زبردستی مذہب تبدیل کرانے سے متعلق بل کو گورنر کی منظوری

شملہ، 6نومبر (یو این آئی) ہماچل حکومت کی طرف سے مانسون اجلاس کے دوران اسمبلی میں منظور کردہ مذہب کی آزادی بل کو گورنر بنڈارو دستاتریہ نے منظوری دے دی ہے جس سے ریاست میں اب زبردستی مذہب تبدیلی پر روک لگنے کے ساتھ ہی زبردستی، جھانسہ دیکر یا لالچ دیکر مذہب تبدیل کراناجرم مانا جائے گا۔


مانسون اجلاس میں مذکورہ بل منظور کرکے گورنر کی منظوری کے لئے بھیجا گیا تھا جسے انہوں نے منظوری دے دی ہے اور اب اس نے قانون کی شکل لے لی ہے۔ محکمہ قانون نے بدھ کو نئے قانون سے متعلق نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ اس قانون میں مذہب تبدیلی پر سخت التزامات کئے گئے ہیں۔


عام زمرہ کے شخص کا زبردستی مذہبی تبدیل کراتے ہوئے پکڑے جانے پر کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا کے ساتھ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔اسی طرح نابالغ، خواتین، درج فہرست ذات و قبائل سے متعلق شخص کا زبردستی مذہب تبدیل کراتے ہوئے پکڑے جانے پر اس کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال کی سزا کا التزام کیا گیا ہے۔
حالانکہ مرضی سے مذہب تبدیل کرنے پر کسی طرح کی روک نہیں ہوگی لیکن خواہش مند شخص کو اس کی اطلاع ضلع مجسٹریٹ کے سامنے ایک مہینہ پہلے دینی ہوگی اور اعلان کرنا ہوگا کہ وہ بلاخوف اور لالچ کے مذہب تبدیل کررہا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں