تھانے: اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ضلع کلکٹر و انتخابی افسر ا شوک شنگارے کی پریس کانفرنس،  ضابطہ اخلاق کے تحت انتخابی عمل کی سخ ت نگرانی، 71 لاکھ سے زائد ووٹرز کے لیے 6,894 پولنگ مراکز قائم

تھانے: اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ضلع کلکٹر و انتخابی افسر اشوک شنگارے کی پریس کانفرنس،
ضابطہ اخلاق کے تحت انتخابی عمل کی سخت نگرانی، 71 لاکھ سے زائد ووٹرز کے لیے 6,894 پولنگ مراکز قائم
تھانے (آفتاب شیخ)
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات 2024 کا اعلان 15 اکتوبر کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ضابطہ اخلاق نافذ ہو چکا ہے، جو انتخابات کے مکمل ہونے تک نافذ رہے گا۔ یہ انتخابات ایک ہی مرحلے میں ہوں گے، اور 20 نومبر 2024 کو ریاست بھر میں ووٹنگ کی جائے گی جبکہ ووٹوں کی گنتی 23 نومبر 2024 کو ہوگی۔
ضلع تھانے میں انتخابی تیاریوں کا جائزہ: ضلع تھانے کے کلکٹر اور انتخابی افسر اشوک شنگارے نے آج کلکٹر آفس میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں انہوں نے میڈیا نمائندوں کو ضلع میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں انتخابی عمل کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

انتخابی شیڈول: انتخابی عمل کا شیڈول درج ذیل ہے:

نامزدگی داخل کرنے کا آغاز: 22 اکتوبر 2024
نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ: 29 اکتوبر 2024
نامزدگی کی جانچ پڑتال: 30 اکتوبر 2024
نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ: 4 نومبر 2024
ووٹنگ کا دن: 20 نومبر 2024
ووٹوں کی گنتی: 23 نومبر 2024
ضلع تھانے میں اسمبلی حلقے: ضلع تھانے میں مجموعی طور پر 18 اسمبلی حلقے ہیں، جن میں بھیونڈی دیہی، شاہاپور، بھیونڈی مغرب، بھیونڈی مشرق، کلیان مغرب، مرباڈ، امبرناتھ، الہاس نگر، کلیان مشرق، ڈومبیولی، کلیان دیہی، میرا بھائندر، اوولا ماجی واڈا، کوپری پانچ پاکھاڑی، تھانے، ممبرا کلوا، ایرولی اور بیلاپور شامل ہیں۔ ان حلقوں میں ووٹنگ کے لیے کل 6,894 مراکز قائم کیے جائیں گے۔
انتخابی عملہ اور سہولیات: اشوک شنگارے نے بتایا کہ انتخابی عمل کے لیے ضلع میں 35,000 افراد کا عملہ تعینات کیا جائے گا، جو ووٹنگ کے دوران سہولیات فراہم کرے گا۔ ان مراکز پر ووٹرز کی سہولت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ ووٹنگ کا عمل شفاف اور منظم طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔
ضلع میں ووٹرز کی تفصیلات: ضلع تھانے میں 15 اکتوبر 2024 تک کل 71 لاکھ 55 ہزار 728 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں 38 لاکھ 13 ہزار 264 مرد، 33 لاکھ 41 ہزار 70 خواتین اور 1,394 تیسری جنس کے ووٹرز شامل ہیں۔ مزید برآں، 1,599 فوجی ووٹرز، 977 این آر آئی ووٹرز، 37 ہزار 854 معذور افراد اور 85 سال سے زائد عمر کے 57 ہزار 209 ووٹرز بھی شامل ہیں۔
ضابطہ اخلاق کی اہمیت: ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد سے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر کردہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اشوک شنگارے نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کے تحت امیدواروں کو اپنے انتخابی اخراجات کی نگرانی کرنا ہوگی، اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی پر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام امیدوار ضابطہ اخلاق پر عمل کریں اور ووٹرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔
انتخابی عمل کے لیے خصوصی اقدامات: انتخابی عمل کے دوران ووٹرز کی سہولت کے لیے مختلف موبائل ایپلیکیشنز بھی متعارف کروائی گئی ہیں، جن میں Cvigil ایپ شامل ہے، جس کے ذریعے ووٹرز کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ووٹرز کو اپنے متعلقہ ووٹنگ مراکز اور امیدواروں کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
شفاف انتخابات کے لیے نگرانی: الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ نے انتخابات کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے سخت نگرانی کے اقدامات کیے ہیں۔ ہر ووٹنگ مرکز پر عملے کی موجودگی کے ساتھ ساتھ ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کی جانچ بھی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ووٹنگ کا عمل بے خوف اور منظم طریقے سے انجام پائے۔
انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرنے اور ووٹنگ کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ضلع تھانے کے کلکٹر اشوک شنگارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading