دہلی کے لوگ تشدد نہیں چاہتے، کیجریوال
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجروال نے دہلی میں ہونے والے تشدد پر لب کشائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دہلی کے لوگ تشدد نہیں چاہتے۔ یہ سب ’عام آدمی‘ نے نہیں کیا۔ یہ سب کچھ سماج دشمن، سیاسی اور باہری عناصر نے انجام دیا ہے۔ ہندو اور مسلمان کبھی لڑنا نہیں چاہتے۔‘‘
Delhi CM Arvind Kejriwal in Delhi Assembly: People of Delhi do not want violence. All this has not been done by the 'aam aadmi'. This has been done by some anti-social, political and external elements. Hindus & Muslims in Delhi never want to fight. #DelhiViolence pic.twitter.com/gE655ZNgJs
— ANI (@ANI) February 26, 2020
قومی سلامتی مشیر اجیت ڈووال نے تشدد متاثر موج پور کے حالات کا لیا جائزہ
شمال مشرقی دہلی کے ڈی سی پی سے ملاقات کرنے کے بعد قومی سلامتی مشیر (این ایس اے) موج پور پہنچے۔ موج پور میں این ایس اے اجیت ڈووال نے حالات کا جائزہ لیا۔ اس علاقے سے تشدد کی کافی خبریں سامنے آئی تھیں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈووال نے کہا کہ چاروں طرف سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پولس اپنا کام کر رہی ہے اور جلد ہی حالات معمول پر آ جائیں گے۔
#WATCH Delhi: National Security Advisor (NSA) Ajit Doval interacts with the local residents of #NortheastDelhi. While speaking to a woman resident he says, "Prem ki bhaavna bana kar rakhiye. Hamara ek desh hai, hum sab ko milkar rehna hai. Desh ko mil kar aage badhana hai." pic.twitter.com/Y1tyAz2LXQ
— ANI (@ANI) February 26, 2020
مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 22 ہوئی، کئی زخمیوں کی حالت ہنوز سنگین
گرو تیغ بہادر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سنیل کمار نے تازہ جانکاری دیتے ہوئے کہا ہے کہ شمال مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد کے باعث اب تک 22 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس اسپتال میں تقریباً 200 زخمیوں کا علاج ہوا جن میں سے بیشتر کو چھٹی دے دی گئی ہے۔ سنیل کمار کا کہنا ہے کہ فی الحال 35 زخمی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
Sunil Kumar, Medical Superintendent of GTB Hospital: Till yesterday we did not have a Board constituted to carry out the postmortem, today onward the postmortems are being conducted and bodies are being handed over. #Delhi https://t.co/E8prdDKlsK
— ANI (@ANI) February 26, 2020
زخمیوں کا پتہ لگانے کے لئے ہیلپ لائن نمبر جاری
نئی دہلی 26 فروری (یو این آئی) دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں تشدد کے دوران زخمی ہوئے لوگوں کا پتہ لگانے کے لئے دہلی پولیس نے بدھ کو پانچ اسپتالوں میں رابطہ کرنے کے لئے ہیلپ لائن نمبر جاری کئے ہیں۔
دہلی پولیس نے گرو تیغ بہادر اسپتال کے لئے ایس آئی گجیندر سنگھ 9818120026، لوک نایک جے پرکاش اور مولانا آزاد اسپتال کے لئے اے ایس آئی یوگیندر سنگھ 7982756328، رام منوہر لوہیا اسپتال کے لئے ایس دیویندر سنگھ 9818313342 اور الہند اسپتال کے لئے اے ایس آئی نریندر رانا 9868738042 کے ہیلپ لائن نمبر جاری کئے ہیں۔
واضح رہے کہ شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیم قانون (سي اےاے) کے خلاف تشدد میں اب تک پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل رتن لال سمیت 20 لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور 200 سے زائد زخمی ہیں. قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا کے لئے بدھ کو شمال مشرقی دہلی کے تشدد متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔
دہلی تشدد کے خلاف جنتر-منتر پر مظاہرہ شروع، نظر آ رہی لوگوں کی زبردست بھیڑ
شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ اس درمیان بڑی تعداد میں لوگ جنتر-منتر پر اس تشدد کے خلاف مظاہرہ کرنے پہنچ رہے ہیں۔ اس وقت جنتر منتر پر کافی بھیڑ جمع ہو گئی ہے جو اپنے ہاتھوں میں دہلی میں امن بحال کرنے کا پیغام دینے والا بینر لیے ہوئی ہے۔



دہلی ہائی کورٹ نے اشتعال انگیز بیان دینے والے لیڈروں کے خلاف کیس درج کرنے کا دیا حکم
دہلی ہائی کورٹ نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا، ڈی سی پی (جرائم) سے پوچھا کہ کیا انھوں نے بی جے پی لیڈر کپل مشرا کا مبینہ طور پر نفرت پھیلانے والا بیان دیکھا۔ اس ویڈیو کلپ کو دیکھا ہے جس میں انھوں نے اشتعال انگیز تقریر کی؟ بعد ازاں کپل مشرا کے ویڈیو کو عدالت میں چلایا گیا۔ ہائی کورٹ نے سالیسیٹر جنرل سے کہا کہ وہ پولس کمشنر سے بی جے پی کے تین لیڈروں کے ذریعہ مبینہ طور پر نفرت پھیلانے والی تقریر دینے کے معاملے میں کیس درج کرنے کو کہیں۔
SG Mehta reads the transcript of the video.
Now that you have watched it, you advice the Commissioner so that we don't have to pass any order.
You are the Solicitor General of India: J Muralidhar
Bench rises, hearing to continue at 2.30 pm. #DelhiBurns #DelhiCAAClashes
— Bar & Bench (@barandbench) February 26, 2020
گوکل پوری کی مسجد کو توڑنے کی کوشش، شرپسند اندر گھسے!
شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے واقعات پر قابو تو پا لیا گیا ہے، لیکن کچھ علاقے ایسے ضرور ہیں جہاں تشدد ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق گوکل پوری واقع ایک مسجد کو کچھ سماج دشمن عناصر نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مسجد کو گزشتہ روز نذر آتش کیا گیا تھا اور آج ایک بار پھر اس کے ستونوں کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس واقعہ سے مقامی لوگ کافی دہشت میں ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ میں سینئر پولس افسر کو کیا گیا طلب، 12.30 بجے کا وقت طے
دہلی ہائی کورٹ نے سی اے اے-این آر سی معاملہ پر شمال مشرقی دہلی میں تشدد میں شامل لوگوں کے خلاف کیس درج کر انھیں گرفتار کرنے کی گزارش کرنے والی عرضی پر بدھ کو سماعت کی۔ ہائی کورٹ نے دہلی پولس کمشنر کو نوٹس جاری کیا ہے اور سرکار کے وکیل سے بدھ کی دوپہر 12.30 بجے عدالت میں سینئر پولس افسر کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے کہا ہے۔
دراصل حقوق انسانی کارکن ہرش مندر اور فرح نقوی کی جانب سے داخل عرضی میں تشدد واقعہ کی عدالتی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دیے جانے اور تشدد میں زخمی لوگوں کو معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں فوج تعینات کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی پر جسٹس جی ایس سیستانی اور جسٹس اے جے بھمبھانی کی بنچ نے سماعت کی۔
Delhi High Court issues notice to Delhi Police and asks senior officials to remain present in the court in connection with a plea on violence in Delhi's North East district. #DelhiViolence pic.twitter.com/i6nvFKKBjb
— ANI (@ANI) February 26, 2020
تشدد میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر ہوئی 20، موج پور میں پولس نے کیا فلیگ مارچ
شمال مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق مہلوکین کی تعداد 20 ہو گئی ہے اور گرو تیغ بہادر (جی ٹی بی) اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ زخمی افراد کی حالت ہنوز سنگین بنی ہوئی ہے۔
اس درمیان تشدد سے بہت زیادہ متاثر شمال مشرقی دہلی کے موج پور علاقے میں سیکورٹی اہلکاروں نے آج صبح فلیگ مارچ کیا۔ علاقے میں امن و امان کا ماحول نظر آ رہا ہے اور پولس ذرائع کا کہنا ہے کہ آج صبح یہاں کسی بھی طرح کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔
Death toll in northeast Delhi violence rises to 20: GTB Hospital authorities
— Press Trust of India (@PTI_News) February 26, 2020
Delhi: Security personnel conducting flag-march in Maujpur area. #DelhiViolence pic.twitter.com/FBPpeVegm0
— ANI (@ANI) February 26, 2020
موج پور اور جعفر آباد میں اب نہیں ہو رہے مظاہرے، پولس سیکورٹی سخت
دہلی پولس اسپیشل کمشنر ستیش گولچا نے میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ جعفر آباد میٹرو اسٹیشن اور موج پور چوک سے سبھی مظاہرین واپس چلے گئے ہیں اور اب 66 فوٹا روڈ پوری طرح سے مظاہرین سے خالی ہو چکا ہے۔ جعفر آباد میٹرو اسٹیشن سے مظاہرین گزشتہ رات کو ہی واپس چلے گئے تھے اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے سبھی اسٹیشن پر آمد و رفت بحال کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
Delhi: Latest visuals from Jafrabad metro station. The protesters left the metro station last night. #NortheastDelhi https://t.co/VA0MyUsiJd pic.twitter.com/YjbRDjsMLY
— ANI (@ANI) February 26, 2020
شمال مشرقی دہلی میں کشیدگی برقرار، مہلوکین کی تعداد 17 پہنچی
شمال مشرقی دہلی میں تشدد کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی ہے۔ یہ اطلاع گرو تیغ بہادر (جی ٹی بی) اسپتال کے ذرائع نے دی۔ اسپتال سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج یعنی بدھ کی صبح کل 4 زندگیاں ختم ہو گئیں اور گزشتہ روز تک 13 لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس طرح سے مجموعی طور پر مہلوکین کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت اب بھی سنگین بنی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ منگل کے روز دن بھر بھجن پورہ، کھجوری، موج پور وغیرہ علاقوں میں تشدد کے واقعات رہ رہ کر ہوتے رہے۔ پتھر بازی، دکانوں میں توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کی تصویریں بھی سامنے آتی رہیں۔ پولس نے اس پر قابو پانے کے لیے کئی جگہ آنسو گیس کے گولے کا بھی استعمال کیا۔ بھجن پورہ اور کھجوری روڈ پر تو بڑی تعداد میں شرپسند عناصر ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سڑکوں پر نظر آئے۔ انھوں نے سڑک کے کنارے موجود دکانوں میں جم کر توڑ پھوڑ بھی کی۔
Guru Teg Bahadur (GTB) Hospital official: Today four persons were brought dead. Death toll rises to 17. #DelhiViolence pic.twitter.com/TJTmYuAD89
— ANI (@ANI) February 26, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو