پٹنم اور سعید آباد میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
