جنوبی غزہ پر اسرائیلی حملے میں 49 ہلاک، ایران کی اسرائیل کے خلاف ’پیشگی کارروائی‘ کی دھمکی

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ اگر غزہ میں اسرائیل کے ‘فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم’ بند نہ ہوئے تو ‘مزاحمتی فورس’ اگلے چند گھنٹوں میں ‘پیشگی کارروائی’ کر سکتی ہے۔ مزاحمتی محاذ خطے میں فورسز کا ایک اتحاد ہے جس میں حزب اللہ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کے جنوب میں اسرائیلی حملوں میں کم سے کم 49 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔امریکی صدر جو بائیڈن بدھ کو اسرائیل کا دورہ کریں گے تاکہ حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کی حکمت عملی سے انھیں آگاہ کیا جا سکے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ میں یرغمال بنائے جانے والے افراد سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، انتظامیہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یرغمالیوں کی تعداد 155 سے بڑھ کر 199 ہو گئی ہے۔

غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2700 سے بڑھ گئی ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے حملوں میں اس کے 1400 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے۔حماس کے عسکری ونگ نے کہا ہے کہ اس نے ’شہریوں پر حملوں‘ کے جواب میں تل ابیب اور یروشلم پر راکٹ داغے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ پر بمباری کے بعد وہاں قریب 10 لاکھ فلسطینیوں نے نقل مکانی کی جنھیں ’فوری مدد کی ضرورت ہے۔مصر سے غزہ جانے والی رفح کراسنگ کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے تاہم اس سے ہونے والا جانی نقصان واضح نہیں ہے۔

برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کا کہنا ہے کہ حماس کے ابتدائی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں کم از کم چھ برطانوی افراد شامل ہیں جبکہ 10 لاپتہ ہیں.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading