ذوالقرنین احمد
اناؤ ضلع سوک کھیڑا موراوا کی رہنے والی گولڈی یادو کو صبح موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اس لڑکی نے یو پی پولس کا امتحان پاس کرلیا تھا کیا یوگی راج راون راج بن گیا ہے ایک کے بعد ایک لاش پر لاش معصوم بچیوں کی عصمت دری، ایماندار پولیس افسروں کی باقاعدہ سازش کی تحت انکاؤنٹر، انصاف پسند افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کرلینا کیا یہی وکاس ہے ایک انسان کی جان سے زیادہ گائے کے تحفظ کی فکر اقتدار کی بھوک اور کتنے معصوموں کو اپنا نوالہ بنائی گی سیاست کے نشے میں چور یہ حیوان نما سیاستدان غریب عوام کو کب تک استعمال کرتی رہی گی ابھی سنجلی کی آہے بھی خاموش نہیں ہو پائی تھی ابھی آصفہ کو بھی انصاف ملنا باقی تھا ابھی اناؤ کی لڑکی پر ہوئیے ظلم اور اسکی عزت کو تار تار کرنے والے بی جے پی کے لیڈر کو سزا نہیں مل پائی تھی کے ایک اور معصوم کی جان لے لی گئی کیا یہ ہندوستان ہے یا ریپستان پاکستان کی زینب کو تو انصاف مل گیا اسکے قاتل کو تو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا لیکن ہندوستان جو جمہوریت کے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے ادب و تہذیب کا گہوارہ کہلاتا ہے آج وہاں کی بیٹیوں کو سرے عام قتل کردیا جاتی ہے انکی عزتیں لوٹی جاتی ہیں، پر کئی کوئی قیامت نہیں اترتی حکومت بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ کے نعرے بازی کرتی ہیں ،اور اسی سیاسی جماعت کے لیڈران معصوم لڑکیوں کی عزتوں سے کھلتے ہیں اور انصاف کی بھیک مانگنے والے باپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، کاش ایسا قانون اس وقت نافذ کردیا جاتا کے سرے عام زانی کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا جب دامنی کی چلتی ٹرین میں اجتماعی عصمت دری کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا، تو یہ ظالم انسان نما درندوں کی یہ ہمت نہ ہوتے کے وہ کسی معصوم بنت حوا کی عصمت کو نقصان پہنچانے کا کبھی نہیں سوچتے، آج ضرورت ہے اس ملک کے باشعور افراد ان ظالموں کے خلاف آواز بلند کرے اور حکومت اورعدلیہ سے زانیوں کے خلاف پھانسی و قتل جیسے قانون بنانے کیلئے مطالبہ کریں حکومت پر دباؤ بنائے ورنہ یہ درندے انسانیت کیلئے بہت ہی خطرناک ثابت ہوگے جس کا مداوا کرنا مشکل ہوگا، جب تک عام عوام اس کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے سکتا، جھوٹی مکار حکومت نے بیٹیوں کو پڑھانے کا نعرہ تو دیا لیکن انہیں گھر سے باہر نکلنے پر ڈر و خوف کا ماحول پیدا کردیا، انہیں تحفظ فراہم کرنےمیں ناکام رہی سرپرستوں کو ضرورت ہے کہ وہ اپنے گھر و اطراف کے ماحول پر نظر رکھیں کسی بھی اجنبی شخص پر بھروسہ نہ کریں ٹیوشن اسکول کیلئے اپنی بچیوں کو خود چھوڑ کر آئے اور لینے جائے حالت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے الرٹ رہے ۔