نئی دہلی:10/اکتوبر(ورق تازہ نیوز) ریاست کی سیاست میں گزشتہ دو دنوں سے چل رہے اس معاملے پر الیکشن کمیشن نے آج ایک اہم فیصلہ سنایا۔ ادھو ٹھاکرے گروپ اور ایکناتھ شندے گروپ دونوں نے الیکشن کمیشن کو نئے ناموں اور نشانوں کے لیے تجاویز پیش کی تھی۔
ان میں ادھو ٹھاکرے کے گروپ کا نام ‘شیو سینا (اودھو بالاصاحب ٹھاکرے) جبکہ ایکناتھ شندے کے گروپ کا نام ‘بالا صاحب کی شیو سینا رکھا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں اس سلسلے میں فیصلہ سنایا ہے۔
![]()
اس کے علاوہ ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کو انتخابی نشان ‘مشعل دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے شنڈے گروپ کے دعویٰ کردہ تینوں پارٹی نشانوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے اب کل دوپہر تک 3 نشانیوں کی تجویز فراہم کرنے کو کہا ہے۔
चुनाव आयोग से पार्टी का नाम,शिवसेना उद्धव बालासाहेब ठाकरे,और चुनाव चिन्ह ,मशाल, मिलने पर ठाकरे गुट के प्रवक्ता @ANANDDUBEYK ने कहा मशाल क्रांति का प्रतीक है।@news24tvchannel#ShivsenaElectionSymbol#shivsenauddhavbalasahebthakre pic.twitter.com/EztLsNCdvW
— Indrajeet Singh (@iamindrajeet74) October 10, 2022
الیکشن کمیشن کے سامنے زیر التوا ایک اہم معاملے پر ہفتہ کو فیصلہ کیا گیا۔ اندھیری ضمنی انتخاب کے لیے قومی الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ نہ تو ادھو ٹھاکرے اور نہ ہی ایکناتھ شندے کا دھڑا شیوسینا کے کمان اور تیر کا نشان استعمال کر سکتا ہے۔ اسے شیوسینا پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کے لیے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا تھا۔ شیوسینا کے کمان اور تیر کے نشان کو مرکزی الیکشن کمیشن نے عارضی طور پر منجمد کر دیا ہے۔

کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ شیو سینا نام کا استعمال فی الحال ادھو ٹھاکرے یا ایکناتھ شندے میں سے کوئی نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد دونوں گروپوں نے 3 نشانات اور 3 نام کے تجاویز الیکشن کمیشن میں جمع کرائے تھے۔ ان میں ادھو ٹھاکرے کے گروپ کو نام اور نشان دونوں کے لیے ہری جھنڈی ملی ہے۔
ٹھاکرے گروپ اندھیری ضمنی انتخاب شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے نام سے اورمشعل کے نشان پر لڑے گا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے شنڈے گروپ کی طرف سے دیے گئے تینوں نشانات کو مسترد کر دیا اور 11 اکتوبر تک 3 نشانوں کا نیا متبادل دینے کو کہا۔ اس لیے شندے گروپ، جسے اب ‘بالا صاحب کی شیو سینا’ کا نام مل گیا ہے، کوئی متبادل نشان دے رہا ہے، اس پر سب کی توجہ ہے۔