اجودھیا:18 نومبر(یواین آئی)بابری مسجد۔رام مندر تنازع میں سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے سنائے جانے کے اب یہ تنازع نئی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔رام مندر کی تعمیر کے لئے بننے والے ٹرسٹ میں حصہ داری کے لئے جہاں سنت ۔سادھو ایک دوسرے کے سامنے ہیں تووہیں بابری مسجد فریق کی جانب سے عدالت عظمی کے فیصلے پر نظر ثانی عرضی داخل کرنے اور عدالت کی ہدایت پر زمین لینے کے معاملے میں بھی کئی آراء ہیں۔
اطلاعات کے مطابق عدالت عظمی کی ہدایت پر جہاں مرکزی حکومت ٹرسٹ بنانے کے ادھیڑ بن میں ہے اور ابھی اس نے اس کے خاکے کوبھی ترتیب نہں دیا ہے تو دوسری جانب ٹرسٹ کی قیادت یا ٹرسٹ میں اعلی عہدہ حاصل کرنے کے لئے سینئر سنتوں۔سادھوں کی لڑائی کھل کر اب سامنے آگئی ہے۔رام جنم بھومی نیاس کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس کے بعد نرموہی اکھاڑے نے بھی ٹرسٹ میں نا صرف شامل ہونے بلکہ صدر یا سکریٹری کا عہدہ کے خواہش کا اظہار کر کے معاملے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ایسے میں سادھؤں۔سنتوں کی بڑی جماعت اس تذبذب میں ہے کہ وہ کس کا ساتھ دیں۔ملحوظ رہے کہ سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو بابری مسجد ۔رام مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر کے لئے ایک ٹرسٹ بنانے اوربابری مسجد فریق کو حکومت کی جانب سے اجودھیا میں ہی کسی نمایاں مقام پر مسجد کی دوبارہ تعمیر کے لئے 5 ایکڑ زمین دستیاب کرائے۔اب دونوں معاملوں کو لے کر حکومت غور خوض کررہی ہے اور اس نے اس ضمن میں ضلع انتطامیہ سے ضروری دستاویز بھی طلب کئے ہیں۔ لیکن ٹرسٹ کا خاکہ کیا ہوگا یا مسجد کے لئے زمین کہاں دی جائے گی اس ضمن میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔
ذرائع سے موصول اطلاع کے مطابق یہ پورا معاملہ وزارت داخلہ کے بجائے پی ایم او آفس دیکھ رہا ہے۔ باوجود اس کے ٹرسٹ کے معاملے میں سیاست گرم ہے ۔سنتوں کی جانب سے اپنے دعوے کئے جارہے ہیں۔سادھو۔اور رام مندر ٹرسٹ کے لئے رام جنم بھومی نیاس، رام جنم بھومی رامالے نیاس اور رام جنم بھومی مندر تعمیر نیاس میں دعویداری اپنے شباب پر ہے۔تووہیں اتوار کو نرموہی اکھاڑے نے رام مندر کی تعمیر کے لئے بنائے جارہے نئے ٹرسٹ میں حکومت سے صدر یا سکریٹری کا عہدے کی خواہش کا اظہار کر کے سادھؤں کے الجھنوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔ واضح رہے کہ نرموہی اکھاڑے نے بھی بابری مسجد۔ رام مندر قضیہ میں اپنی دعوی دار پیش کی تھی لیکن عدالت نے اسے مقدمے سے خارج کردیا تھا لیکن حکومت کو ہدایت دی تھی کہ را م مندر کی تعمیر کے لئے جو ٹرسٹ قائم کیا جائے گا اس میں نرموہی اکھاڑے کے بھی ایک نمائندے کو جگہ دی جائے۔اب نرموہی اکھاڑے نے پیر کو وزیراعظم دفتر ایک لیٹر بھیج کررام مندر کی تعمیر میں نرموہی اکھاڑے کے کردار پر مطلع صاف کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔جبکہ رام جنم بھومی نیاس کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس نے کہا کہ رام مندر ہماری صدارت میں بنے گا۔جس کو شامل ہونا ہوگا وزیر اعظم نریندر مودی یا وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کچھ لوگ ٹرسٹ میں آجائیں گے۔رام جنم بھومی راما لے نیاس کا دعوی ہے کہ رام مندر کی تعمیر کی ذمہ داری حکومت کو ان کے نیاس کو ہی دینا پڑے گا۔ نرموہی اکھاڑے کو توصرف ٹرسٹ میں نمائندگی دینے کے لئے کہا گیا ہے ٹرسٹ کی سربراہی کے لئے نہیں۔وہیں نرموہی اکھاڑے کا دعوی ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر پی ایم او کو ٹرسٹ کی اسکیم بنانی ہے۔ ٹرسٹ کے ایکزیکیٹیو کمیٹی میں نرموہی اکھاڑے کو اعلی مقام ملنا چاہئے۔اکھاڑے کو صدر و سکریٹری سمیت 7 یا 11 کی ایکزیکیٹیو میں سبھی پانچوں کو مقام ملنا چاہئے۔سارا حساب کتاب شفاف ہونا چاہئے۔ادھر ٹرسٹ کے قیام او راس میں حصہ داری اور ذمہ داری کو لیکر سادھو۔سنت اپنی اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں تو وہیں بابری مسجد کی جانب سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و جمعیت علماء نے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل داخل کرنے کے فیصلے کا اعلان کر کے ا معاملے کو نیا رخ دے دیا ہے۔ اب فریق مخالف خاص کر سادھو۔سنت جو ٹرسٹ کے قیام میں اپنی حصہ داری کے لئے فکر مند تھے اب ان کو یہ فکر ستانے لگی ہے کہ اگر کہیں کورٹ نے نظر ثانی کی اپیل کو قبول کرلیا تو پھر آگے کی حکمت عملی کیا ہوگی؟۔کہیں عدالت معاملے کو بڑی بنچ کو تو نہیں بھیج دے گا۔