کولکاتا: وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے بدھ کے روز درگاپور میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف جلوس کی قیادت کی۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ریاست کے مختلف اضلاع میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف تحریک چلارہی ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بانکوڑہ ضلع انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کی اور افسران کو ترقیاتی اسکیموں کو جلد سے جلد نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس سے قبل بانکوڑہ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ اگر کوئی آپ کے گھرآکر کاغذات دکھانے کیلئے کہے تو انہیں نکال دیں۔
West Bengal CM Mamata Banerjee holds protest march in Durgapur against Citizenship Amendment Act and National Register of Citizens. pic.twitter.com/b9YbflPlPS
— ANI (@ANI) February 12, 2020
دہلی میں بی جے پی کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ تمام تر مشنریوں کا استعمال کرنے کے باوجود بی جے پی دہلی کے عوام کا دل جیتنے میں ناکام رہی ہے۔جب کہ دھن،دولت اور اقتدار کا خوب استعمال کیا گیا ہے۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ بی جے پی کو ریاستوں میں شکست ہوئی ہے۔اس سے قبل مہاراشٹر، جھاڑ کھنڈ میں بھی بی جے پی کو عوام رد کرچکی ہے۔ممتا بنرجی نے پارٹی لیڈروں سے اپیل کی لوگوں کیلئے کام کریں۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی کی پالیسیاں عوام مخالف ہیں اس کی وجہ سے ملک کی معیشت بحران کی شکار ہے۔کارخانے بند ہورہے ہیں ائیر انڈیا، بی ایس این ایل اور دیگر سرکاری کمپنیوں کو نجی ہاتھوں میں سپرد کیا جارہا ہے۔ریلوے کو بھی پرائیوٹ ہاتھوں میں دیا جارہا ہے۔ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکز پر بنگال حکومت کا ایک لاکھ کروڑ روپے بقایا ہے اور اس بجٹ میں بھی بنگال کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔
ممتا بنرجی نے عوام سے پوچھا کہ لوگوں نے بڑی تعداد میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا مگر اس کے بدلے میں کیا ملا؟ سی اے اے، این آر سی اور این آر پی اس کے بدلے عوام کو دیا جارہا ہے۔یہ سب عوام کے حقوق چھیننے کی کوشش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔عوام سے وو ٹ لے کر کہا جارہا ہے کہ اپنی شہریت ثابت کریں اور اپنے والدین اور دادا اور دادی کی شہریت ثابت کریں۔
دوسری طرف ہم عوام کیلئے کام کرتے ہیں۔زمینی سطح پر عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کام کررہے ہیں۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم نے جو پروگرام ”دیدی کے بولے“ کی شروعات کی ہے اس پر کی جانے والی 70سے 80فیصد شکاتیوں کا ازالہ کیا جارہا ہے۔۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو