حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری تیز کردی ہے: اسرائیلی آرمی چیف

ہفتہ کو اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کے گاؤں مجدل شمس میں راکٹ حملے سے 12 اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد عالمی سیاسی میدان میں ہلچل ہے۔ اسرائیل اور لبنان کے گروپ ’’ حزب اللہ‘‘ کے درمیان وسیع جنگ چھڑنے کے امکانات کے بارے میں انتباہات دئیے جارہے ہیں۔

کشیدگی کو کم کرنے کی تمام کوششوں اور تحمل سے کام لینے کے مطالبات کے باوجود اسرائیلی آرمی چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی نے اتوار کے روز اسرائیل کے شمالی محاذ میں جنگ کے اگلے مرحلے میں داخلے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے حملے کے مقام کا دورہ کیا اور کہا کہ ان کی افواج شمال میں لڑائی کے اگلے مرحلے کے لیے اپنی تیاریوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔ وہ بالکل جانتے ہیں کہ مجدل شمس پر راکٹ کہاں سے فائر کیا گیا تھا۔

اسرائیلی آرمی چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مجدل شمس کو نشانہ بنانے والا راکٹ میں 53 کلو گرام وزنی وار ہیڈ لیے ہوئے تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی فوج اسرائیل سے بہت دور حملے کرنا جانتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ الجلیل اور گولان کے پورے شمال کے باشندوں کی واپسی کے لیے ہر طرح سے کام کرے گی۔

اسرائیلی آرمی چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تل ابیب نے لبنان کی سرحد پر پہلے سے کشیدہ تصادم کو بڑھانے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے ہفتے کے روز گولان کی پہاڑیوں کے اسرائیل کے زیر کنٹرول حصے میں واقع فٹبال سٹیڈیم پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کے باوجود اسرائیل اس حملے کا الزام حزب اللہ پر عائد کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے جوابی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق خطے میں ناقابل بیان خطرہ منڈلا رہا ہے۔

دریں اثنا تحمل کے مطالبات کے درمیان بین الاقوامی انتباہات میں کشیدگی کے ایک انتہائی خطرناک ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیل نے ہفتے کے روز راکٹ حملے کے لیے سخت ردعمل اور بھاری قیمت کی دھمکی دی تھی۔ اس حملے میں اب تک 12 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading