جلیانوالہ دردناک قتل عام کی سویں برسی پر برطانیہ کی وزیراعظم تھریسامے یہ کہتی ہوئی نظر آئی کہ جلیان والا قتل عام برطانوی ہند کی تاریخ پر ایک شرمناک، و بدنما داغ ہے البتہ وہ متعدد ارکان پارلیمنٹ کی مانگ پورا کرنے سے رہ گئیں برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا تھا کہ وزیراعظم اعظم برطانیہ پوری قوم کی طرف سے جلیان والا باغ قتل عام پر معافی مانگے۔۔!
اسی طرح گزشتہ سال لندن کے مسلمان میئر صادق نے اپنے دورہ ایشیا کے موقع پر برطانوی حکومت سے مانگ کی تھی اب برطانیہ کو اس دردناک سانحہ پر معافی مانگ لینی چاہیے،
معلوم ہونا چاہیے کہ یہ قتل عام ہندوستان کے پنجاب کے امرتسر میں گولڈن ہیکل کے قریب جلیانوالہ باغ میں 13اپریل 1919(بیساکھی کے دن) ہوا تھا، جس وقت "رولٹ ایکٹ” کے خلاف مزاحمت کرنے کے لئے ایک پروگرام ہو رہا تھا، عین اسی دن جنرل ڈائر آفیسر نے اس سبھا میں موجود بھیڑ پر اندھا دھند گولیاں چلوا دی تھی، اس احتجاجی مظاہرہ میں موجود ہزاروں نہتے ہندوستانیوں بشمول ہندو مسلمان سکھ کو موت کی نیند سلا دیا گیا تھا، اس خونریز واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، قارئین کو بتا دیں کہ رولٹ ایکٹ مارچ 1919 میں ہندوستان کی برطانوی حکومت کی طرف سے ہندوستان میں ابھر رہی قومی تحریک کو کچلنے کے مقصد سے بنا ہوا قانون تھا؛ جس کی نندا کرنے کے لیے جلیانوالہ باغ میں احتجاجی دھرنے دئیے گئے تھے لیکن ظالم انگریز فوج نے اس واقعہ پر ندامت کے بجائے خوشیاں مناتے دکھائی دئیے تھے۔۔! قاتل جنرل ڈائر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس مزید گولیاں نہیں تھیں اور نہ مشین گنیں پہنچ پائی ورنہ ہم مزید فائر کرتے۔۔! یاد رہے کہ اس ظالم و سفاک کو برطانوی حکومت نے "بھارت کو بچانے والا مسیحا” کے خطاب نوازا تھا۔
آج پھر ہندوستان میں جنرل ڈائر کا پنر جنم (دوسرا جنم) ہو چکا ہے، گلی شہروں میں کالے جنرل ڈائر کا ٹولہ تلوار لیےگھوم رہا ہے، اور اپنے سیاسی آقاؤں کے حکم کا انتظار کررہا ہےکہ کب کس جگہ گائے کے نام تو کبھی ذات اور دھرم کے نام پر معصوم اور نہتے لوگوں کا خون بہائے….! یہ بھی جلیانوالہ باغ ہے کا ہی رول اور کردار ہے جو آج کل ہمارا شہر اور ہمارا ملک فتنے کی آگ میں جل رہا ہے، آج بھی ہمارے ملک میں مجرمین کے بجائے معصومین پر لاٹھی چارج ہوتے ہیں، بے گناہوں پر ہی گولیاں چلائی جاتی ہیں، ثبوت و شواہد مٹانے کے لیے آج بھی سپاریاں دی جاتی ہیں، جھوٹے اکاؤنٹر میں غنڈے اور مجرمین بجائے معصوم و بےگناہ ہی مارے جاتے ہیں۔۔! کیا اسے جلیانوالہ نہیں کہیں گے۔۔؟ یہاں بھی تو معصوم کا خون بہایا جاتا ہے ، لوگوں کو انصاف دینے کے بجائے ان سے ان حقوق چھینا جا رہا ہے۔۔! کتنی خطرناک صورتحال ہے کہ جلیانوالہ باغ سانحہ کے سو سال پورے ہونے کے بعد بھی غنڈوں اور پولس کی لاٹھی، ڈنڈوں اور گولیوں سے آج بھی عام شہری اور کمزور طبقے کے لوگ مارے جا رہے ہیں، دن دہاڑے انکی لنچنگ کی جاتی ہے! آج بھی انگریزوں کی روش پر چل کر مسلمانوں زبردستی خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔۔! لیکن اس نئے دور کے ان جنرل ڈائروں کا کچھ بھی تو نہیں بگڑتا بلکہ الٹا جو انصاف مانگے انہی کا بہت کچھ بگاڑ دیا جاتا ہے، جلیانوالہ باغ میں جنرل ڈائر کی طرح آج بھی ملک میں بے قابو غنڈہ راج، بےقابو پولس راج ہے اور اقتدار کی کرسی پر متمکن رہنے کے لیے بے شرمی اورڈھٹائی کے سارے حدود توڑے جا رہے ہیں، آزادی کے بعد بھی ہم مسلسل جلیانوالہ باغ کا سیاہ منظر دیکھنے پر مجبور ہیں۔۔! ہاشم پورہ دردناک قتل عام کے سامنے تو جلیانوالہ باغ بالکل پھیکا پڑ جاتا ہے، جہاں سینکڑوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔۔! جسکی کہانی سنتے اور لکھتے وقت آج بھی کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے، اس سے بڑا بھی کوئی جلیانوالا باغ ہوگا۔۔۔!! کہ جہاں سینکڑوں لاشیں تو ملیں لیکن آج تک ان کے قاتلین نہیں ملے۔۔! اس کے بعد گجرات فسادات میں بھی جنرل ڈائر کی نسل نے قتل و خون کی ہولیاں کھیلی بلکہ جنرل ڈائر کی کمینگی و سفاکیت کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔۔! جہاں بچوں کو ماں کی کوکھ سےنکال کر ایسے جلیانوالہ باغ میں ڈھکیل دیا گیا جہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ اور دروازہ نہیں تھا۔۔!
خیر آج پھر ہمارے ملک میں جنرل ڈائر کے طریقے کو اپنایا جا رہا ہے، قاتلوں کو بچایا جا رہا ہے مجرمین کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، عام شہری خوف و دہشت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، پولیس اور فوج کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے، اعلی تحقیقاتی ایجنسیز کو سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعہ بیجا استعمال کیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ سب جنرل ڈائر والا ہی کام ہے بس فرق اتنا ہے کہ وہ جنرل ڈائر گوری چمڑی کا تھا اور موجودہ جنرل ڈائر کالی چمڑی کے ہیں، جس طرح اس جنرل ڈائر کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور آزادی کے متوالوں نے قاتل انگریز کے چنگل سے ملک کو آزاد کروایا ٹھیک اسی طرح آج ان کالے جنرل ڈائروں کے پنجہ استبداد سے بھی ملک کو آزاد کرنا ہمارا فریضہ ہے اور ملک عزیز میں امن و شانتی کا پیغام عام کرنا ہم سب پر لازم ہے۔

مفتی غلام رسول قاسمی
8977684860
gulamrasool939@gmail.com