دنیا ایک نئے موڑ پر — جنگ، سیاست، معیشت اور انسانی بقا کی کشمکش میں 21ویں صدی
تحریر: سیّد اکبر زاہد
دنیا آج تیز قدموں سے آگے بڑھتی ہوئی دکھائی ضرور دیتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے— انسانیت اپنے ہی ہاتھوں بنائے ہوئے فیصلوں کے پیچ و خم میں الجھی ہوئی ہے۔ دھرتی— جو کبھی امید کا استعارہ تھی— اب سوالوں کا سمندر بنی کھڑی ہے۔ طاقت کی پیاس، جنگوں کا شور، معیشت کی تھکن اور موسموں کی بغاوت— سب ایک ہی سمت اشارہ کر رہے ہیں کہ انسان ایک نئے دوراہے پر آن کھڑا ہوا ہے۔
عالمی منظرنامہ— بارود کے دھوئیں میں لپٹی زمین
سوڈان کی خانہ جنگی، روس و یوکرین کے محاذ، غزہ کے کھنڈر، شام کے زخم، لیبیا کا انقطاع— ہر خطہ تڑپ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ بار بار متنبہ کر رہی ہے کہ دنیا کے کئی حصے قحط اور فاقہ کشی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ عالمی معیشت، جو کبھی توازن کا محور تھی، آج کمزور سانسوں پر چل رہی ہے۔
روس نے جنگ میں اپنی معاشی توانائی جھونک دی— ڈرونز، میزائل، دفاعی نظام— گویا پوری ریاست ایک ہی محاذ پر بندھی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں خون اور مٹی کے درمیان انسانی حقوق دب چکے ہیں۔ دوسری طرف عالمی معیشتیں قرض کے بوجھ تلے سکڑ رہی ہیں، بے روزگاری اور بے اعتمادی نے ترقی کی رفتار کو کم کر دیا ہے۔
پاکستان— امید اور اضطراب کی ملی جلی لہر
پاکستان کی معیشت بھی بین الاقوامی حالات سے متاثر ہو کر اپنی رفتار تلاش کر رہی ہے۔ بجٹ، قرض، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، سیلاب، سیاسی بے چینی اور مہنگائی— جیسے کئی چیلنجز ریاستی ڈھانچے کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ اقتصادی تخمینے خاموش روشنی ضرور دکھاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ سماج اپنی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد پر مجبور ہے۔
اور اب ہندوستان— ایک اُبھرتی ہوئی معیشت، مگر سماجی تضادات کی زد میں
ہندوستان جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا معاشی اور آبادیاتی پیمانہ ہے۔ اس ملک کا منظرنامہ وسیع بھی ہے، متنوع بھی، اور متضاد بھی۔
معیشت کی تیز رفتار ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے میں تیزی، اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت— سب ایک مثبت تصویر پیش کرتے ہیں۔ دنیا کی نظریں بھارت کی اقتصادی پرواز پر مرکوز ہیں۔
مگر تصویر کا دوسرا رخ زیادہ پیچیدہ ہے
مذہبی اور سماجی تناؤ بڑھ رہا ہے۔
شہریت، آزادی اظہار، اقلیتوں کے حقوق اور جمہوری اقدار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
نفرت انگیز سیاست، ریاستی سختیاں اور اظہار رائے پر پابندیوں کے خدشات— معاشرتی ڈھانچے کو بے چینی میں مبتلا کر رہے ہیں۔
میڈیا پر دباؤ اور عدالتوں کی بڑھتی ذمہ داری نے مباحثے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ اب بھی ادھورا باب ہے۔ سرحد کے اس پار امن کی خواہش تو موجود ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ کشیدگی کا سایہ کم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کبھی برفاب تو کبھی آتش— ایک طویل غیر یقینی صورتِ حال نے خطے کا مستقبل معلق کر رکھا ہے۔
ہندوستان میں تیزی سے آتے موسمی تغیرات— گرمی کی شدید لہریں، بارشوں کی بے قاعدگی اور دیہاتی معیشت پر اثرات— ملک کو نئے چیلنجوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ بڑی ترقی کے باوجود غریب اور متوسط طبقہ مہنگائی اور بیروزگاری کے درمیان پسا جا رہا ہے۔
انسان اور بحران— مشترکہ تقدیر
یہ سچ ہے کہ دنیا کے بحران کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں۔ معیشت کے جھٹکے سرحدیں نہیں پہچانتے۔ موسموں کی تیزی زبان اور مذہب نہیں دیکھتی۔ جنگوں کا دھواں نسل اور رنگ کے درمیان فرق نہیں کرتا۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں ایک ایسی زمین کے وارث ہیں جسے استحکام کی ضرورت ہے، امن کی خواہش ہے، اور تاریخ کی سمجھ بوجھ درکار ہے۔
وقت کا فیصلہ— روشنی کہاں ہے؟
شاید جواب سادہ ہے:
انسان، انسان سے جڑ جائے۔
نفرت کی آنچ تھم جائے۔
بات چیت شروع ہو۔
ثقافتیں پل بنیں۔
تعلیم اور انصاف محور بنیں۔
اور ریاستیں طاقت نہیں— انسانیت کی بقا کو مقدم رکھیں۔
دنیا اگر بدلنی ہے تو یقیناً وہ انسان کے ہاتھوں بدلے گی— مگر تب جب انسان خود کو بدلنے پر آمادہ ہو۔ جنگیں خواب نہیں بناتیں— صرف قبریں بناتی ہیں۔ امن، ترقی اور محبت ہی وہ سچ ہیں جو آنے والی نسلوں کی ضرورت ہیں۔