سبریمالا نظرثانی درخواست: آئینی بنچ کا فیصلہ محفوظ، پیر کے روز اعلان

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سبریمالا معاملے میں جمعرات کو اس نکتہ پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا کہ آیا نظرثانی درخواست پر سماعت کرنے والی بنچ قانونی سوالات کو وسیع تر بنچ کے سپرد کرسکتی ہے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی صدارت والی 9 رکنی آئینی بنچ نے اس معاملے میں مختلف فریقوں کےدلائی سماعت کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ آئینی بنچ پیر کو اس سلسلے میں فیصلہ سنائے گی۔

اعلی ترین عدالت نے واضح کیا کہ مذہبی روایت اور خواتین کےحقوق سےجڑے سوال کو اعلی ترین عدالت ہی طے کرے گی۔ آئینی بنچ ان سوالات کو بھی پیر کو ہی طے کرے گی جن پر مزید سماعت ہونی ہے۔ عدالت نے 12 فروری سےروزانہ سماعت کرنے کے اشارے دیئے۔ آئینی بنچ میں جسٹس آر بھانومتی، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایل ناگیشور راؤ، جسٹس ایم ایم شانتن گودر، ایس عبدالنذیر، جسٹس آر سبھاش ریڈی، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت بھی شامل ہیں۔

کیرالہ حکومت کی جانب سے پیش جئے دیپ گپتا نے مہتا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی عرضیوں کو نمٹانے کے دوران دیگر پہلوؤں کو شامل کرنے سے سبریمالا کے اصل تنازعہ سے انصاف بھٹک جائے گا۔انہوں نے بھی کہا کہ نظر ثانی عرضی کا نمٹا را کرنے کے بعد ہی دیگر پہلوؤں پر غور و خوص ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا ۔ایک عرضی گزار کی جانب سے پیش سینئر وکیل پھلی ایس نریمن نے بھی دلیل دی کہ نظر ثانی عرضی کا دائرہ بہت محدود ہے۔

سینئر وکیل اندرا جئے سنگھ نے بھی نریمن کی دلائل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی عرضی کا نمٹا را پہلے کیا جانا چاہئے تھا۔آئین بینچ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کیا نظر ثانی عرضی داخل ہونے پر عدالتِ اعظمیٰ قانونی سوالات پر سماعت ججوں کی بڑی بینچ کو بھیج سکتی ہے؟ اس معاملے پر نو ججوں کی آئینی بینچ دلایل سن رہی ہے ۔ یہ بینچ مختلف مذہب اور مذہبی مقامات میں خواتین سے امتیازی سلوک کے معاملات کی سماعت کر رہی ہے ۔ گزشتہ سال پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے مذہبی مقامات پر خواتین اور لڑکیوں کے داخلے کو روکنے جیسی مذہبی روایات کی آئینی جوازیت کے معاملے کو بڑی بینچ کو بھیجا تھا، ساتھ ہی کہا تھا کہ مذہبی مقامات پر خواتین کے داخلے پر روک کا معاملہ صرف سبري مالا معاملے تک محدود نہیں ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading