بھیونڈی میں تحفظ ختم نبوت و رد فتنہ شکیلیت کانفرنس کا کامیاب انعقاد

ایمان اور عقیدہ کی حفاظت کے بغیر نجات ممکن نہیں ۔ حضرت مولانا محمد طلحہ قاسمی

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- گزشتہ روز پیر بعد نماز مغرب بمقام کھنڈو پاڑہ بھیونڈی آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت آ پکی خاتمیت اور آپکے بعد اب قیامت تک کوئی نیا نبی اور رسول نہیں آ سکتا۔ اس بنیادی عقیدہ سے عوام الناس کو واقف کرانے کیلئے انجمن احیائے سنت بھیونڈی کی جانب سے ایک عظیم الشان اجلاس عام کا انعقاد کیا گیا تھا۔جسمیں حضرت مولانا متین الحق اسامہ قاسمی صاحب نے عقیدہ تحفظ ختم نبوت اور قرب قیامت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مدینہ منورہ میں امام مہدی کی پیدائش اور مکتہ المکرمہ میں مقام ابراہیم کے سامنے انکا ظہور اور انکے ہاتھ پر اساطین امت کا بیعت کرنا اور انکا تقریبا چھ سالوں تک دجالی فوجوں سے شام کے علاقہ میں مسلسل جنگ کرتے رہنا اور اسی جنگ کے دوران حضرت عیسی علیہ السلام کا دمشق کی جامع مسجد میں دوبارہ آسمان سے نازل ہونا ان تمام باتوں پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اس وقت کے جھوٹے مدعیان نبوت اور شکیل ابن حنیف جیسے جھوٹےمدعیان مہدویت کے مکرو فریب پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے عوام الناس سے یہ سوال کیا کہ جو شخص اپنے آپ کو عیسی ابن مریم باور کرانا چاہتا ہے وہ جب چودھویں صدی میں پیدا ہوا ہے تو وہ عیسی ابن مریم کیسے ہو سکتا ہے جبکہ عیسی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً پونے چھ سو سال پہلے دنیا میں تشریف لا چکے ہیں۔ ان پر انجیل نامی کتاب نازل ہو چکی ہے انکو ماننے والی عیسائی امت دنیا کے اندر پہلے سے موجود ہے مولانا متین الحق اسامہ قاسمی نے انتہائی تعجب کے ساتھ عوام الناس سے سوال کیا کہ اتنا واضح فرق ہونے کے باوجود بھی اگر کوئی شخص شکیل ابن حنیف جیسے دربھنگہ بہار میں پیدا ہونے والے شخص کو عیسی ابن مریم مانے اس سے بڑے افسوس کی اور کیا بات ہو سکتی ہے مالیگاوں سے تشریف لائے ہوئے انجمن احیاء السنہ والجماعہ کے صدرحضرت مولانا اقبال احمد ملی صاحب نے قرب قیامت کے حالات اور ان حالات میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ظہور، عیسی علیہ السلام کے دمشق میں آسمان سے نزول اور دجال کو قتل کرنے سے متعلق قرآن وسنت کے مضبوط حوالوں سے انتہائی پر مغز گفتگو فرمائی ۔

پیر طریقت حضرت مولانا سید محمد طلحہ صاحب قاسمی نے اپنے اختتامی خطاب میں پوری دنیا کے اندر باطل تنظیموں تحریکوں اور انکی سازشوں پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مسلمانوں کیلئے قرآن مقدس اور خاص طور پر سورہ کہف میں دجالی فتنوں سے بچنے اور آج کے مشکل حالات میں ہمارے لئے ہر ہر پہلو سے رہبری و رہنمائی موجود ہے جسمیں خاص طور پر اصحاب کہف کے واقعے کا تذکرہ اپنی مخصوص معنویت میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ عظیم الشان اجلاس حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب فتحپوری (مفتئ اعظم مہاراشٹر)کی زیر صدارت اور حضرت مولانا مفتی محمد حذیفہ صاحب قاسمی (صدر انجمن احیاء سنت مہاراشٹر)کی زیر نظامت انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنے آخری مراحل تک رواں دواں رہا ۔حضرت مولانا مفتی لئیق احمد صاحب قاسمی (ناظم اعلی جامعہ سراج العلوم بھیونڈی)اور حضرت مولانا مفتی محمد یاسین صاحب قاسمی (رکن شوری جامعہ سراج العلوم بھیونڈی)کی سرپرستی میں انتہائی سنجیدگی اور متانت کے ساتھ چلتا رہا جسمیں اہالیان محلہ و نوجوانان کھنڈو پاڑہ انصار محلہ ویتال پاڑہ نے اور خاص طور پر انصاری امام الدین ، ببلو بھائی فیضان آ ئمی اور انجمن احیائے سنت بھیونڈی کے کارکنان نے انتہائی سنجیدگی اور سلیقے کے ساتھ اجلاس کے انتظامات کو انجام دیا مقامی کارپوریٹر انصاری محبوب الرحمن عرف ببلو صاحب بذات خود اجلاس میں شریک رہکر ہر طرح کا تعاون پیش کرتے رہے

اس اجلاس میں مقامی لوگوں کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی علماء ائمہ اور عمائدین ملت کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کرکے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر علماء کرام کے پر مغز بیانات سے استفادہ کیا اور انجمن احیائے سنت بھیونڈی کے توسط سے اپنی اپنی آبادیوں میں اس قسم کا اہم اور با مقصد اجلاس کرنے کی خواہش ظاہر کی اس اجلاس میں عوام الناس کے جم غفیر کے علاوہ علماء ائمہ اور موضوع سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد اسٹیج پر تشریف فرما تھی ان سبھوں نے انجمن احیائے سنت بھیونڈی کے ذمہ داران و کارکنان کو اس اہم موضوع پر اتنا عظیم الشان اجلاس کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکبادی پیش کی یہ اجلاس پیر طریقت حضرت مولانا سید محمد طلحہ صاحب قاسمی کی رقت آمیز دعا پر اختتام پذیر ہوا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading