بھیونڈی میں پر امن ماحول میں انتخابی عمل اختتام پذیر سبھی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ای وی ایم مشین میں قید

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- آج ریاست بھر میں ہوئے اسمبلی انتخابات کو لے کر بھیونڈی شہر میں پر امن طریقے سے انتخابی عمل اختتام پذیر ہوا ۔ اس موقع پر شہر ببر میں کوئی بھی نا خوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔ وہیں تقریبا دو درجن امیدواروں کی قسمت ای وی ایم مشین میں بند جس کا فیصلہ 24 اکتوبر کو ہوگا ۔ بھیونڈی کا موسم گزشتہ دو دنوں سے مسلسل بارش کیوجہ سے کافی ٹھنڈا رہا رک رک ہونے والی بارش سے پورے شہر میں کیچڑ ہوگیا ۔بھیونڈی مشرق میں کل 14 امیدوار میدان میں تھے اس حلقہ میں کل 288 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے جس میں 179 گراونڈ فلور پر تھے جن میں سے 66 پولنگ اسٹیشن منڈپ میں تھے 21 بوتھوں کو حساس قرار دیا گیا تھا جہاں پولیسں انتظامیہ نے خصوصی نگرانی رکھی تھی مشرقی اسمبلی حلقہ میں کل رائے دہندگان کی تعداد دو لاکھ 69 ہزار 923 تھی جس میں ایک لاکھ 63 ہزار 973 مرد تھے اور ایک لاکھ پانچ ہزار 923 عورتیں تھیں اور 27 مخنث تھے ۔

پولنگ اسٹیشن نمبر 174 پر سب سے زیادہ 15 سو ووٹ تھے جبکہ سب سے کم ووٹ بوتھ نمبر 128 پر صرف 188 تھے ۔معذور رائے دہندگان کی کل تعداد 180 تھی جس میں 63 لوگ اندھے تھے 15 گونگے 65 معذور جسمانی جس میں 9 زیادہ معذور
بھیونڈی آور مہاراشٹرا لے دیگر علاقوں سے طلب کیے گئے کل 1661 لوگ الیکشن میں ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے جن کی مانیٹرنگ کے لئے 26 افیسر مقرر کئے گئے ۔ مغربی اسمبلی حلقہ میں بی جے پی کے مہیش چوگلے کانگریس پارٹی کے صدر شعیب گڈو اور مجلس اتحاد المسلمین کے تائید کردہ آزاد امیدوار محمد خالد گڈو کے درمیان راست مقابلہ رہا مشرقی اسمبلی حلقہ میں سہ رخی مقابلہ تھا جہاں شیو سینا کے امیدوار روپیش مہاترے ۔سماجوادی پارٹی کے امیدوار رئیس شیخ ۔اور کانگریس پارٹی کے امیدوار شنتوش شیٹھی کے درمیان کڑا مقابلہ رہا علی الصبح پولنگ شروع ہوگئی تھی ۔

کیونکہ ایک پہلےہی تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے اور 24 گھنٹے پہلےہی ملازمین اپنے لوازمات کے ساتھ کیچڑ میں لت پت اپنے مقررہ مقامات تک پہنچ گئے تھے ۔مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار خالد گڈو جو کہ مجلس کے مضبوط امیدوار بھیونڈی مغرب میں تھے اور پورے حلقے میں کافی ہلچل سی رہی بھیونڈی مشرقی اسمبلی حلقہ میں سماجوادی پارٹی کے امیدوار رئیس شیخ کا کافی جلوہ رہا اور صرف دو ہفتے کے وقفے میں انھوں نے بھیونڈی مشرق میں وہ جگہ بنالی تھی کہ انھیں باہر کا امیدوار کہنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی اور امیدواروں میں جو حوصلہ اور جذبہ رئیس شیخ میں لوگوں نے دیکھا وہ کسی اور امیدوار میں نہیں تھا
آج انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد بھی جہاں اور لوگ تھکاوٹ کی باتیں کرکے آرام کو ترجیح دے رہےہیں وہیں رئیس شیخ بڑی خوش طبعی سے لوگوں کو گلے لگا کر مبارکباد دے رہےہیں اور کافی خوش نظر آرہے ہیں بھیونڈی مشرق و مغرب میں امیدواروں نے رکشہ اور دیگر گاڑیوں کا انتظام رائے دہندگان کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے کے لئے کیا تھا ۔بھیونڈی شہر میں سابقہ روایت کے مطابق اس الیکشن میں بھی شام چار بجے تک پولنگ کافی سست رہی اور اس کے بعد بڑی کوششوں کے بعد لوگ گھروں سے نکلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج رات تقریبا ساڑھے آٹھ بجے تک پولنگ ہوتی رہی اور تادم تحریر بھیونڈی مغرب میں 48 پوائنٹ 50 فیصد پولنگ ہوئی اور مشرق میں 44 پوائنٹ 25 فیصد پولنگ ہوئی ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading