حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر بڑے حملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے لبنان کے اندر تازہ حملے کیے ہیں جن میں حزب اللہ کے مراکز اور گاڑیوں کو نشانہ بنائےجانے کی اطلاعات ہیں۔العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے قصبے طیر حرفہ میں ایک گاڑی پر بمباری کی۔انہوں نے مزید کہا کہ چھاپے میں صیدون میں ایک کار کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایک اسرائیلی ڈرون کے ذریعے کیا گیا تھا۔سوشل میڈیا پر اکاؤنٹس پر لبنان میں حملے کا نشانہ بنائی گئی گاڑی کی تصاویر اور ویڈیوز نشر کی گئی ہیں جن میں گاڑی کو جلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کار کی شناخت نہیں ہوسکی۔گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر خاموشی کے بعد یہ تازہ حملے ہیں۔
اگرچہ ایرانی حمایت یافتہ لبنانی جماعت کے رہ نما حسن نصر اللہ نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی کا پہلا دور اس کے سینیررہ نما فواد شکر کے قتل کے بدلے کے طور پر کیا گیا ہے۔خیال رہے پچھلے دس ماہ سے کشیدگی کا شکار مشرق وسطی تیزی کے ساتھ ایک نئی جنگ کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
گذشتہ ماہ تیس جولائی کو بیروت میں حزب اللہ کے سینیر کمانڈر فواد شکر اور اس سے اگلے روز اکتیس جولائی کو تہران میں حماس کے سیاسی شعبےسے سربراہ اسماعیل ھنیہ کےقتل کے واقعات میں ایران اوراسرائیل درمیان جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایران نے اسماعیل ھنیہ اور حزب اللہ نے فواد شکر کے قتل کے بعد اسرائیل سے ان واقعات کابدلہ لینےکا اعلان کیا ہے۔اسرائیل کا خیال ہے کہ تہران آنے والے عرصے کے دوران اس طریقے سے جواب دے گا جس سےجامع جنگ چھڑنے کا خدشہ نہ ہو۔دریں اثناء اسرائیلی فوجی حکام نے حالیہ عرصے کے دوران بارہا واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی محاذ سے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔