تھانے کے صحافی راجیش شیٹکر نے 3 سالہ بچے کی جان بچاکر بہادری کی مثال قائم کی
تھانے (آفتاب شیخ)
ہیرانندانی اسٹیٹ کلب ہاؤس میں اتوار، 22 ستمبر کی رات 8 بجے کے قریب ایک واقعہ پیش آیا۔ شام 8 بجے کے قریب صحافی راجیش شیٹکر نے ایک تین سالہ بچے کو ڈوبنے سے بچایا۔
کلب ہاؤس کے سوئمنگ پول میں شام 7 بجے کی بیچ میں ہمیشہ کی طرح ممبران کی بھیڑ تھی۔ اس بھیڑ میں صحافی راجیش شیٹکر بھی موجود تھے۔ سوئمنگ پول میں آزادانہ تیراکی کے دوران، تقریباً 8 بجے کے قریب، راجیش شیٹکر نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ پانی میں ڈوب رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوا کہ کسی کی بھی نظر اس بچے پر نہیں تھی۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ بچہ پانی کے نیچے جا رہا ہے تو راجیش شیٹکر فوراً اس بچے کی طرف بڑھے اور اسے پانی سے نکال لیا۔ دونوں ہاتھوں سے بچے کو اٹھا کر زور سے پکارا کہ یہ بچہ کس کا ہے؟ اس وقت سب کی نظریں راجیش شیٹکر کی طرف گئیں، اور موبائل میں مصروف اس بچے کے والدین کو معلوم ہی نہ ہوا کہ ان کا بچہ کب پانی میں گر گیا۔ جب انہوں نے اپنے بچے کو پانی میں گرتے ہوئے دیکھا تو فوراً راجیش شیٹکر کے پاس پہنچے۔ اور وہیں بچے کی والدہ بھی تیراکی کی مشق کر رہی تھیں، وہ بھی فوراً پاس آئیں۔ اپنے بچے کو پانی میں دیکھ کر دونوں حیرت میں پڑگئے۔ انہیں احساس ہوا کہ ان کے بچے کی جان راجیش شیٹکر نے بچائی ہے، اور دونوں نے راجیش شیٹکر کا شکریہ ادا کیا۔ اس واقعے میں بچے کے والد کی لاپرواہی واضح تھی، لیکن کلب ہاؤس کی سیکورٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
