سنجے گائیکواڑ کے بیانات کو مجرمانہ اور قابلِ اعتراض، کارروائ ی نہ ہونے پر حکومت سے سوال

سنجے گائیکواڑ کے بیانات کو مجرمانہ اور قابلِ اعتراض، کارروائی نہ ہونے پر حکومت سے سوال

متنازع بیانات اور دھمکیوں کے باوجود کارروائی کیوں نہیں، حکومت کس دباؤ میں ہے؟: ہرش وردھن سپکال

ممبئی: شیوسینا کے رکن اسمبلی سنجے گائیکواڑ کے حالیہ بیانات پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ گائیکواڑ کے بیانات نہ صرف نازیبا اور غیر مہذب ہیں بلکہ ان میں مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے، اس کے باوجود وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔

گاندھی بھون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ سنجے گائیکواڑ نے ’’شیواجی کون تھا؟‘‘ نامی کتاب کے ناشر پرکاش امبی کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کی اور ان کے خلاف سنگین نوعیت کے ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران گائیکواڑ نے کامریڈ گووند پانسرے کے قتل کا حوالہ بھی دیا، جو ایک انتہائی حساس اور سنگین معاملہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سنجے گائیکواڑ کا طرز عمل ماضی میں بھی متنازع رہا ہے اور ان پر بارہا غنڈہ گردی اور بدسلوکی کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق کارکنان کے ساتھ مارپیٹ، بلڈھانہ میں ریت کی غیر قانونی نقل و حمل، زمینوں پر زبردستی قبضہ اور لوگوں کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کرنا ان کے طرز عمل کا حصہ رہا ہے، جس پر اب تک مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ سنجے گائیکواڑ ماضی میں بھی کئی متنازع بیانات دے چکے ہیں، جن میں سیاسی شخصیات کے خلاف انتہائی سخت اور نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیر اعلیٰ واقعی قانون کی عملداری کے پابند ہیں تو انہیں ایسے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کرنی چاہیے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں چشم پوشی اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شیواجی کون تھا؟‘‘ ایک اہم تاریخی موضوع ہے، لیکن اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے گائیکواڑ کے بیانات سے چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں بھی بعض افراد کی جانب سے شیواجی مہاراج کے بارے میں نامناسب بیانات دیے گئے، مگر ان معاملات میں سخت کارروائی نہیں کی گئی، جس سے غلط روایت قائم ہو رہی ہے۔

رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان لازمی قرار دینے کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ مراٹھی زبان کا فروغ ضروری ہے، لیکن اس کے لیے زبردستی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں رہنے والے تمام افراد کو مراٹھی زبان سیکھنے کی ترغیب دی جانی چاہیے، نہ کہ اسے جبراً نافذ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مراٹھی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ ملنے کے باوجود اس کے فروغ کے لیے حکومت نے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست کے تمام سرکاری اور نجی جامعات میں مراٹھی زبان کے مستقل شعبے قائم کیے جائیں تاکہ اس زبان کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ لکانگریس نے اس معاملے میں حکومت سے فوری اور غیر جانبدارانہ کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی بالادستی برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی نرمی جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مہایوتی حکومت میں بدعنوانی عروج پر، چار آئی اے ایس افسران کے خلاف جلد انکشافات کا اعلان

بی جے پی کی خواتین کے تئیں ہمدردی ایک پاکھنڈ کے سوا کچھ نہیں، خواتین ریزرویشن بل 2023 میں ہی منظور ہو چکا، 16 اپریل کا بل ملک کو تقسیم کرنے والا: نانا پٹولے

ممبئی: کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور رکن اسمبلی نانا پٹولے نے بی جے پی مہایوتی حکومت کو سخت نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میں بدعنوانی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور جلد ہی چار سینئر آئی اے ایس افسران سے متعلق سنگین انکشافات سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے بی جے پی پر خواتین کے مسائل پر دوہرا رویہ اختیار کرنے کا بھی الزام لگایا۔

ناگپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی خود کو خواتین کے حقوق کا علمبردار ظاہر کرتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کا رویہ غیر سنجیدہ اور مفاد پرستانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل 2023 میں پارلیمنٹ میں تمام پارٹیوں کی حمایت سے منظور ہو چکا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ اس کے برعکس 16 اپریل کو پیش کیا گیا بل ملک کو تقسیم کرنے والا ہے، جس سے حکومت کے اصل عزائم بے نقاب ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن قانون منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں اپنی تعریف میں تقاریب کروائیں، لیکن اب وہ اپوزیشن کو خواتین مخالف قرار دے رہے ہیں، جو کھلا تضاد ہے۔ انہوں نے ورلی میں بی جے پی کے احتجاجی مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث ٹریفک جام ہوا اور ایک خاتون نے برہمی کا اظہار کیا، جو عوامی ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق عوام اب بی جے پی کا اصل چہرہ پہچان چکے ہیں۔

بدعنوانی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت میں نہ صرف وزراء کے درمیان مفادات کی کشمکش جاری ہے بلکہ اعلیٰ افسران بھی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چار آئی اے ایس افسران زمین کے معاملات میں غیر قانونی طریقے سے رقم وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام دستاویزات وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کو پیش کی جائیں گی، اور اگر کارروائی نہیں ہوئی تو وہ یہ معاملہ اسمبلی میں اٹھائیں گے۔

مراٹھی زبان کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر انہوں نے کہا کہ زبان، مذہب اور ذات کے نام پر تقسیم پیدا کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی مہاراشٹر آنے پر مراٹھی میں تقریر کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھی زبان کا احترام ضروری ہے، لیکن اسے زبردستی نافذ کرنا درست نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج نے ہمیشہ تمام مذاہب اور زبانوں کے احترام کا پیغام دیا، جبکہ موجودہ حکومت نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے، جسے عوام مسترد کریں گے۔

نانا پٹولے نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو امریکہ کے سامنے کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بیرونی رہنما ہندوستان کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہیں تو اس پر حکومت کی خاموشی قابلِ تشویش ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے معاملات پر حکومت اور متعلقہ ذمہ داران کی خاموشی کیوں برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں ناکام رہی ہے اور عوام اب اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے رہے ہیں۔

MPCC Urdu News 24 April 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading