مرادآباد ۔ 29 اگست 2019-ریاست اترپردیش کے ضلع بریلی میں ہجومی تشدد کا ایک دردناک واقعہ پیش آیا ہے، ہجوم نے ایک مسلم نوجوان کی پٹائی کر دی جس سے اس کی اسپتال میں موت ہو گئی۔اترپردیش کے ضلع بریلی میں ہجومی تشدد کا شکار شخص کو پولیس نے زخمی نوجوان کو ہسپتال پہنچایا، جہاں آج ان کی علاج کے دوران موت ہوگئی۔
گاوں والوں کا الزام ہے کہ کھونٹے سے بندھی ایک بھینس کو وہ چرا کر لے جا رہے تھے کہ اسی دوران لوگوں کی بھیڑ نے انہیں دیکھ کر حملہ کر دیا اس حملہ میں اس کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے لیکن یہ شخص ان کے ہتھے چڑھ گیا جسے ان لوگوں نے بڑی بے دردی سے اتنا پیٹا کہ وہ ادھمرا ہوگیا ، جس کے بعد اسے اسپتال لے جا یا گیا جہاں اس کی موت واقع ہوگئی ، دراصل یہ واقعہبھوجی پورہ تھانہ علاقہ کا ہے اور یہ مارپیٹ کا یہ واقعہ 16 اگست کا بتایا جا رہا ہے جبکہ مہلوک مزمل بھی تھانہ بھوجی پورہ کے ہی گاؤں روپ پور کا رہنے والا تھا۔
گاؤں کے ہی لوگوں نے اُسے تشویشناک حالت میں بھوجی پورہ سی ایچ سی میں داخل کرایا۔حالت مزید تشویشناک ہونے پر ڈاکٹروں نے اسے ڈسٹرکٹ اسپتال کے لیے ریفر کر دیا۔جب ضلع اسپتال میں حالت مسلسل تشویشناک ہوتی گئی تو اسے 16 اگست کو ایس آر ایم ایس میڈیکل کالج میں داخل کرا دیا گیا۔
یہاں ایس ایس پی کے ہدایت پر تھانہ بھوجی پورہ پولیس اپنے خرچ پر علاج کرا رہی تھی۔ایس آر ایم ایس میں وہ کوما میں چلا گیا تھا، پھر اُس کے بعد ہوش نہیں آیا اور آج اس کی موت ہو گئی۔ہلاک ہوئے شخص مزمل کے بھائی نزاکت علی کی تحریر پر پولیس نے بھینس مالک سمیت چار لوگوں کے خلاف مار پیٹ اور جان سے مارنے کی دفعات میں مقدمہ درج کرایا تھا۔
پولیس نے مزمل کی موت کے بعد مارپیٹ اور جان سے مارنے کے درج مقدمہ میں غیر ارادتاً قتل اور 308 دفعہ کو اضافی دفعات کے طور پر مقدمہ ترمیم کردیا ہے۔
تھانہ بھوجی پورہ تھانہ پولیس نے قتل کے ملزمان بھوپ رام، کملیش کمار، جمنا پرساد اور دھرم پال کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔اس معاملے میں ایس پی (دیہات) سنسار سنگھ کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔ ہم نے بھینس چوری کے معاملے میں بھینس کے مالک کی طرف سے بھینس چوری کا مقدمہ درج کیا تھا اور مزمل کے بھائی کی تحریر پر بھینس مالک کے خلاف ہجومی تشدد کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اب بھینس کا مالک اور اُس کے چار ساتھیوں کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔