
تھانے (آفتاب شیخ)اس طرح مہلک وباء کے لئے سب سے خطرناک ہیں وہ علاقے جو گھنی آبادی والے ہیں جھگی جھوپڑیوں پر مشتمل ہیں اس لئے ہمیں دھاروی کے ڈیولپمنٹ کا کام شروع کردینا چاہیے، ہمارا محکمہ تیار ہے بس آپ فوری اجازت دیں- اس طرح کا ایک خط منسٹر جتیندر اوہاڈ نے وزیراعلیٰ اودھو ٹھاکرے کو بھیجا ۔انھوں نے اپیل کی کہ آپ فوری ایک میٹنگ طلب کریں اوراس پر غور فرمائیں –
ملک میں سب سے زیادہ کورونا مہاراشٹر اور اس ممبئی میں پھیلا ہے جس میں خاص کر دھاراوی تو اسکامسکن بنا ہوا ہے ایسے میں ان علاقوں میں فوری ڈیولپمنٹ شروع کر یہاں کی روپ ریکھا بدلنی ہوگی اسطرح کا ایک مکتوب اوہاڈ نے ٹھاکرے کو بھیجا جس میں انھوں نے لکھا کہ دھاروی کے ڈیولپمنٹ کا مطالبہ ہم لوگوں نے سابقہ حکومت کے دور سے ہی جاری ہے مرکز سے ریاست تک سبھی کاروائی مکمل ہوکر رکی ہوئی ہے۔ آج کورونا کے سبب ممبئی کی معیشت کو بڑا دھچکہ لگا ہے ایسی حالت میں اگرچہ ہم دھاراوی کے ڈیولپمنٹ کا کام ہاتھ میں لیتے ہیں تو یہ نہ صرف سیاسی یا سماجی سطح پر بلکہ آج کے دور میں میڈیکل نظریات سے بھی اسکی عوامی حلقوں میں خوب سراہانا ہوگی اور ہمیں سوشل ڈسٹنسنگ کو اصلی جامعہ پہنانے کا موقع ملے گا ساتھ ہی اپنے سیاسی حریفوں کو سوشل امپکٹ کا بڑا دھچکہ لگے گا ۔
انھوں نے خط میں بتایا کہ ڈیولپمنٹ یہ ایک ایسا کاروبار ہے جس میں باہر سے کافی مالی امداد موصول ہوتی ہے لوگ اپنا پیسہ لگاتے ہیں ڈیولپرس، بلڈرس، خریدار سبھی کا پیسہ کا آنا شروع ہوتا ہے ایسے میں ہمیں اس معاشی مصیبت کی گھڑی میں ایک فنانس مدد بھی ملے گی ساتھ ہی اس خطہ میں ایک بڑا روزگار وہ بھی ایسی پریشانی کی گھڑی میں مل جائے گا ۔آخر میں اوہاڈ نے خط میں لکھا کہ دھاراوی میں ایسا خطہ ہے جہاں سبھی مذہب و ملت کے لوگ رہتے ہیں ملک کے سبھی خطہ کے لوگ بستے ہیں دنیا بھر کی نظریں اس پر ہیں ایسے میں ہم اس خطہ کا ڈیولپمنٹ شروع کرتے ہیں تو یہ ہماری مہاوکاس اگھاڑی کی بہت بڑی جیت اور ممبئی میں ایک مہاوکاس کام شروع ہوجائے گا ۔مکتوب کے آخر میں انھوں نے سی ایم سے مطالبہ کیا کہ آ پ ا سکام کو لیکر ایک میٹنگ بلائیں اور فوری فیصلہ لیں تو بہتر ہوگا ۔ اس سلسلہ میں جتیند راوہاڈ نے نمائندہ اردو ٹائمز کو بتایا کہ کورونا میں ممبئی میں سب سے زیادہ دھاروی یعنی کم جگہ سے زیادہ مریض دستیاب ہو رہے ہیں میڈیکل اور صحت کے حساب سے بھی یہ علاقہ بہت خطرناک ہوتا جارہا ہے اس طرح کی بیماریوں میں یہاں سوشل ڈسٹنسنگ، دواوں کا چھڑکاو لوگوں تک پہنچ کر انکا علاج کرنا گرچہ ہر قسم کی تکلیف ہوتی ہے ۔ اس طرح کے سبھی علاقوں کو ڈیولپمنٹ کر کے سدھار لانے کا ہماری سرکار کا منصوبہ ہے ۔ آخر میں کورونا کا ممبرا و تھانے میں بڑھنے کا سبب دریافت کرنے پر انھوں نے بتایا کہ اس بیماری کا اہم علاج سوشل ڈسٹنسنگ ہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں جس جس علاقہ کے لوگوں سوشل ڈسنٹنسگ کا خیال نہیں رکھ رہے ہیں یا لاک ڈاون کی تعمیل نہیں کر رہے ہیں وہاں وہاں اس کے مریضوں کی تعدادمیں اضافہ ہورہا ہے اس کا حل اور علاج ایک ہی ہے بس دوری بنائے رکھیں بھیڑ نہ کریں باہر بلا وجہ نہ گھومیں اور کچھ نہیں.