تھانے میں غیر قانونی ہورڈنگز پر ہائی کورٹ کی سخت برہمی کارپور یشن کو فوری کارروائی اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم

تھانے میں غیر قانونی ہورڈنگز پر ہائی کورٹ کی سخت برہمیکارپوریشن کو فوری کارروائی اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم

تھانے (آفتاب شیخ)
ہائی کورٹ نے تھانے میونسپل کارپوریشن کو غیر قانونی طور پر نصب کی گئی 49 بڑی ہورڈنگوں پر محض کاغذی کارروائی دکھانے پر سخت سرزنش کی ہے۔ عدالت نے کارپوریشن انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ حلف نامہ پیش کرے اور ٹھوس اقدامات کرے۔
گھاٹکوپر میں پیش آنے والے ہورڈنگ حادثے کے بعد تھانے میونسپل کارپوریشن نے غیر قانونی ہورڈنگوں کے خلاف مہم شروع کی تھی۔ تاہم، اس مہم کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سندیپ پاچانگے نے معلومات کے ذریعے پتہ لگایا کہ کارپوریشن نے صرف سطحی اقدامات کیے ہیں۔
سندیپ پاچانگے نے کارپوریشن کمشنر کو کئی بار غیر قانونی ہورڈنگ کاروبار سے متعلق یادداشت پیش کی تھی۔ جب کوئی اثر نہیں ہوا تو وکیل ساگر جوشی کے ذریعے عوامی مفاد کی عرضی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔
موصول ہوئی اطلاعات کے مطابق جمعہ کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے کارپوریشن کے وکیل مندار لمیے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے کہا کہ یا تو کارپوریشن نااہل ہے یا غیر قانونی ہورڈنگ کاروبار میں خود شریک ہے۔ کارپوریشن نے 49 اشتہاری کمپنیوں پر 11 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا اور 7 دن کے اندر وصولی کا وقت دیا تھا، لیکن سیاسی دباؤ کے سبب کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
ہائی کورٹ نے کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ پورے شہر میں غیر قانونی ہورڈنگز پر کی جانے والی کارروائی کے بارے میں حلف نامہ پیش کرے اور آئندہ سماعت تک رپورٹ جمع کرائے۔
شہر کے مختلف مقامات پر نصب بڑی ہورڈنگز نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اس کارروائی سے نہ صرف غیر قانونی ہورڈنگوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ شہر کی خوبصورتی اور شہریوں کی حفاظت بھی یقینی ہوگی۔
سندیپ پاچانگے نے مطالبہ کیا کہ ہورڈنگوں کے کنٹرول کے لیے جامع پالیسی بنائی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading