اسرائیل کے اپنے دورے کے دوران سابق امریکی نائب صدر مائیک پنس نے لبنان کی طرف داغے جانے سے پہلے توپ خانے کے گولوں اور بموں پر دستخط کیےان پر ’’اسرائیل کی خاطر‘‘ کے الفاظ لکھے۔کل جمعہ کو پنس نے لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ کا دورہ کیا ان کے ساتھ بات چیت کا تبادلہ کیا اور پھر اسرائیلی میزائلوں پر دستخط کیے تھے۔
فوجیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران پنس نے ان سے کہا کہ "آپ جو کچھ کر رہے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔ میں اب امریکی حکومت کی طرف سے نہیں بول رہا ہوں، لیکن میں امریکی عوام کی طرف سے بول رہا ہوں۔ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور آپ کی ہر ممکن مدد جاری رکھیں گے‘‘۔
سابق امریکی اہلکار نے فوجیوں کے ساتھ لنچ کیا، ان کے ساتھ بیٹھ کر کافی پی۔اپنے دورے کے اختتام پر پنس نے توپ خانے کے گولوں پر دستخط بھی کیے جس پر انھوں نے لکھا تھا: "اسرائیل کی خاطر”۔
اپنی طرف سے پنس نے "ایکس” پلیٹ فارم پر لکھا کہ "میں نے اسرائیل کی شمالی کمان کا دورہ کیا، فوجی رہ نماؤں سے ملاقات کی اور لبنان کی سرحد کے قریب تعینات فوجیوں کےپاس بیٹھا۔7 اکتوبر سے یہ بہادر اسرائیلی جن میں سے کچھ امریکی بھی ہیں اسرائیل کے دفاع کے لیے اپنے خاندان اور گھر چھوڑ کرآئےہیں”۔
7 اکتوبر کو اسرائیلی بستیوں میں حماس کی جانب سے شروع کیے گئے ایک سرپرائز آپریشن کے جواب میں اسرائیل نے ساحلی پٹی پر ایک بے مثال فضائی، زمینی اور سمندری حملے جنگ شروع کی ہے۔
حماس کے حملے میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس کے علاوہ، تقریباً 250 افراد کو پکڑ کر یرغمال بنا لیا گیا، جن میں سے 132 اب بھی پٹی کے اندر ہیں۔
دوسری جانب غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری 27 اکتوبر سے شروع ہونے والے زمینی حملے کے ساتھ 22,600 افراد کی موت کا باعث بنی ہے۔ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔