ممبئی۔10 جنوری (پریس ریلیز) دہشت گردی کے الزام میں پوسد سے گرفتار کئے گئے عبدالملک کے مقدمے کی سماعت اکولہ سیشن کورٹ میں تیزی سے جاری ہے اور سرکاری وکیل کی جا نب سے ملزم کے خلاف گواہان کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے آج یہاں عدالت میں استغاثہ کی جا نب سے۷۴ او۸۴ نمبر کے گواہ پولےس اہلکارپیش کئے گئے جنہوں نے ا نوسٹی گیشن آفیسر کی مدد کی تھی ،ان دو نوں کی گواہی اور جرح مکمل ہو گئی ہے ،عدالت نے آئندہ سماعت کے لئے 24 اور25 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے ۔یہ اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے اور بے گناہ نوجوانوں کی پیروی کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر کے صدر مولانا ندیم صدیقی نے دی ہے۔واضح رہے کہ25ستمبر2015 کو پوسد شہر میں چھرہ زنی کی ایک واردات کے الزام میں عبد الملک و دیگر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا جسے بعد میں دہشت گردانہ کارروائی سے جوڑدیا گیا اور اس پر یو اے پی اے کی 18, 19, 20 اور انڈین پینل کوڈ کی دفعہ ۷۰۳کے تحت مقدمہ درج کیا گیاتھا۔دفاع کے مطابق اس کے مقدمے کی سماعت ابتداءمیں ناگپور کے عدالت میں جاری تھی، کہ26اگست 2016 کو ایک خصوصی سرکیولر کے ذریعے اسے اکولہ کی خصوصی عدالت میں منتقل کردیا گیا تھا۔اسکے بعد سے اکولہ عدالت میں اس مقدمہ کی سماعت شروع ہو ئی اور سرکاری وکےل کی جا نب سے یکے بعد دیگرے گواہان کو پیش کےا جا رہا ہے ۔جن کے بیا نات سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس مقدمہ میںسازش کے تحت عبد الملک و دیگر کو پھنسایا گیا ہے اور اسکے لئے فرضی گواہان و غیرہ پولےس اہلکاروں کی جا نب سے سے تیار کئے گئے ہیں ۔
جمعیة علماءمہاراشٹر کے صدر مولاناندیم صدیقی نے کہا کہ عدالت میں اس مقدمہ کی کاروائی منصفانہ طریقے پر جا ری ہے، جمعیة علماءپوری شدت اورمکمل دیانت داری سے انصاف کی لڑائی لڑ رہی ہے،مقدمہ اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے امید ہے کہ آئند ہ چند تاریخوں میں مقدمہ مکمل ہو جائے گا ،اور ملزم کو انصاف ملے گا،اس کےس کی پیروی جمعیة علماءمہا راشٹر کی جا نب سے ایڈوکےٹ دلدار خان،ایڈوکیٹ صدیق شیخ کر ررہے ہیں ۔